امام بخاری نے کتاب الحج 25میں زمزم سے متعلق ایک مستقل باب قائم فرمایا ہے ۔”باب ماجاء فی زمزم ” باب نمبر 76۔۔
اس باب کے تحت عبد اللہ بن عباس کی یہ حدیث نقل فرمائی ہے “سقیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من زمزم فشرب وہو قائم ۔رقم 1637۔
زمزم پینے کے طریقہ کے بارے میں علماء کے تین اقوال ہیں :
1۔۔۔۔عام پانی کی طرح زمزم بھی بیٹھکر پینا افضل ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بیٹھکر نوش فرمایا وہ یا تو بیان جواز کے لئے تھا یا ہجوم کے عذر کی وجہ سے۔(خصائل نبوی صفحہ 112 )۔
2۔۔۔بعض علماء نے کھڑے اور بیٹھکر دونوں طرح پینے میں اختیار دیا ہے ۔یعنی دونوں طریقے برابر ہیں کسی ایک کو دوسرے پر فضیلت وبرتری نہیں۔(ردالمحتار کتاب الطہارة مطلب فی مباحث الشرب قائما 95/1 )۔
3۔۔۔کئی علماء کے نزدیک زمزم کھڑے ہوکر پینا افضل ومستحب ہے۔اس کی بنیاد ابن عباس کی مذکورہ روایت کے علاوہ یہ حدیث بھی ہے :
” اذا شربت منہا فاستقبل القبلة واذکر اسم اللہ وتنفس ثلاثا وتضلع منہا فاذا فرغت منہا فاحمد اللہ فان رسول اللہ قال :آیة بیننا وبین المنافقین انہم لایتضلعون من زمزم “۔مستدرک حاکم باب الشرب من زمزم وآدابہ 472/1۔۔سنن الکبری للبیھقی۔ باب سقایة الحاج والشرب منہا و من ماء زمزم 147/5۔۔۔زاد المعاد لابن القیم 229/4۔)۔
یعنی زمزم پینے کا پہلا ادب یہ ہے کہ قبلہ روہوکر پیاجائے ۔دوسرا ادب یہ ہے کہ تین سانسوں میں پیاجائے۔ہر دفعہ کے شروع میں باسم اللہ اور آخر میں الحمد للہ کہے۔تیسرا ادب یہ ہے کہ خوب پیٹ بھر کر پئیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےمنافق کی پہچان بتائی ہے کہ وہ پیٹ بھر کر نہیں پیتے۔(فتح القدیر 400/2۔۔۔معارف السنن 427/6 )۔
مشہور اورمجرب ہے کہ اس سے پہلے جو دعاء کیجائے قبول ہوتی ہے کئی علماء نے قبولیت دعاء کا اپنا تجربہ بتایا ہے حافظ عسقلانی کا اپنا تجربہ بھی چشم کشا ہے جسکی بدولت آج “حافظ حدیث” ان کے نام کا جزء بنا ہوا ہے۔(سنن ابن ماجہ 3062 )۔
ایک مرفوع حدیث بھی ہے “ماء زمزم لماشرب لہ” مجمع الزوائد 386/3۔۔
زمزم پیتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دعاء کرنا بھی ثابت ہے
“اللہم انی اسالک رزقا واسعا وعلما نافعا وشفاء من کل داء ” ( کتاب الفقہ 1076/1۔)۔
آب زمزم پینے کے طریقوں کے بارے میں علماء کے اختلافی اقوال اوپر بیان کردیئے گئے۔حضرت مفتی محمد شفیع صاحب نور اللہ مرقدہ کی تحقیق یہ کہ زمزم اور وضوء کا بچا ہوا پانی بیٹھکر پینا ہی افضل ہے۔
ایک سانس میں زمزم پینا خلاف سنت وآداب ہے۔ٹوپی اتارکر پینے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی