انقلابی تحریک کا نقطہ آغاز !

اپنی عددی برتری کے زعم میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں آئین ودستور کی آواز بلکہ گلے دبا کر ظالمانہ و شاطرانہ سیاہ ترین قانون پاس کردینے والے شاطر مزاج وفاشسٹ حکمرانوں کی شہنشاہیتیں پر امن، انقلابی اور نتیجہ خیز احتجاجی جد وجہد کے سامنے زمیں بوس ہوکے رہیں گی ان شاء اللہ !
لگتا ہے کہ حکمراں اشرافیہ کے جبر وظلم اور ان کی چیرہ دستیوں کے خلاف انقلابی تحریک کا نقطہ آغاز یہی شہریت ترمیمی قانون بنے گا ۔
مودی حکومت کیا ؟ حقیقی جمہوریت کے مطالبے کے لئے احتجاجی مظاہروں ودھرنوں نے نہ جانے تاریخ کی کیسی کیسی طاقتور سلطنتوں کو زیر وزبر کردیاہے ۔ “کیا پِدّی کیا پِدّی کا شوربہ؟؟”
اگر مودی حکومت کے جبر واستبداد کے خلاف اٹھنے والے عوامی غم و غصہ کو فرقہ جاتی ومذہبی رنگ دیئے بغیر ، دور اندیشی اور حکمت ودانائی کے ساتھ آئین کی بالا دستی پہ یقین رکھنے والے محب وطن تمام برادران وطن کے اشتراک و تعاون اور انہیں ساتھ ملاکر ہینڈل کیا گیا تو اس عوامی جد وجہد کی لہریں بڑی انقلاب آفریں ہونگی اور ایوانِ اقتدار کو اپنی لپیٹ میں لیکر انہیں زیر وزبر کرکے رکھدیں گی ان شاء اللہ ۔
عدل ومساواۃ، دستوری آزادی، ملک کی جمہوری اقدار و روایات اور قومی یگانگت وہم آہنگی کے بقاء وتحفظ کے لئے جد وجہد کرنے ، وقت کے طاغوت کی فرعونیت کا مقابلہ کرنے ، اس راہ میں عزم وجواں مردی ، ثبات وشجاعت کی تاریخ رقم کرتے ہوئے قربانیاں دینے ، خون و پسینہ اور دل وجان نذر کردینے والے عظیم بھائیوں وبہنوں کی خدا تعالی حفاظت ونصرت فرمائے ۔
شکیل منصور القاسمی

Scroll to Top