سوال : ایک 18 سالہ لڑکا ہے، لیکن سرٹیفکیٹ میں 16 سال عمر درج ہے، اس نے تقریباً ایک ماہ پہلے اسلام قبول کیا ہے، لیکن ابھی تک کسی کو نہیں بتایا کیونکہ قانونی طور پر وہ 18 سال کا نہیں ہوا۔ اسے ڈر ہے کہ اگر والدین کو معلوم ہوا تو وہ پولیس میں شکایت کر سکتے ہیں اور اس کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ وہ گھر میں رہتے ہوئے نماز، روزہ اور دیگر دینی فرائض ادا نہیں کر پا رہا ہے کیونکہ پکڑے جانے کا خطرہ ہے۔ ابھی اسے دو سال مزید اسی ماحول میں رہنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ:
وہ اس دوران نماز اور روزے کو کیسے قائم رکھے؟
فرض عبادات کو ترک ہونے سے کیسے بچائے؟
شرک یا غلط ماحول سے خود کو کیسے محفوظ رکھے؟
18 سال کا ہونے تک دین سیکھنے اور عمل کرنے کا کیا طریقہ ہو؟
یعنی بنیادی سوال یہ ہے کہ کم عمری اور خفیہ حالت میں رہتے ہوئے اسلام پر عمل کیسے کیا جائے تاکہ عبادات بھی قائم رہیں اور کسی بڑی مشکل میں بھی نہ پڑے۔
محمد ارشد علی قاسمی ، سیّدپور ، بیگوسرائے
الجواب وباللہ التوفیق:
اسلام کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ اضطرار اور مجبوری کی حالت کو ملحوظ رکھتا ہے، خواہ معاملہ فروع کا ہو یا بعض اوقات اصول کا۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ (النحل: 106) یعنی جو شخص ایمان کے بعد کفر کرے، سوائے اس کے جسے مجبور کر دیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔ اس آیت کی تفسیر میں علامہ عبد الرحمن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“من أكره على الكفر وأجبر عليه، وقلبه مطمئن بالإيمان راغب فيه، فلا حرج عليه ولا إثم، ويجوز له النطق بكلمة الكفر عند الإكراه عليها”
یعنی جو شخص کفر پر مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو اور وہ ایمان ہی کو پسند کرتا ہو، تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ اور مجبوری کی حالت میں کلمۂ کفر زبان سے کہنے کی بھی اجازت ہے۔”
(تفسیر السعدی، تحت آیت النحل: 106)
قرآن کریم کی درج ذیل متعدد آیات سے بھی اس نوع کی گنجائش نکلتی ہے :
1-: ﴿ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ ﴾ [الأنعام: 119].
2-: ﴿ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ﴾ [البقرة: 173].
3-: ﴿ فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِإِثْمٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ﴾ [المائدة: 3].
4-: ﴿ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ﴾ [الأنعام: 145].
5-: ﴿ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ﴾ [النحل: 115].
اس سے معلوم ہوا کہ جب جان، شدید اذیت یا ناقابل برداشت جسمانی یا قانونی ومعاشرتی ضرر کا حقیقی اندیشہ ہو تو ظاہری اظہار کو مخفی رکھنا شرعاً جائز ہے، جبکہ دل ایمان پر مطمئن ہو۔
لہٰذا اگر اس نوجوان کو یہ خوف ہو کہ اسلام ظاہر کرنے سے اسے جسمانی تشدد، گھر سے نکالے جانے، یا قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا تو اس کے لیے اپنے اسلام کو مخفی رکھنا جائز ہے، اور ظاہری شعائر کو بقدرِ ضرورت ترک کرنے کی گنجائش ہے۔ فقہاء کا قاعدہ ہے: الضرورات تبيح المحظورات( شرح مجلة الأحكام: م: 21 ص: 33، الأشباه للسيوطي: 83، ابن النجيم: 85، الوجيز: 175)
اس کا مطلب یہ ہے کہ مجبوری کی حالت میں ممنوع امور وقتی طور پر جائز ہو جاتے ہیں، لیکن یہ رخصت بقدرِ ضرورت ہوتی ہے۔
نماز کے بارے میں اصل حکم یہ ہے کہ اسے حتی الامکان ادا کیا جائے، اگر علانیہ نماز پڑھنا ممکن نہ ہو تو تنہائی میں مختصر طور پر ادا کرے، قیام ممکن نہ ہو تو بیٹھ کر، وضو مشکل ہو تو تیمم کر کے، اور اگر مکمل ارکان ادا کرنا خطرناک ہو تو اشارے سے ادا کرے، کیونکہ شریعت کا اصول ہے کہ “الميسور لا يسقط بالمعسور “ ( الوجیز القاعدة: الثانية والعشرون)
یعنی انسان سے اسی قدر مطالبہ ہے جس کی وہ استطاعت رکھتا ہو:
فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ( التغابن ۱۶)
(لا يكلفُ الله نفساً إلا وُسعَهَا) . البقرة، آية (٢٨٦) .
قوله صلى الله عليه وسلم: (إذا أمرتكم بشيء فخذوا منه ما استطعتم) .
البتہ اگر کسی وقت واقعی جان یا شدید ضرر کا اندیشہ ہو اور نماز ادا کرنا ممکن نہ رہے تو بعد میں اس کی قضا کرے، کیونکہ اضطرار گناہ کو ساقط کرتا ہے، فرض کو نہیں۔
اسی طرح رمضان کے روزے کے بارے میں بھی یہی قاعدہ جاری ہوگا کہ اگر مجبوری کی وجہ سے روزہ رکھنا خطرے کا باعث ہو تو وقتی طور پر افطار کرنے ( روزہ نہ رکھنے )میں گناہ نہیں، لیکن بعد میں قضا لازم ہوگی۔
اگر گھر کے ماحول میں شرک یا اسلام کے خلاف باتیں ہوں اور وہ زبان سے انکار نہ کر سکے تو اس پر مواخذہ نہیں، بلکہ دل میں انکار کرنا کافی ہے، کیونکہ آیت میں شرط یہ بیان ہوئی ہے کہ “وقلبه مطمئن بالإيمان”۔ دل کا ایمان اصل ہے، اور مجبوری میں خاموشی اختیار کرنا نفاق نہیں بلکہ اکراہ کی حالت ہے۔ نفاق یہ ہے کہ دل میں کفر ہو اور ظاہر میں ایمان، جبکہ یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔
اس مدت میں اس کے لیے مناسب طریقہ یہ ہے کہ حکمت اور صبر کے ساتھ اپنے ایمان کو محفوظ رکھے، دل میں ذکر کرتا رہے، خفیہ طور پر قرآن اور بنیادی عقائد سیکھے، مختصر سورتیں اور اذکار یاد کرے، اور اللہ سے استقامت کی دعا کرتا رہے۔ جلد بازی یا تصادم سے بچے، اور قانونی طور پر بالغ ہونے تک احتیاط کے ساتھ دین پر قائم رہے۔ شریعت کا مزاج آسانی ہے، اور اللہ تعالیٰ بندے کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتا۔ اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدمی اور آسانی عطا فرمائے۔ آمین!
شکیل منصور القاسمی
( منگل 6؍ رمضان المبارک 1447ھ24؍ فروری2026ء)