اس وقت میرے ہاتھوں ایک ایسی بیش بہا کتاب ہے جو علمی حلقوں کے لئے بلا مبالغہ “سرمۂ بصیرت “ اور “حرز جاں “ بنائے جانے کے قابل ہے ۔
مصنف کتاب نے کمالِ مہارت ، نہایت عرق ریزی اور تلاش وجستجو کے ساتھ ، شستہ ، سہل ، رواں اور شیریں اسلوب میں “گوہر نایاب “ کو خوبصورت لڑی میں پورے سلیقہ مندی کے ساتھ پرو دیا ہے ۔ کتاب کا نام ہے ” جدید سائنس “۔کتاب کے لائق وفائق مصنف ، نامور عالم دین ، مولانا ومفتی ابو ابراہیم مشیر عالم قاسمی زید مجدہ ہیں،جو اپنے علمی، تحقیقی ، تدریسی اور تالیفی کارناموں کے لیے ملک میں ؛ خصوصاً حلقۂ علم وعلماء میں ممتاز شناخت ، منفرد شہرت اور قابل رشک اعتبار ووقار اور مقام ومرتبہ رکھتے ہیں۔ مفتی صاحب کی اصل شہرت تو فن حدیث وفقہ میں اختصاص اور کامیاب تدریس کے وجہ سے تھی ؛ تاہم انہوں نے جس کمالِ ہنر مندی سے بظاہر اجنبی سمجھے جانے والے موضوع پر لگن ، شوق ، جاں کاہی ، محنت شاقہ اور عرق ریزی کے ساتھ خامہ فرسائی کی ہے وہ آپ کا “ کار “ نہیں ، “ کارنامہ “ ہے ۔ مفتی صاحب کے قلم گہر بار سے اس سے قبل دیگر علمی اور وقیع کتابیں بھی منظرعام پرآچکی ہیں، صاحب کتاب دارالعلوم دیوبند کے ممتاز فاضل اور دارالعلوم الاسلامیہ پھلواری شریف پٹنہ کے کامیاب ومقبول استاذ حدیث ہیں ، صالحیت وصلاحیت کے پیکر بافیض عالم دین ہیں ، طبعی طورپر ایک سنجیدہ ، حلیم ومتین اور خاموش مزاج شخصیت ہیں ، اپنا بیشتر وقت علمی کاموں میں گزارتے ہیں۔
زیرنظر کتاب میں تقاضاے عصر کے مطابق ایسے موضوعات پہ قلم اٹھایا ہے جو موجودہ دور میں مسلم طلبہ وطالبات کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ، بلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ فاضل مصنف نے موضوع کا حق ادا کردیا ہے۔
اسلام نے سیکھنے اور تحقیقات پہ جتنا زور صرف کیا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم کا پہلا لفظ ہی “إِقْرَأْ“ -پڑھو – ہے ۔ اس کے عموم میں ، “ خالق” کی ذات وصفات ( وسیع تر معنی ومفہوم میں ) سے آگاہی کی معروف ومعہود شکلوں کے ساتھ، ’خدا کی پیدا کردہ کائنات اور اس کی نشانیوں میں منظم مطالعہ کرنا بھی شامل ہے۔سورہ آل عمران ، آیت نمبر 190 – 191 میں اپنے گرد وپیش کے واقعات اور حوادثِ عالم کے رازہاے سربستہ سے باخبری اور آگاہی کے لئے خالق کی عطا کردہ شعور وآگہی کو بروئے کار لانا یعنی خلق خدا میں تفکر وتدبر کرنا مومنین کی بنیادی صفات میں شمار کیا گیا ہے ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ علامات ونشانیوں سے بھری پڑی خدا تعالیٰ کی “مادی دنیا” کو عقلی اور معروضی تحقیقات واکتشافات کے ذریعے سمجھنا (جسے سائنس کہتے ہیں ) اسلام میں ممنوع نہیں ؛ بلکہ مطلوب ہے ، روزانہ کی نماز پنج گانہ کے لیے درست وقت ، زوال وسایہ اصلی ، پورے کرہ ارض میں کہیں سے بھی سمت قبلہ ، دوربیں سے رویت ہلال اور روزے کے آغاز واختتام (سحر وافطار) کے لیے صحیح تاریخ ووقت کا تعین ، حج بیت اللہ کے بحری سفر میں جغرافیائی وجہاز رانی کی آلات ونقشہ سازی وغیرہ وہ امور ہیں جن کا ادراک وحصول سائنس پر موقوف ہے ، اس سے جہاں سائنس کے حصول کی ضرورت ، اہمیت ، افادیت اور نافعیت کا احساس ہوتاہے ، وہیں اسلام کے ساتھ اس فن کے “گہرے ربط وتعلق “ کا بھی پتہ چل رہا ہے ، مذاہب کے مابین صرف مذہب اسلام کا یہ امتیاز رہا ہے کہ اس نے سائنس کے مثبت حصول کی ہمت افزائی کی ہے ، کیمسٹری کے بانی جابر ابن حیان ہو، آپٹکس کا بانی ابن الہیثم ہو ، یا ماہر فلکیات ناصر الدین الطوسی ہو ؛ ہر ایک مسلم سائنسداں نے اس فن کے گیسوئے برہم کو سنوارا ہے ، اس کے طریقہ کار کی ایجاد واکتشاف میں اپنا اپنا تاریخ ساز حصہ ڈالا ہے ، پھر مسلم حکمرانوں نے مختلف ادوار میں قرطبہ ، قاہرہ ، بغداد وغیرہ میں جو سائنسی لائبریریاں، یونیورسٹیاں، ہسپتال اور سائنسی مشاہدے کے آلات (خاص طور پر، فلکیاتی آلات جیسے کہ آسمانی گلوب، فلکیات۔ سنڈیلز اور رصد گاہیں ) وغیرہ قائم کئے تھے وہ اس فن کے ساتھ ان کی دلچسپی اور ترویج وترقی کے بین ثبوت بھی ہیں ۔
اکیسویں صدی جدید علوم کی معراج کی صدی کہلاتی ہے۔ ہر میدان میں نت نئی تحقیقات واکتشافات کی حد تصور وامکاں سے ماورا بہتات ہے ، آج کے ترقی یافتہ ڈیجیٹل دور میں دِین کی صحیح اور نتیجہ خیز اِشاعت کا کام جدید سائنسی بنیادوں پر بہتر طور پر انجام دِیا جاسکتا ہے، گزشتہ صدیوں سے کہیں زیادہ آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ مُسلم معاشروں میں جدید سائنسی علوم کی تروِیج کو فروغ دیا جائے اور دِینی تعلیم کو سائنسی تعلیم سے مربوط کرتے ہوئے حقانیتِ اِسلام کا بول بالا کیا جائے، مسلم طلبہ وطالبات کو مثبت انداز میں سائنٹیفک طریقے سے مذہب اور سائنس کے باہمی ربط وتعلق کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھایا جائے ، سائنس کی بنیادی اصطلاحات سے انہیں آگاہ کیا جائے ، قرآنی اصول وہدایت کی سائنسی روشنی میں تطبیق پیش کی جائے ۔
اللہ کا کا شکر ہے کہ اس ضرورت کا احساس ایک فاضل دیوبند کو ہوا ، انہوں نے فلکیات ، ارضیات اور ماحولیات جیسے اساسی ابواب کے تحت “ سائنس کی حقیقت ، سائنس کی تاریخ ، قدیم اور یونانی دور ، قرون وسطی ، شہرہ آفاق مسلمان سائنس داں ، مسلمانوں میں سائنسی زوال کے اسباب، مذہب اور سائنس میں عدم مغایرت ، دائرہ کار میں فرق، اقدام و خطا کا فرق، مغالطے کے اسباب کلیسائی مظالم ، کارل مارکس کے نظریات ، دینی مدارس اور سائنس ، سائنس علوم میں مسلمانوں کے شاندار اور تاریخ ساز کارناموں ، اس میدان میں مسلمانوں کی خدمات کو نظر انداز کئے جانے کی سازش کی وجوہات جیسے ان گنت وقیع عناوین پہ فاضلانہ ؛ لیکن تشفی بخش روشنی ڈالی ہے ، بچوں کے ذہنی اور علمی مستوی کو ملحوظ رکھتے ہوئے مشقی سوالات بھی قائم کئے ہیں ۔
میں نے تقریباً پوری کتاب پہ سرسری نظر ڈالی ہے ، تحقیقاتی انداز واسلوب کے ساتھ ساتھ معلومات کی فراوانی ، طرز نگارش ، حسن بیانی ، اسلوب وبیان کی صفائی ، شیرینی ، سلاست وروانی بھی اس درجے کی ہیں کہ پڑھنے والے کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں اور اوّل تا آخر پڑھنے پر مجبور کردیتی ہیں ، کتاب اس لائق ہے کہ اسے چشم سر کے راستے لوح قلب ودماغ میں ثبت کرلیا جائے ، روایتی خشک طریقے کی بجائے معروضاتی انداز نے اس کے حسن وافادیت کو دو آتشہ کردیا ہے ، کتاب کی ساری مشمولات انتہائی وقیع ، چشم کشا اور بصیرت افروز ہیں اور پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں ۔
میں اپنے احباب ، رفقاء ، محبین ومعتقدین سے گزارش کرتا ہوں کہ اس علمی دستاویز کو اپنے مکاتب کے نصاب میں داخل فرمائیں یا کم از کم خارجی مطالعے میں لازمی رکھیں ۔
کتاب تقریباً سو صفحات پر مشتمل ہے
ماریہ بک ڈپو گون پورا پھلواری شریف پٹنہ سے شائع ہوئی ہے ، آغاز کتاب میں شیخ طریقت ، عارف باللہ حضرت مولانا اشتیاق احمد صاحب قاسمی مظفر پوری ، ماہر فلکیات حضرت مولانا ثمیر الدین صاحب قاسمی انگلینڈ ودیگر اہل علم ودانش کے وقیع اور گراں قدر تاثرات ثبت ہیں
کتاب کے حصول کے لئے مؤلف محترم سے 8544337456 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔
صاحب کتاب نے کرم گستری کی انتہا یہ فرمادی کہ چند ماہ قبل جبکہ عاجز وطن مالوف تھا ، کتاب مذکور سمیت اپنی تمام تر تالیفات کے ہمراہ پھلواری شریف پٹنہ سے غریب خانہ بیگوسرائے تشریف لے آئے
اللہ تعالیٰ ان کی اس مخلصانہ وبرادرانہ حب ووفاء کو اپنی رضاء کے لئے قبول بھی فرمائے اور اسے باقی بھی رکھے۔
دعاء ہے کہ اللہ تعالی اس علمی سوغات کو قبول عام عطا کرے ، مؤلف محترم کے لئے ذخیرہ آخرت ثابت ہو اور ان کی شگفتہ وشاداب تحقیقات ، تعلیقات وتالیفات شش جہات یونہی جلوہ آرائی کرتی رہیں ، آمین !
شکیل منصور القاسمی
مركز البحوث الإسلامية العالمي (جمعرات 2؍صفر المظفر 1446ھ 8؍ اگست 2024ء)