مادر وطن کے سیکولر آئین کے تانے بانے کو ادھیڑ بن کرنے کی حماقت کربیٹھنے والے آر ایس ایس کے چٹے بٹّے فاشزم ،تنگ نظر ،انتہا اور رجعیت پسند حکمرانوں کے خلاف ہندوستان کی سڑکوں پہ عوامی سمندر امنڈ آیا ہے ، آزاد ہندوستان میں حکمرانوں کے خلاف غم و غصہ کا یہ انوکھا تجربہ ہے۔
یہاں کوئی جماعت ہے ، نہ کوئی لیڈر ۔ مذہبی تفریق ، سیاسی وفاداریوں ، بینروں اور قیادتوں کے بغیر ہی مرد وعورت ، بوڑھا وجوان ، پڑھا لکھا واَن پڑھ ، مزدور ،محنت کش وکیل ،ڈاکٹراور پروفیسر سڑکوں پہ نکل آئے ہیں اور ملک کے جمہوری تانے بانے کی حفاظت کے لیے مظاہرے کر رہے ہیں ۔
ملک ودستور کے تحفظ کے لئے کی جانے والی اس پاکیزہ جد وجہد اب تک درجنوں جانوں کا خراج وصول کرچکی ، سینکڑوں گرفتاریاں ہوچکیں ، ہزاروں لوگ زخمی ہوچکے ہیں ۔
زعفرانی حکومت کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں کہ بات کریں توکس سے؟
مظاہرین کی حمایت میں یورپی و امریکی ملکوں میں بھی لوگ سڑکوں پہ آچُکے ہیں اور انڈین ہائی کمیشنز کے سامنے مظاہرے شروع ہوچکے ہیں ۔
بھگوائی حکمرانوں کو احساس ہوچلا ہے کہ “بھڑ “ کے چھتے میں ہاتھ ڈال کر اس نے بڑی حماقت کرلی ہے ، انہوں نے آئین ہند کے جس دفعہ کو لقمہ تر سمجھ کر نگلنے کی کوشش کی تھی ، وہ نوالہ تر نہیں ؛ بلکہ “آہنی چنا” ثابت ہوا ہے جو طالع آزمائوں کے دانت توڑ ڈالے گا۔ان شاء اللہ ۔
مودی حکومت کی “انا “ بہت جلد خاک میں ملنے والی ہے ، کبر وغرور اور عددی برتری کے پندار کا غبارہ بس پہٹنے ہی والا ہے ۔ عوامی سمندر حکمرانوں کے سارے عزائم خس وخاشاک کی طرح بہا لے جائے گا ،
مظاہرہ پوری قوت سے جاری رکھیں ، کمر پوری طرح کس لیں ، کہیں سے بھی تعب وتھکن یاس وناامیدی کو قریب پہٹکنے تک نہ دیں :
وہی ہیں مرد جن پر یاس کے سائے نہیں پڑتے
وہ بڑھ کر تند طوفانوں سے ٹکرایا ہی کرتے ہیں
مہ و خورشید کو بھی لگ ہی جاتا ہے گہن اک دن
پھر اس کے بعد پیہم نور برسایا ہی کرتے ہیں
کوششیں جاری رکھیں ! بہار کی نوید آنے کو ہے ، امید کی کونپلیں پھوٹنے کو ہیں ۔ قربانیاں جتنی بڑھیں گی منزل قریب ترین ہوتی جاتی ہے ….
انقلاب کا سورج طلوع ہوکر رہے گا ، جبر واستبداد کی گھٹائیں چھٹ کے رہیں گی ۔آج نہیں تو کل !
شکیل منصور القاسمی