انچاس کروڑ ثواب کا مسئلہ از مفتی شکیل القاسمی

“اللہ کی راہ ” کو عربی میں “سبیل اللہ ” کہتے ہیں۔
لفظ ‘فی ‘ کے اضافہ کے ساتھ اس کے معنی ہونگے : اللہ کے راستے میں –
یہ ایک خالص اصطلاحی لفظ ہے۔جو قرآن وحدیث میں مخلتف سیاق وسباق میں استعمال ہوا ہے۔
اشاعت دین اور اعلاء کلمة اللہ کے لئے ہر مخلصانہ جد وجہد اور محنت وسعی اس لفظ کا مصداق ہے۔
یہ لفظ اپنے جلو میں کافی عموم رکھتا ہے ۔دین کا کوئی خاص شعبہ اس لفظ کی مراد نہیں ہے۔ہاں جب یہ لفظ مطلق بولا جائے تو عموما اس سے قتال ہی مراد ہوتا ہے۔
قال العلامۃ ابن عابدینؒ: وقد قال فی البدائع فی سبیل اللّٰہ جمیع القرب فیدخل فیہ کل من سعیٰ فی طاعۃ اللّٰہ تعالیٰ وسبیل الخیرات اذا کان محتاجاً۔ (ردالمحتار:ج؍۳،ص؍۶۷)
وفی الحدیث: وعن انس قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من خرج فی طلب العلم فھو فی سبیل اللّٰہ حتی یرجع۔ رواہ الترمذی والدارمی۔(مشکوٰۃ:ج؍۱،ص؍۳۴ کتاب العلم)
ومثلہٗ فی البحرالرائق:ج؍۲،ص؍۴۲ کتاب السیر۔
فی سبیل اللہ یعنی اللہ کی راہ میں ایک درہم خرچ کرنے یا ایک عبادت کا ثواب سات لاکھ درہم خرچ کرنے یا سات لاکھ عبادت کے مساوی ہے۔ابن ماجہ کی ایک ضعیف روایت سے یہ فضیلت ثابت ہے ۔
2761 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ عَنْ الْخَلِيلِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَعِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ كُلُّهُمْ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَرْسَلَ بِنَفَقَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَقَامَ فِي بَيْتِهِ فَلَهُ بِكُلِّ دِرْهَمٍ سَبْعُ مِائَةِ دِرْهَمٍ وَمَنْ غَزَا بِنَفْسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْفَقَ فِي وَجْهِ ذَلِكَ فَلَهُ بِكُلِّ دِرْهَمٍ سَبْعُ مِائَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ ( وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ )
سنن ابن ماجة
پہر سنن ابی دائود کی روایت میں اس ثواب کو سات سو گنا بڑھ جانے کی بات آئی ہے :
بَاب فِي تَضْعِيفِ الذِّكْرِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى
2498 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ وَالذِّكْرَ تُضَاعَفُ عَلَى النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ
سنن أبي داؤد
اس طرح دونوں حدیثوں کو ملانے اور ایک کی فضیلت دوسری میں ضرب دینے سے انچاس کروڑ کی تعداد حاصل ہوجاتی ہے ۔
لیکن یہ ثواب دین کے کسی خاص شعبہ کے لئے متعین نہیں ۔اشاعت وحفاظت دین کے تمام شعبوں سے وابستہ افراد اس ثواب کے مستحق ہونگے۔
خیال رہے کہ انچاس کروڑ ثواب ضرب کے بعد حاصل ہوا ہے۔ اس تعداد کو بتانے کے لئے مستقل کوئی قابل استدلال واحتجاج روایت ثابت نہیں ۔
پہر یہ فضیلت تبلیغی جماعت یا کسی خاص شعبہ دین سے وابستہ افراد پر منحصر نہیں ہے۔تبلیغی جماعت کے بعض احباب اس ثواب کو اپنے اوپر اس طرح منطبق کرتے ہیں جیسے انچاس کروڑ کی یہ فضیلت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص ان کے لئے رجسٹرڈ کردیا ہو ! یہ سوچ بالکل غلط ہے۔
ہر چند کہ فی سبیل اللہ ہونے کی وجہ سے وہ بھی اس ثواب کے مستحق ہوسکتے ہیں !
لیکن جہاں کہیں یہ فضیلت بتائی جائے ضرب کی حقیقت کے ساتھ یہ بتائی جائے ۔مطلق یہ فضیلت بتانا درست نہیں ہے ۔کیونکہ اس طرح تنہا کوئی حدیث نہیں ۔جو حضرات علماء ومفتیان کرام تبلیغی جماعت کے لئے انچاس کروڑ ثواب کی روایت کی نفی فرماتے ہیں وہ اسی حیثیت سے منع فرماتے ہیں ۔ اور وہ اس میں حق بجانب ہیں۔
مفتی فرید صاحب پاکستانی اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
انچاس کروڑ کی ضرب ، مروجہ طریقہ تبلیغ اور جہاد و تعلیم کا حکم :
سوال : کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان دین متین مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ
(۱) …تبلیغی جماعت والے اللہ کی راہ (تبلیغ) میں نکل کر ایک نماز کی ادائیگی کا اجر و ثواب انچاس کروڑ بتلاتے ہیں کیا قرآن و حدیث سے یہ بات ثابت ہے براہ کرم تعین حدیث فرمادیجئے یہ سنا ہے کہ بعض احادیث کی ضرب سے یہ تعداد حاصل ہوتی ہے کیا یہ ضرب دینا درست ہے ؟
جواب :-
اگر ضرب دینا درست ہوجائے تو پھر اگر ایک شخص مسواک استعمال کرکے گھر کے بجائے مسجد میں نماز باجماعت ادا کرے تو مسواک سے ستر گنا اجر بڑھ گیا او رمسجد میں جماعت کے ساتھ ادائیگی کا ۲۵ گنا اجر بڑھ گیا تو ۷۰×۲۵ ہوا جس کا حاصل تقریبا ًسترہ لاکھ پچاس ہزار بنتا ہے اور اگر رمضان میں ادا کرے تو ایک فرض ادا کرنا ستر فرض کی ادائیگی کے برابر ہے تو حاصل ضرب ایک کروڑبائیس لاکھ پچاس ہزار بنے تو اب اگر یہ شخص یہ تعبیر ادا کرے کہ رمضان کے مہینہ میں مسواک استعمال کرکے جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی پر ایک کروڑ بائیس لاکھ پچاس ہزار نمازوں کا ثواب ملے گا نیز مذکورہ بالا قیودات کو سامنے رکھ کر نماز بیت اللہ میں ادا کرے تو اور بڑھے گا ۔ تو کیا اسی طرح کے ضرب وغیرہ کا سلسلہ درست ہو گا؟
فتاوی فریدیہ جلد 1 – غیر موافق للمطبوع
صفحہ 242
حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب پاکسانی رحمہ اللہ نے احسن الفتاوی میں اس پہ مستقل رسالہ تصنیف فرمایا ہے ۔جو بڑا ہی وقیع اور چشم کشا ہے۔
احسن الفتاوی جلد 9 ، صفحہ 166 –
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

Scroll to Top