جہاد کا مدار ظلم و جبر ہے؛ اعتقاد کا اختلاف نہیں

اسلام کی روح میں جو حقیقت سب سے زیادہ ضو فگن ہے، وہ عدل وانصاف ہے، ظلم جس ہاتھ سے بھی اٹھے، مسلمان کا ہاتھ ہو یا غیر مسلم کا، اسلام اس کے مقابل کھڑے ہونے کو “فریضہ” قرار دیتا ہے، اسی لیے اللہ نے “جہاد” کی مشروعیت عطا کی؛ تاکہ بلاتفریق پوری انسانیت کو فتنوں کی زد میں آنے سے بچایا جاسکے، جارحیت اور فسطائیت کے دروازے بند کیے جائیں، اور ظلم کی سرکشی کو لگام دی جا سکے۔ ظلم وجبر کا کوئی دین ومذہب نہیں ہوتا، اور اسلام ظلم کے سامنے کسی مذہبی تفریق کو رکاوٹ نہیں بناتا۔
بغی وعدوان کے خلاف جدوجہد (جہاد ) اسلام میں کوئی اجنبی تصور نہیں؛ یہ دین کی فطری لَے، اس کی زندہ روح اور اس کی حرارت ہے، دین اگر قوتِ دفاع اور مزاحمت سے خالی ہو جائے تو وہ دین محض ایک بے جان فلسفہ بن کر رہ جاتا ہے، زندگی کی “دھڑکنیں” اس میں باقی نہیں رہتیں۔
قرآن کریم نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ دنیا کے توازن کا راز ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے میں پوشیدہ ہے:
“اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے نہ روکتا تو زمین فساد سے بھر جاتی” (سورۃ البقرۃ، آیت 251)
گویا ظلم کے سامنے اٹھ کھڑے ہونا ایک فریضہ ہی نہیں؛ بلکہ کائناتی سنّت بھی ہے۔

اسلام انسانیت سے جنگ نہیں چاہتا؛ وہ انسانوں کو ان کے اختلافات سمیت جینے، بڑھنے، مکالمہ وگفت شنید کی فضا بحال رکھنے اور ساتھ چلنے کا حق دیتا ہے، اللہ نے ہر مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ عدل و انصاف کا حکم دیا، اور مصالحت ومسالمت کی حالت میں خیرخواہی اور حسنِ سلوک کے دروازے کھلے رکھنے کی تاکید فرمائی ہے(الممتحنة 8، 9، الأنفال 61)۔

قرآن کریم نے کہیں بھی اعتقاد کے اختلاف کو قتال کی بنیاد نہیں بنایا، باضابطہ جنگ صرف اس وقت واجب ہوتی ہے جب اعتداء یعنی ظلم، تعدّی اور جارحیت سامنے موجود ہو۔
جو قوم یا فرد مسلمانوں کے ساتھ امن میں ہو، اسلام نہ صرف اس کے ساتھ بقائے باہمی کا حکم دیتا ہے بلکہ دعوت و حکمت کی زبان بھی احسن اسلوب پر قائم کرتا ہے(النحل 125)۔

نبی کریم ﷺ نے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کو افضل الجہاد قرار دیا (سنن النسائی 4220)۔
ظالم حکمران کے سامنے حق کی بات کہنا وہ بلند حوصلگی ہے جو اسلام انسان کے اندر بیدار کرتا ہے، یہ دین اپنے ماننے والوں کے دلوں میں وہ حرارت چاہتا ہے جو باطل کے سامنے ماند نہ پڑے ، مگر ساتھ ہی وہ تہذیب بھی سکھاتا ہے جو اقتدار وقوت کو وحشت وسفاکیت میں ڈھلنے سے روکے۔
اسلام کے جنگی اصول آج بھی دنیا کے سامنے اخلاق کا سب سے روشن مینار ہیں، رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر ظالم وجابر کے سامنے رو برو ہونا پڑے تو جنگ میں خیانت نہ کرو، غداری نہ کرو، مثلہ نہ کرو، اور کسی بچے کو قتل نہ کرو (صحیح مسلم 1731)۔

تلوار ہو تو اخلاق کی غلاف میں، اور غلبہ ہو تو انسانیت کی قیمت پر نہیں ؛ بلکہ عدل وانصاف اور رحم وکرم کے زور پر۔
قرآن کریم نے مومنوں کے باہمی قتال کی صورت میں بھی عدل ہی کو نصب العین بنایا ہے، اگر دو گروہ باہم لڑ پڑیں تو صلح کرائی جائے، اور اگر ایک گروہ ظلم پر آمادہ ہو جائے تو اس کے خلاف کھڑے ہونا؛ بلکہ جہاد و قتال کرنا؛ فرض ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے (الحجرات 9)۔
یہ ارشاد اس امر کی کھلی دلیل ہے کہ جہاد کا مدار بغاوت، ظلم اور طغیان ہے، نہ کہ عقائد کا اختلاف۔
جہاد کا مرکز عدل ہے، اور اس کا مقصودِ اعلیٰ ظلم کی بساط لپیٹ کر انصاف کا قیام ہے۔

اسلام نہ تو انسانوں کو مکمل خانقاہی گوشہ نشینی میں ڈال کر غفلت کی نیند سلاتا ہے، اور نہ ہی انہیں بے لگام شدت کے گھاٹ اتارتا ہے، وہ مظلوم کو ہمت دیتا ہے کہ ظلم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکے؛ مگر ساتھ ہی اس کے ہاتھ کو اخلاق کے ریشمی بندھن میں بھی باندھتا ہے، قوت جب اخلاق سے خالی ہو جائے تو عدل نہیں رہتی، محض درندگی بن جاتی ہے۔

اسلام چاہتا ہے کہ مومن کا دل زندگی اور حریت سے لبریز ہو، مگر اس کا ہاتھ عدل کی میزان پر حرکت کرے؛ اس کی آواز حق کے لیے بلند ہو، مگر اس کی ضرب ، رحمت وانسا نیت کی حدود سے کبھی آگے نہ بڑھے۔

یوں اسلام کا جہاد یہی ہے:
جہاں ظلم کھڑا ہو، وہاں حسب تقاضہ جدوجہد مقابلہ؛ اور جہاں انسان سکون چاہے، وہاں امن۔
جہاں کوئی شخص زخمی ہو، وہاں سہارا؛ اور جہاں ظلم سر اٹھائے، وہاں حق کی گونج بلند ہو!
یہی دین اسلام کا حسن ہے، یہی اس کا توازن ہے، اور یہی وہ نور ہے جس نے تاریخ کےماتھے پر اپنی تابندہ نقوش ثبت کردیئے ہیں۔
شکیل منصور القاسمی
مرکز البحوث الإسلامية العالمي
(جمعرات12؍جمادی الثانیہ 1447ھ4؍ دسمبر2025ء)

Scroll to Top