جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے شعبہ تخصص فی الافتاء کا ایک یادگار علمی سفر

گزشتہ روز جمعرات 5 جنوری 2023 وجمعہ دو یوم کے لئے جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں نئے قائم شعبہ تخصص فی الافتاء کے طلبہ کے مابین دو اہم ترین عناوین :
“اسلامی معاشیات —- مسائل ، مشکلات اور حل “
اور “ہندوستانی مسلمانوں کے معاشی مسائل کا حل اور طریقہ کار “
پر محاضرہ پیش کرنے کے لئے جامعہ کی خصوصی دعوت پر حاضری کی توفیق ملی ۔
ملک کے منفرد وممتاز دینی ،تعلیمی اور تربیتی ادارہ جامعہ رحمانی، خانقاہ، مونگیر، بہار -جس کی دینی و علمی خدمات کا دائرہ تقریباً ایک صدی پر پھیلا ہوا ہے-کے نو قائم شدہ شعبہ تخصص فی الافتاء کے نظام ، نصاب ، طریق کار کو قریب سے پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔تازہ دم ، پختہ علم ، کہنہ مشق جیّد اساتذہ کرام انتہائی اچھوتے طریقے سے
اس شعبے میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔اس شعبہ کے روح رواں جواں سال فاضل ، بالغ نظر اور جیّد عالم دین مکرمی مفتی جنید احمد صاحب قاسمی زید مجدہ ہیں ۔وہ اپنے شبانہ روز کی مخلصانہ جدوجہد سے شعبے کو نئی شناخت واعتبار اور فروغ بخشنے میں ہمہ تن مصروف عمل ہیں الحمد للّٰہ ۔ جامعہ کے استاذ حدیث وفقہ، رفیق گرامی قدر مفتی شمشیر حیدر قاسمی ارریاوی کے ہمراہ جامعہ کے علمی شعبوں، درسگاہوں ؛ بالخصوص دارالحکمت اور اس کے طریقہ کار کے تفصیلی جائزے اور گہری واقفیت کا موقع ملا ۔ تقریباً ایک دہائی قبل جامعہ رحمانی میں قدیم نصاب اور قدیم نظام تعلیم کو علی حالہ باقی رکھتے ہوئے ایک نیا شعبہ “دار الحکمت” کا قیام‌ عمل میں لایا گیا، دار الحکمت
کا نظام تعلیم مروجہ نظام سے قدرے مختلف ہے، اس کے تحت چلنے والے درجات میں معمولی ترمیم کے ساتھ وہ تمام علوم مع جدید اضافہ کے شامل کئے گئے ہیں جو صدیوں سے درس نظامی میں داخل چلے آرہے ہیں ؛ البتہ قرآن ، تفسیر اور حدیث شریف کی کتابوں کو چھوڑ کر دوسرے علوم و فنون کے لئے ان کتابوں کا انتخاب کیا گیا ہے جسے عصر حاضر کے ماہرین علوم و فنون نے دور جدید کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے تصنیف کیے ہیں ،اور قدیم کتابوں کے بالمقابل اقرب الی الفہم سمجھا ہے، ان میں سے زیادہ تر کتابیں جامعہ ازہر کے نصاب میں شامل ہیں،
دار الحکمت کے تحت تدریسی سلسلہ درجہ حفظ سے شروع ہوتا ہے، جس میں حفظ کے طلبہ کو مضبوط اور مستحکم طریقے پر حفظ کرانے کے ساتھ ان سے صرف دو گھنٹے دوسرے علوم مثلاً عربی زبان ، انگریزی زبان، اور ریاضیات کے لئے لیے جاتے ہیں، اسی طرح تکمیل حفظ کے لئے پانچ سالہ نظام بنایا گیا ہے، ان پانچ سالوں میں طلبہ حفظ کو تکمیل کے ساتھ عربی زبان میں بھی خاصا دسترس حاصل ہوجاتا ہے اور ان کے اندرقران کریم اور عربی زبان کی دوسری کتابوں کو سمجھنے اور عربی بولنے ، پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت ایک حد تک پیدا ہوجاتی ہے، تکمیل حفظ کے بعد فضلیت یعنی دورہ حدیث شریف تک کی تعلیم‌مکمل کرنے کے لئے سات سالہ نصاب ہے، خاص‌ بات یہ ہے کہ تمام درجوں کی تعلیم کے لئے تدریسی زبان عربی رکھی گئی ہے، اسی کے ساتھ‌ جدید طریقہ تدریس کو خاص اہمیت دی گئی ہے، مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ دارالحکمت کے چند طلبہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ سے عربی زبان میں ایک انٹر ویو لینا چاہتے، آپ وقت بتادیں، ان شاء اللہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوجائیں گے، ان طلبہ کو دس بجے شب کا وقت دیا گیا تھا؛ مگر عشاء بعد کھانے سے فراغت اور یہاں کے بعض اکابرین سے ملاقات میں زیادہ وقت ہوگیا، پھر اردوزبان میں طلبہ کو انٹر ویو دیتے ہوئے کافی رات ہوچکی تھی، اور قبیل الفجر مجھے واپس بھی ہو نا تھا ، اور دن بھر مونگیر اور اس کے ارد گرد کے مختلف تاریخی مقامات کے سیر کرتے ہوئے ہم کافی تھک بھی چکے تھے، دوسری طرف نیند کا خمار بھی تیز ہوتا جارہا تھا، اس لئے محب گرامی مفتی شمشیرحیدر صاحب نے ان طلبہ کو یہ کہہ کر روک دیا کہ آپ حضرات پھر کبھی انٹرویو لے لیجئے گا، آج اپنا پروگرام ملتوی کرلیجئے ، طلبہ بھی بآسانی مان گئے ۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ تعلیم وتربیت کے ساتھ طلبہ، صحافت کے اعلی ذوق اور قابل رشک فعالیت سے بھی مالا مال ہیں ۔
موجودہ سرپرست جامعہ اور امیر شریعت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل صاحب مدظلہ خود ایک جہاں دیدہ شخصیت ہیں ، انہوں نے دنیا کے ممتاز جدید ترین دینی اور عصری تعلیم گاہوں اور ان کے نظام ہائے تعلیم وتربیت کو قریب سے دیکھا اور بھالا ہے ۔ انہوں نے گلہاے رنگ رنگ سے اپنی جامعہ کے شعبہائے تعلیم وتربیت کو حسین سے حسین تر بنانے کی سعی کی ہے اور وہ اس میں کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں ۔ انتہائی جدید اور اپڈیٹ طریقے سے موجودہ نظام جاری ہے ۔
شعبہ افتاء میں انتہائی انوکھے اور اچھوتے طریقے سے طلبہ پہ محنت کی جارہی ہے ، غور وتدبر ، اخذ واستنتاج اور تتبع وتلاشِ مسائل کی مشق بالکل نئے اور کار آمد نہج وطریقے پہ کرائی جارہی ہے ۔ ملک وبیرون ملک کے مختلف مسافرانِ علم وتحقیق اور صاحبان افتاء وتدریس کی صلاحیتوں سے استفادے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیاجاتا۔محاضرات کی دونوں نشستوں میں شریک طلبہ کا ذوق وشوق اور تیقظ و بیدار مغزی دیدنی ؛ بلکہ قابل صد رشک تھا ۔ آخر میں سوالات کے سیشن میں محاضر سے جس نوعیت کے ان گنت سوالات کئے گئے اس سے اندازہ ہوا کہ طلبہ کا ذوق علم وفہم اور قوت اخذ وادراک کس قدر اعلی ہے ؟ ماشاء اللہ ۔ مجھے ذات باری سے قوی امید ہے کہ اگر اسی نہج پہ دوام و استمرار کے ساتھ کام ہوتا رہا تو بہت جلد ان شاء اللہ یہ نو خیر شعبہ ملک کے اہل علم میں ایک منفرد مقام ، مرتبہ ، اعتبار و اعتماد حاصل کرلے گا ۔
اللہ تعالی ادارے ، اس کے مذکورہ شعبے ، سرپرست ، اساتذہ وطلبہ کو سدا بہار رکھے ، شبانہ روز مادی وروحانی ترقیات سے نوازے
پورے خطہ ؛ بلکہ پورے ملک کے لئے ایک مثالی وممتاز شعبہ بناکر طالبان علوم دینیہ کے لئے مرجع بنادے ۔آمین
شکیل منصور القاسمی
مركز البحوث الإسلامية العالمي
اتوار 15؍جمادی الثانیہ 1444ھ8؍جنوری 2023ء

Scroll to Top