انسانی استعداد کا احترام: سنتِ فطرت

اللہ تعالیٰ کی اس وسیع و عریض ومنظم ترین کائنات میں سارے انسان ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے نہیں پیدا کیے گئے؛ بلکہ یہاں مزاجوں کا تنوع وتکثر ہے، صلاحیتوں کی رنگا رنگی ہے، اور استعدادوں کی حیرت انگیز تقسیم ہے، کوئی فکر و نظر کا خوگر ہے، کوئی عمل و اقدام میں ممتاز، کوئی تدبیر و سیاست میں کمال رکھتا ہے اور کوئی دعوت و تعلیم میں یکتاے روزگار ہوتا ہے، یہی تنوع دراصل نظام حیات کا حسن اور معاشرتی توازن کی بنیاد ہے۔ اگر اس فطری تقسیم کو نظر انداز کر کے سب کو ایک ہی دائرے میں محصور کر دیا جائے اور سب کو ایک ہی شاہ راہ پہ ہانک دیا جاے تو نہ افراد نکھر سکتے ہیں اور نہ معاشرے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔
کسی شخص کو اس کے فطری رجحان، ذاتی دل چسپی و استعداد اور میدان عمل سے ہٹا کر کسی ایسے رخ پر جھونک دینا جو اس کے مزاج اور طبعی صلاحیتوں سے ہم آہنگ نہ ہو، درحقیقت اس کے جوہر قابلیت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔ اس کارگہِ حیات میں نہ ہر انسان ہر فن کا ماہر ہو سکتا ہے اور نہ ہر ذمہ داری کا اہل؛ کیونکہ کائنات کا نظام عموم و خصوص، اختصاص اور تقسیم کار پر قائم ہے۔ حکماء واہل دانش کی تعبیر میں اسے “ہرکارے ہر مردے” یعنی ہر کام کے لیے مخصوص افراد ہوتے ہیں، کہاجاتا ہے ۔
قرآن حکیم نے اس حقیقت کو نہایت بلیغ اور جامع اسلوب میں یوں بیان فرمایا ہے:
﴿كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِ﴾
یعنی ہر انسان اپنی فطری ساخت، ذاتی مزاج اور داخلی میلانات کے مطابق ہی عمل کرتا ہے۔اس آیتِ کریمہ سے یہ اصول مترشح ہوتا ہے کہ افراد ہوں یا ادارے، جماعتیں ہوں یا تنظیمیں،جب تک ان کی طبعی استعداد، ذوق عمل اور عملی اہلیت کو پیش نظر رکھ کر ان سے کام نہ لیا جائے، بہتر نتائج کی توقع محض خوش فہمی ہی رہے گی۔
اسی ربانی حکمت کی عملی تفسیر ہمیں معلمِ انسانیت، رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ میں جا بجا نظر آتی ہے۔ آپ ﷺ نے انسانی صلاحیتوں کو مسخ نہیں کیا ؛ بلکہ نکھارا، افراد کو ان کی فطری و طبعی استعداد کے خلاف نہیں لگایا ؛ بلکہ ان کے ذاتی میلان کے مطابق میدانِ عمل عطا فرمایا۔ نہ سب کو منبر و محراب تک محدود کیا، نہ سب کو میدان جہاد کی امارت و قیادت سونپی، اور نہ ہی ہر شخص کو انتظام و سیاست، امارت و خلافت کا بار اٹھانے کا مکلف بنایا۔
چنانچہ کوئی صحابی، روایت و درایت کے میدان میں نمایاں ہوئے، کوئی دعوت و تبلیغ کے عَلَم بردار بنے، اور کوئی نظم و نسق، تدبیر و قیادت اور کار جہاں بانی میں اپنی مثال آپ ٹھہرے۔حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی تلوار، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی حکمرانی، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی امانت، اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی سیاسی بصیرت! یہ سب اسی حکیمانہ تقسیمِ عمل کے درخشاں شاہکار نمونے ہیں۔
لہٰذا اس ربانی تقسیم کو سمجھئے! اپنے جوہر ، اختصاص اور ذاتی میلان کو پہچانیے، اور اسی کے مطابق اپنی جدوجہد جاری رکھیے۔ “طلب الکل” نہ یہاں عام افراد کے لیے ممکن ہے اور نہ سہل الحصول؛ بلکہ اس کے شوق میں بسا اوقات حاصل شدہ چیزیں بھی ہاتھ سے نکل جاتی( فوت الکل ہوجاتی) ہیں۔ افراد و اشخاص کو ان کی اصل صلاحیتوں سے کاٹ کر دیگر امور میں جھونک دینا بیش قیمت صالح ذہانتوں اور انمول افرادی سرمائے کو ضائع کرنے کے مترادف ہے، ترقی کا راستہ جبر مزاج سے نہیں بلکہ شناختِ مزاج سے ہو کر گزرتا ہے، اور اسی پر باکمال افراد، کامیاب قیادت، صالح معاشرہ اور مضبوط نظام کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔
شکیل منصور القاسمی
مرکز البحوث الإسلامية العالمي
(بروز پیر، یکم؍ رجب المرجب 1447ھ 22؍ دسمبر2025ء)

Scroll to Top