اسمارٹ موبائل اور انٹرنیٹ کا شرعی حکم
قرآنی آیات محفوظ یاحذف کرنا کیسا ہے ؟
موبائل، لیپ ٹاپ ،کمپوٹر
انٹرنیٹ وغیرہ اپنی ذات کے اعتبار سے برے نہیں ۔بری چیزوں میں ان کا استعمال کرنا برا ہے۔ یہ ایک جدید مواصلاتی ذریعہ ہے ۔اسلام ہر جدید وقدیم چیز کو اپنے بتائے ہوئے حدود میں رہ کر اپنی حفاظت و تبلیغ کے لئے اختیار کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔نیٹ اور موبائل کے ذریعہ دنیا کے گوشہ گوشہ میں منٹ وسکنڈ میں اسلام کی دعوت پیش کی جاسکتی ہے
اسلام پہ ہوئے باطل اور گمراہ کن اعتراضات کے جوابات دیئے جاسکتے ہیں۔
اسی موبائل اورنیٹ کی کرم فرمائی ہے کہ ہم وہاٹس ایپ گروپوں کے ذریعہ دعوت اسلامی کی مختلف تحریکیں چلارہے ہیں ۔
اس لئے بلاشبہ ان نیک اور پاکیزہ مقاصد کے خاطر نیٹ کا استعمال بھی جائز ہے اور اس کی تجارت وغیرہ بھی جائز ہوگی۔
شریعت اسلامیہ میں مقصد کے پیش نظر حکم مرتب ہوتا ہے
جہاں نیٹ سے فحاشی اور اسلام مخالف مواد کی اشاعت کا مظنہ ہو وہاں اس کا استعمال اور مختلف شکلوں میں اس کی تجارت بھی جائز نہ ہوگی۔
في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : {واَعدّوا لہم ما استطعتم من قوۃ} ۔ (سورۃ الأنفال :۶۰)
وفي ’’ القرآن الکریم ‘‘ : {خلق لکم ما في الأرض جمیعًا} ۔ (سورۃ البقرۃ :۲۹)
وفي ’’ أحکام القرآن للجصاص ‘‘ : عن أبي علي ثمامۃ بن شفي الہمداني أنہ سمع عقبۃ بن عامر الجہني یقول : سمعت رسول اللّٰہ ﷺ وہو علی المنبر یقول : ’’ {واعدّوا لہم ما استطعتم من قوۃ} ۔ ألا ! إن القوۃ الرمي ، ألا ! إن القوۃ الرمي ، ألا ! إن القوۃ الرمي ‘‘ ۔ (۳/۸۸)
وفي ’’ الإنترنیت ومقاصد الشریعۃ ‘‘ : أصبح من المعلوم والواقع استخدام شبکۃ الإنترنیت في تحقیق الدعوۃ إلی اللّٰہ تعالیٰ ، والتعریف بالإسلام وبرسالتہ وأہدافہ وتعالیمہ وحقائقہ ، والتواصل مع عامۃ الناس وجماہیر المسلمین وسائر المؤسسات والجہات العلمیۃ والفکریۃ والسیاسیۃ والمذہبیۃ ، بغیۃ التحاور والتباحث فیما یتعلق بحقائق الدین الإسلامي ومسائل الأحکام الشرعیۃ ونوازل العصر وحلولہ وفتاواہ وغیر ذلک ۔
(ص/۵۸ ، المحاسن الدعویۃ والإفتائیۃ)
وفي ’’ الأشباہ والنظائر ‘‘ : ’’ الأمور بمقاصدھا ‘‘ ۔ (۱/ ۱۱۳)
وفی ’’ المقاصد الشرعیۃ ‘‘ : وبقاعدۃ فقہیۃ سدا للذرائع : ’’ إن الوسیلۃ أو الذریعۃ تکون محرمۃ إذا کان المقصد محرما، وتکون واجبۃ إذا کان المقصد واجبا ‘‘ ۔ (ص۴۶)
وفی ’’ اعلام الموقعین ‘‘ : ’’ وسیلۃ المقصود تابعۃ للمقصود وکلاہما مقصود ‘‘ ۔ (157/3)
موبائل اور کمپیوٹر وغیرہ میں قرآنی آیات، احادیث طیبہ اور دعاء مسنونہ محفوظ کرنا اور بوقت ضرورت دیکھ کے پڑھنا جائز ہے ۔لیکن اصل مکتوب قرآن پڑھنے جیسا نہ ہوگا
موبائل اسکرین پہ کلمات وآیات قرآنیہ ظاہر و واضح ہونے کی صورت میں اسے بلا وضو چھونا اور ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے۔یوں بغیر ہاتھ لگائے تلاوت کی گنجائش ہے بشرطیکہ جنبی نہ ہو۔
موبائل اسکرین کے شیشے غلاف متصل کے درجہ میں ہیں ،غلاف منفصل کے درجے میں نہیں ؛ لہذا بلا وضو مس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
في ’’ جامع الترمذي ‘‘ : عن علي قال : ’’ کان رسول اللّٰہ ﷺ یقرئنا القرآن علی کل حال ما لم یکن جنبًا ‘‘ ۔ قال أبو عیسی : ہذا حدیث حسن صحیح ۔ (۱/۳۸ ، أبواب الطہارۃ)
وفي ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : لا یجوز مسّ شيء مکتوب فیہ شيء من القرآن من لوح أو دراہم أو غیر ذلک إذا کان آیۃ تامۃ ۔ ہکذا في الجوہرۃ النیرۃ ۔ والصحیح منع مس حواشي المصحف والبیاض الذي لا کتابۃ علیہ ۔ ہکذا في التبیین ۔ (۱/۳۹ ، بدائع الصنائع:۱/۱۴۱، کتاب الطہارۃ ، مطلب في مس القرآن ، مراقي الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوي :ص/۳۴ ، کتاب الطہارۃ ، الدر المختار مع الشامیۃ :۱/۲۸۲ ، کتاب الطہارۃ)
وفي ’’ التنویر وشرحہ مع الشامیۃ ‘‘ : ویحرم بہ أي بالأکبر والأصغر مس مصحف : أي ما فیہ آیۃ کدرہم وجدار إلا بغلاف متجاف غیر مشرز أو بصُرۃ ۔ بہ یفتی ۔ وحل قلبہ بعود ۔ (تنویر مع الدر) ۔ وفي الشامیۃ : قولہ : (أي ما فیہ آیۃ الخ) أي المراد مطلق ما کتب فیہ قرآن مجازًا ، لکن لا یحرم في غیر المصحف إلا بالمکتوب ۔ (۱/۳۱۵ ، کتاب الطہارۃ ، مطلب یطلق الدعاء علی ما یشمل الثناء)
في ’’ بدائع الصنائع ‘‘ : قال ﷺ : ’’ لا صلاۃ إلا بوضوء ‘‘ ۔ ولا مسّ المصحف من غیر غلاف عندنا ۔۔۔۔۔ ولا مس الدراہم التي علیہا القرآن ، لأنہ حرمۃ المصحف کحرمۃ ما کتب منہ فیستوی فیہ الکتابۃ في المصحف وعلی الدراہم ۔ (۱/۱۴۰، ۱۴۱، کتاب الطہارۃ ، مطلب مسّ المصحف، الفتاوی الہندیۃ :۱/۳۹ ، مراقي الفلاح :ص/۳۴ ، کتاب الطہارۃ)
وفي ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : المحدث إذا کان یقرأ القرآن بتقلیب الأوراق بقلم أو سکین لا بأس بہ ۔ کذا في الغرائب ۔ (۵/۳۱۷ ، کتاب الکراہیۃ ، الباب الرابع في الصلاۃ والتسبیح وقراء ۃ القرآن الخ) (فتاویٰ بنوریہ، رقم الفتویٰ: ۱۴۸۴۹)
وفي ’’ حلبي کبیر ‘‘ : (لا تکرہ قراء ۃ القرآن للـمـحدث ظاہــرًا) أي علی ظہر لسانــہ حفظًا بالإجماع ۔ (ص/۶۰)
وفي ’’ مراقي الفلاح مع الطحطاوي ‘‘ : ویحرم مسہا أي الآیۃ لقولہ تعالی : {لا یمسہ إلا المطہرون} سواء کتب علی قرطاس أو درہم أو حائط ۔ (ص/۳۴ ، کتاب الطہارۃ)
(۱۴) وفي ’’ الدر المختار مع الشامیۃ ‘‘ : وقراء ۃ قرآن بقصدہ ومسّہ ولو مکتوباً بالفارسیۃ في الأصح إلا بغلافہ المنفصل۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیۃ : قولہ : إلا بغلافہ المنفصل أي کالجراب والخریطۃ دون المتصل کالجلد المشرز ھو الصحیح وعلیہ الفتوی ؛ لأن الجلد تبع لہ ۔
(۱/۴۲۳ ،کتاب الطہارۃ، باب الحیض ، مطلب لو أفتی مفت بشيء من ھذہ الأقوال۔۔۔ الخ ، الفتاوی الہندیۃ :۱/۳۸ ،۳۹ ، الفصل الرابع في أحکام الحیض والنفاس والاستحاضۃ)
وفي ’’ الفقہ الإسلامي وأدلتہ ‘‘ : ویجوز للمحدث أن یمس غلاف المصحف إذا کان متجافیاً عنہ بأن یکون شيء ثالث بین الماس والممسوس کمندیل ونحوہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وأما مس الغلا ف المتصل بالمصحف غیر المتجافي عنہ فلا یحل شيء لأنہ تبع للمصحف ۔ (۱/۹۸)
جب میموری بھر جائے یا کسی وجہ سے محفوظ آیات و احادیث کی ضرورت باقی نہ رہے اور حذف کردینا چاہے تو اس کی بھی اجازت ہے۔ حذف کرنے میں کوئی بھی بے ادبی یا تنقیص وتوہین کا شائبہ نہیں ہے۔اسکرین پہ جو کچھ ظاہر ہورہا ہے وہ آئینہ کے مانند عکسِ محض ہے ، عکس کا مٹانا اصل کے مٹانے کے حکم میں نہیں ہے :
في ’’ رد المحتار ‘‘ : ولو کان فیہ اسم اللہ تعالی أو اسم النبي ﷺ یجوز محوہ لیلفّ فیہ شيء ۔ (۹/۵۵۵، کتاب الحظر والإباحۃ ، فصل في البیع)
وفي ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : ولو کان فیہ اسم اللہ تعالی أو اسم النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یجوز محوہ لیلفّ فیہ شيء ۔ کذا في القنیۃ ۔ ولو محا کتب فیہ القرآن واستعملہ في أمر الدنیا یجوز ۔ (۵/۳۲۲ ، کتاب الکراہیۃ ، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلۃ والمصحف وما کتب فیہ شيء من القرآن الخ)
في ’’ الفتاوی التاتارخانیۃ ‘‘ : وفي مسائل الملتقط : ورسائل تستغنی عنہا وفیہا اسم اللہ تعالی یمحی ثم یلقی في الماء الکثیر ۔ (۱۸/۶۹، کتاب الکراہیۃ ، الفصل الخامس في المسجد والقبلۃ والمصحف وما کتب فیہ شيء من القرآن)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۵۵۰۵۹)
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی