جناحی طرز وفکر سیاست اور آج کا ہندوستان ؟

مادر وطن کی آزادی کے بعد تقسیم وطن کے عجلت میں لیے گئے فیصلوں کے باعث ملک تقسیم در تقسیم (مشرقی ، مغربی ، آزاد ، مقبوضہ جیسے گورکھ دھندوں ) کا شکار ہوگیا
اسے خدائی تقدیر کہہ لیجئے جو علماء، مفکروں ودانش وروں کی تدبیر پہ غالب آگئی ، مسلم قوت تسبیح کے دانوں کی طرح بکھڑ کے رہ گئی، کچھ کو برائے نام آزاد مسلم مملکت بھلے ہی مل گئی ہو ؛ لیکن اس کا خمیازہ یہاں بچ جانے والی ان سے زیادہ بڑی تعداد مسلم کو بھگتنا پڑ رہا ہے ، انگریز کے دور غلامی سے بھی سخت جبر واستبداد کا سامنا ہے ، عزت ، ناموس ، جان ومال مساجد ومعابد سب کچھ ہی ہندوئوں کے رحم وکرم پہ ہے ، تقسیم وطن کے زخم کو کریدنا اب بے سود ہے۔
اس وقت ہندستان کا مابقیہ جو شکل و حصہ بھی موجود ہے اس پہ بلا تفریق مذہب وملت تمام باشندگان ہند کا مشترکہ حق ہے ۔
تمام طبقات کو ساتھ لیکر باہمی اشتراک و تعاون سے ہی یہاں سیاسی جد وجہد کار گر ونتیجہ خیز ثابت ہوسکتی ہے ۔
ہندو مسلم کے درمیان مذہبی ، ذہنی یا لقبی لکیر کھینچ کر کی جانے والی سیاست کو تاریخ رد کرچکی ہے ، ایسی کوششوں سے اقلیتوں کے خلاف نفرت وتعصب کی فضا قائم ہوگی ، اور مسلمان یہاں سیاسی طور پہ پہر جزیرے میں بند ہوکے رہ جائیں گے ۔
“جناحی طرز وفکر سیاست “
پہلے کارگر ہوئی نہ اب ہوسکتی ہے
“اتحاد المسلمین “ جیسا نام ہی انصاف پسند اور معتدل مزاج ہندوئوں تک کو کھٹک رہا ہے اور انہیں آپس میں متحد ہوجانے کا ایندھن فراہم کرتا ہے
مسلمان تو متحد ہونے سے رہے ؛ کہ اتحاد نام کی کوئی چیز اس قوم کے قریب سے بھی نہیں پہٹکی ہے ؛ لیکن برادران وطن ایسے ناموں اور بعض ناعاقبت اندیش جذباتی اور ہیجان انگیز بیانات کی وجہ سے اندرون خانہ ایک جُٹ ہوچکے ہیں ۔
قومی یکجہتی اور قومی اتحاد کے عنوان پہ مسلمان اپنا مضبوط سیاسی پلیٹ فارم بنائیں اور مسلمانوں کو متحد کرنے کی زمینی کوشش کریں تو واقعی ملت اسلامیہ کی ایک اہم ضرورت کی تکمیل ہوگی
مسلمانوں کو متحد کرنے جیسے نام سے ہی برادران وطن گھبرا جاتے اور شکوک وشبہات و اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا ہوجاتے ہیں
اور اسے دلیل بناکر عوام کے ذہنوں میں نفرت وعصبیت بٹھائی جاتی ہے اور نتیجے میں “غنڈہ گرد ،استحصالی غیر سماجی گروہ “ قومی یکجہتی تباہ کرنے اور فرقہ واریت پہیلانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ، اویسی صاحب کی سیاسی کوششیں قابل ستائش ہیں ، مسلمانوں کے مستقل سیاسی وجود کی ضرورت ، افادیت اور اہمیت سے کسی کو بھی انکار نہیں ؛ لیکن ان کی پارٹی کا نام ملک کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں حکیمانہ و مدبرانہ وملک کے ہمہ جہتی اقدار کا حامل مزاج ومذاق کے ملائم ہر گز نہیں لگتا،
اس قسم کا نام مسلمانوں کو مزید اچھوت اور مدمقابل کو مضبوط ومتحد کردے گا
کاش ! وہ اس نکتے پہ غور کرسکیں !
شکیل منصور القاسمی
بیگوسرائے
نومبر 11, 2020

Scroll to Top