سیرت پاک “کتاب جاناں” پر چند اہم تبصرے

تبصرہ_ کتاب جاناں ﷺ

واحسن منک لم ترقط عینی واجمل منک لم تلد النساء
خلقت مبریًا من کل عیب کانک قد خلقت کما تشاء

نام کتاب کتاب جاناں ﷺ
مصنف مولانا مفتی شکیل منصور قاسمی
کل صفحات ۳۸۴
ورق کی کوالٹی عمدہ دیدہ زیب جلد کے ساتھ
ناشر مرکز البحوث الاسلامیہ العالمی
انٹرنیشنل اسلامک ریسرچ سینٹر نیو کالونی پوکھریا بیگوسرائے بہار
ای میل muftishakeelahmad@gmail.com
ملنے کا پتہ مکتبہ النور دیوبند یوپی یا ای میل پر مصنف سے رابطہ کریں
اسلام کی اِمتیازی شان یہ ہے کہ یہ محض تعلیمات پر مشتمل نہیں بلکہ اپنی تعلیمات کے عملی نمونہ اور عملی مظاہر کا حامل بھی ہے۔ سیرتِ نبوی کو امت مسلمہ کے لیے نمونہ کامل قرار دے کر اسلام کی تعلیمات کے عملی نمونہ ہونے کی ضرورت کو پورا کر دیا گیا ہے۔ تاریخ انسانی میں یہ امتیاز صرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انفرادی، معاشرتی اور قومی زندگی کا ایک ایک لمحہ محفوظ اور اہل ایمان کے لئے مینارہ نور کی صورت میں موجود ہے۔ آپ کی سیرت طیبہ پر تاریخ میں سب سے زیادہ لکھا گیا اور لکھا جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سیرت نگاروں کی فہرست میں مسلم اور غیر مسلم تمام مصنفین شامل ہیں۔ ہر دور اور ہر خطہ کے اہل علم نے اپنی بساط کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ پر لکھنے کی سعادت حاصل کی،، اس سعادت میں جس کا بھی حصہ پڑا وہ اپنے نصیب پر بجا طور پر ناز کرسکتا ہے کیوں کہ حب نبوی ﷺ ایک ایسی شاہراہ ہے جس کا مسافر کبھی دل آزردہ یا زمانے سے مرعوب نہیں ہوتا بلکہ وہ اس شاہراہ فلاح پر یوں چلتا رہتا ہے کہ اس کی نگاہ و دل محبت و عقیدت کے عطر سے خوشبوؤں کا مرکز بنے رہتے ہیں ،،اس لیے کہ اس دنیائے فانی میں ایک پسندیدہ کامل زندگی گذارنے کے لیے اللہ رب العزت نے اسلام کو نظامِ حیات اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو نمونہٴ حیات بنایا ہے وہی طریقہ پاکیزہ طریقہ ہوگا جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے قولاً، فعلاً منقول ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ سنت کہلاتا ہے اور آپ نے فرمایا ہے من رغب عن سنتی فلیس منی جس نے میرے طریقے سے اعراض کیاوہ مجھ سے نہیں ہے
۔حضور پاک ﷺ کی پاکیزہ اور مقدس سیرت اس وقت بھی ان انسانوں کے لیے ہدایت کاباعث بنی جو انسانیت سے دور زندگی اور حیوانیت کے دلدادہ ہو چکے تھے۔ آج بھی اس پڑھے لکھے،علم وآگہی اور سائنس کے زمانے میں رشد وہدایت کے متلاشیوں کے لیے تسکین وطمانیت ِ قلب کا سامان مہیا کرتی اور ان کی علمی تشنگیوں کو بھجاتی ہے ۔حضور اکرمﷺ کی سیرت ِ پاک کی جامعیت کایہ پہلو کس قدر تابناک ہے،،،
سیرت نگاری کے کئی پہلو ہیں اور ہر پہلو پر اصحاب علم نے رشحات قلمی سے مختلف گوشوں پر اوراق کو سیاہی سے رونق بخشی ہے جس میں ہر پہلو پر لکھا گیا ہے اور لکھا جارہا ہے یہ سعادت ہے ،،، میرے ہاتھوں میں ایک کتاب ائی ہے جو بہار کے ایک معزز فاضل مکرم جو کئی کتابوں کے مصنف اور داعی ہیں مفتی شکیل منصور جو اپنے علمی تحقیقی فقہی ادبی کمالات کے باعث اہل علم کی صف میں ممتاز و منفرد مقام کے حامل ہیں کی یہ کتاب بنام کتاب جاناں ہے موصوف کا علمی و ادبی تحقیقی ذوق بے حد سلجھا ہوا جس میں اسلوب کی تازگی بیان کی شگفتگی اور بصیرت کا اعلی معیار قارئین کو محو حیرت کر دیتا ہے موصوف کی یہ کتاب جو سیرت نبوی ﷺ کے موضوع پر ان کی اعلی تصنیف ہے یہ محض کتاب ہی نہیں ہے بلکہ سیرت نبوی¡ کی اعلی قدروں کی امیں ہے اور مصنف کی والہانہ محبت و عقیدتوں کی پاکیزہ تعبیر ہے جس صفحہ قرطاس پر مصنف نے بکھیر رکھا ہے
معتبر سیرت نگار حب نبوی اور عشق رسول کو ایمان کی بنیاد واساس تصور کرتا ہے ۔ آپ ﷺ کا نام زبان مبارک پر آتے ہی یا آپﷺ کانام کانوں میں پڑتے ہی احساس وشعور میں سوز وگداز کی برقی لہر دوڑ جاتی اورتفکرات کی لا محدود دنیا میں کھو جاتے ہیں اور پر نم آنکھوں سے آنسووں کی جھڑی لگ جاتی ہے۔ ذکر نبوی کیا چھیڑتے ہیں کہ ان کے جذبات پر رقت کی کیفیت طاری ہوتی ہے،، سیرت نگاری میں کئی مصنفین ایسے گزرے ہیں جو قارئین کو مکہ مدینہ کی سیر ایسے کرادیتے ہیں کہ قاری دوران مطالعہ ان راہوں ، جگہوں ، شخصیات ، میں خود کو محسوس کرتا ہے قاری کو ایسا محسوس ہوتا ہے دوران مطالعہ کہ وہ ان لمحات میں جیسے موجود ہو اور وہ عاشقانہ ان لمحوں کو اپنے لئے باعث سعادت تصور کرتا کے جب وہ سیرت طیبہ کے کسی موڈ پر اداس ہوکر محسوس کرتا ہے کہ اس کی نگاہیں نم ہوگئی ہیں وہ قلب و جگر میں اک ہلچل محسوس کرتا کے کہ در محبت میں جب بھی اسے کسی اذیت و المیہ کا سبق سامنے آتا ہے سیرت نگاروں مین یہ کمال ہے کہ وہ قاری کو کسی بھی صورت کتاب سے جدا ہونے نہیں دیتا بلکہ قاری اسی فکر مین رہتا ہے پھر کیا ہوا کیوں کہ قاری تو اس تصنیف کے اصلی کردار سے والہانہ محبت کے اظہار میں سب کچھ بھول کر بیٹھ جاتا ہے ،،،اللہ تعالی کرت کہ ہم بھی ان میں شامل ہوں جن کے قلوب حب نبوی سے آباد ہوں
کتاب مذکور میں ۱۴ ابواب ہیں ہر باب میں سیرت طیبہ کے مختلف گوشوں کو اجاگر کیا گیا ہے اور ان گوشوں کو قرآن و سنت ، کتب سیرت و تاریخ کی معتبر کتب سے عطر کشید کی گئی ہے تاکہ قارئین کو لطف اندوز ہونے اور شاد کیا جاسکے قارئین کی لطف اندوزی کا سامان بہم رکھا گیا ہے جو قارئین باذوق ہوں اور شوق مطالعہ کے ساتھ ساتھ وہ پاکیزہ جزبوں اور احساسات کے ساتھ امام کائنات تسکیں جاں ﷺ کی پاکیزہ مزاجی اوصاف حمیدہ کے رنگ میں رنگ جانے کے جزبوں سے خود کو آباد رکھنے کا جذبہ رکھتے ہیں،، ان کے لئے مصنف نے محققانہ ذوق وسعت مطالعہ کے ساتھ دل آویز اور خوش کن انداز میں صفحہ قرطاس پر سیرت طیبہ کے گوشوں کو سمیٹا ہے جس کا لفظ لفظ ورق ورق علم و اخلاص اور عشق و محبت رسول ﷺ سے معطر و منفرد ہے ،، اسباق سیرت کو جس ترتیب اسناد و سلاست سے بیان کیا گیا ہے وہ لائق آفرین ہے اور اہل علم کے لئے سرمایہ افتخار اخلاق و شمائل سیر و مغازی سے متعلق مباحث کا تحریری انداز اس قدر نایاب ہے کہ ایسا لگتا ہے کتاب میں شمائل ترمذی ، کتاب المغاذی روح جلوہ گر ہوئی ہے طلبہ و علماء کے ساتھ عوام بھی اس کتاب سے مستفید ہوسکتی ہے کیوں کہ جہان علم و ادب اور استعارات و اسناد کا خیال رکھا گیا ہے وہیں زبان سادہ اور سلیس بھی ہے کہ قاری کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے ،،،
کتاب کے ابواب ایک نظر میں، باب اول میں شخصی خاکہ ، حیات مبارکہ کے مختلف پہلو و واقعات کو نمایاں کیا گیا ہے ،، باب دوم خاندانی تفصیلات ازدواج مطہرات کے تذکرے اولاد وغیرہ کا تذکرہ بالخیر،، باب سوم رفقاء اصحاب کا تذکرہ و احوال مختصر ، باب چہارم خطوط و سفارتی کاوشیں، اور مختلف قوانین و عملے کا تذکرہ، ، باب پنجم ساز و سامان تلواروں کے نام اوصاف پرچم نبوی وغیرہ ،، چھٹا باب سواریوں کی تفصیل، ساتواں باب لباس وغیرہ سامان خانہ وغیرہ آٹھواں باب شمائل مصطفی حسن و کمال کا بیان ،، نواں باب مظہر اخلاق و عادات نبویہ ،، دسواں باب خرد و نوش آداب لباس و پوشاک مبارکہ کا تذکرہ گیارہواں باب وداع جان کائنات اور سفر آخرت کا جاں گداز منظر ،،بارہواں باب وصایا و نصائح ،، تیرواں باب معجزات وغیرہ ،، چودھواں باب غیر مسلم دانشوروں مفکروں اور سیاسی قدآور شخصیات کے ان خیالات و اعترافات پر ہے جو انہوں نے رسول کائنات ﷺ کی ذات گرامی والا کے لئے لکھے یا بیان کئے ہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیرت طیبہ پر قلم اٹھا کر شان رسالت مآب ﷺ میں محبت و عقیدت کے جذبے پیش کرنا زبان و قلم کا سیرت طیبہ کے لمس سے آشنا ہونا اہل ایمان کے لئے افتخار کا باعث ہے یہ ایسے پاکیزہ جذبے ہیں جن پر اہل قلم و زبان نازاں ہوسکتے ہیں ،، امت مسلمہ کے کاندھوں پر سیرت کی جو ذمہ داری بیان کی گئی ہے یہ امت کو بطور امانت سپرد ہوئی ہے یہ سراپا سعادت ہے کہ رحمت عالم فخر عالم ﷺ کی حیات طیبہ کے مختلف گوشوے یاد رکھے جائیں اور ان کو زندگی میں زیور حیات بنا کر رکھا جائے یہی چشمہ حیات پاکیزہ ہے ،عبادات وطاعات سے متعلق آپ کی سیرت طیبہ اور عادات شریفہ پر برابر لکھا اور بیان کیا جاتا رہتا ہے۔ دنیا میں ہر لمحہ ہر آن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرِ خیر کہیں نہ کہیں ضرور ہوگا آپ کی سیرت سنائی اور بتائی جاتی رہے گی پھر بھی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عنوان پُرانا نہیں ہوگا یہی معجزہ ہے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اور یہی تفسیر ہے ”ورفعنالک ذکرک“ کی۔
اسی سے آج بھی مختلف انسانی حقوق و عادات سیراب ہوسکتے ہیں امن عالم کا ضامن یہی اصول ہے یہی فلاح انسانیت کا ضامن ہے کہ حقائق کو جانا جائے اور انہیں زندگی کی کل متاع جان کر اپنایا جائے یہ جو امت مسلمہ مختلف آفات المیوں کی شکار ہے اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ نبوی اخلاق و کردار کا فقدان ہے اور ناکامی و نامرادی ان کے حصے میں آئی ہے ،، مصنف جناب مفتی شکیل منصور قاسمی کی خدمت میں علامہ اقبال کے یہ محبانہ اشعار ہدیہ کرتا ہوں اس امید و یقین کے ساتھ کہ ان کا یہ سفر جاری رہے گا
خوف کہتا ہے کہ ” یثرب کی طرف تنہا نہ چل
شوق کہتا ہے کہ ” تو مسلم ہے بیباکانہ چل“
گو سلامت محمل شامی کی ہمراہی میں ہے
عشق کی لذت مگر خطروں کی جاں کاہی میں ہے
کتاب جاناں مجھ جیسے طالب علم کو دینے کا شکریہ کہ آپ نے اپنے علمی و ادبی تحقیقی ذوق سے آراستہ کتاب جاناں دی جو میرے لئے سرمایہ افتخار ہے دعا گو ہوں بارگاہ صمدیت میں کہ آپ کو علوم و معارف کا وہ ذائقہ نصیب ہو جس سے آپ کا
وجود اور آپ کے متعلقین خوشبوؤں کی طرح مہکتے رہیں
🖊 الطاف جمیل شاہ سوپور کشمیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتابِ جاناں — جمالِ حرف و زادِ آخرت

کتابِ جاناں خود مؤلفِ ناچیز کی نظر میں اس کے لئے زادِ آخرت وتوشۂِ معاد کے سوا کچھ نہیں ! یہ تو اہلِ علم ونظر کا کمالِ فضل ہے کہ اس بضاعۃ مزجاۃ کو دعائیہ کلمات اور نظرِ تحسین سے نوازا، جو ان کی عنایت و بزرگواری کی دلیل ہے۔
اسی عنایت کی ایک کڑی رفیق حلقہ ہذا ، مکرمی مولانا زعیم الاسلام صاحب قاسمی اڑیسوی زید مجدہ کا یہ نہایت دلکش منظوم خراجِ تحسین ہے۔ اگرچہ ناچیز کو ان سے سابقہ شناسائی نہ تھی، مگر حسنِ نظم اور کششِ کلام نے دل کو متاثرکیا اور محبت کا رشتہ قائم کیا۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ موصوف کو سلامت و باکرامت رکھے اور ان کے قلم کو ہمیشہ رواں و درخشاں رکھے،آمین ۔
شکیل منصور القاسمی
بدھ 25؍صفر المظفر 1447ھ 20؍اگست 2025ء
سرورِ قلب و نظر ہے بیشک، کتابِ جاناں
سراپا یہ پر اثر ہے بیشک، کتابِ جاناں
حروف مشکِ ختن کے جیسے مہک رہے ہیں
نسیم و بادِ سحر ہے بیشک، کتابِ جاناں
ورق ورق پر ہے ماہِ کامل کی ضو فشانی
طلسمِ حرفِ اثر ہے بیشک، کتابِ جاناں
نبیِ خاتم کی چونکہ سیرت بیاں ہے اس میں
اسی لیے معتبر ہے بیشک، کتابِ جاناں
ہمارے پیشِ نظر ابھی ہیں کئی کتابیں
حسین تحفہ مگر ہے بیشک، کتابِ جاناں
شکیل صاحب کا حسن تالیف خوب تر ہے
قلم کا نادر ہنر ہے بیشک، کتابِ جاناں
نظر زعیمی ٹکی ہوئی ہے سرِ ورق پر
جمالِ رنگِ دگر ہے بیشک، کتابِ جاناں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عکسِ محبوب
از قلم: شارحِ صحیح البخاری حضرت مولانا مفتی محمد فہیم الدین صاحب قاسمی بجنوری مدظلہ العالی

محبوب پر لکھنا آسان نہیں، تعبیر اور تخیل میں خلیج رہ جاتی ہے، ہر نقش ناتمام، ہر خاکہ نا رسا اور ہر پہل سراپا خجل محسوس ہوتی ہے، جائے رفتن نہ پائے ماندن کا حقیقی انطباق یہیں ہے، بیان سے مفر نہیں، ان کا ذکر نہ چھیڑیں تو دولتِ بیان بے مصرف ہے، نغمہ سنجی اختیار کریں تو خوفِ جسارت اور اندیشۂ بے ادبی، آخرش “تو کجا من کجا” کی پناہ کام آتی ہے۔
عزیز دوست، نامور قلم کار، صاحب علم وفکر، بافیض موسوعی شخصیت، مفتی شکیل منصور قاسمی حفظہ اللہ کا ساڑھے تین سو صفحات سے متجاوز “خراج عشق” پڑھا، ایمان میں تازگی اور روح میں بالیدگی کے لمحات کا سحر ناقابل بیان ہے، ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں آپ کا، ہم مخمور کیوں کر نہ ہو تے؟ بجلی گذرتی رہی اور ہم سراپا مبہوت رہے! ہمدم! کتاب لکھی ہے یا اعجاز کیا ہے؟
وہ کوئے دلبر میں والہانہ وارد ہوتے ہیں، خاکِ پاک کے رشکِ نجوم ذروں کو سمیٹتے ہیں، ارض وحی کی شہادتیں جمع کرتے ہیں، سدا بہار نغموں کو نیا ساز دیتے ہیں، گلشنِ نبوت کے لازوال گلوں اور گلدستوں کو اپنی طرح سے آراستہ کرتے ہیں، روایت کے خزانوں میں تازہ کاری کے جوہر دکھاتے ہیں، ماضی کے رخ روشن کو جدید آئینہ عطا کرتے ہیں، گذرے کل کو آج اور آئندہ کل کا تناظر بخشتے ہیں اور اپنی نوع بہ نوع جادو گری سے کاروان سیرت کی روانی اور جاودانی کو نئے معانی دیتے ہیں۔
“کتاب جاناں” کا مطالعہ سیرت کا ہم سفر بنا دیتا ہے، بیان کا تاثر صدیوں کے پردے اٹھا دیتا ہے؛ یہاں تک کہ آپ کی ذات میں ایک افتراضی وجود جنم لیتا ہے اور چودہ سو سالہ دورانیہ لپٹ جاتا ہے، آپ خود کو زیارت گاہِ ملائک کا مکین محسوس کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت نمایاں ہوتی ہے، ایک سماں ابھرتا ہے، جہاں رہ گذر ہے، منزلیں ہیں اور ایک ہم سفر ہے: جانِ حیات، جانِ جاں، جانِ جاناں، دلبرِ ہر جہاں۔
مفتی صاحب نے داستانِ محبت کو اپنی فن کاری، جوہر، سلیقہ مندی، گرفت، کمال اور قابلیت سے زندہ، متحرک، محسوس اور دیدہ کردار میں پیش کیا ہے، وہ بلا کے داستان گو نکلے، قاری کو باندھ لیا ہے، وہ سیرت کے نقوش کا اسیر ہو جاتا ہے، اتار چڑھاؤ کا ساتھی بن جاتا ہے، جذبات میں یک جہت، ہم آہنگ اور شریک ٹھہرتا ہے، مصنف موصوف ہر موڑ پر حاوی ہیں، قاری کو پر تاثر رکھتے ہیں، نظاروں سے گزارتے ہیں، آگے بڑھتے ہیں، پیچھے مڑ کر بھی دیکھتے ہیں، کمال ہنر مندی سے داستانِ ہزار رنگ کو مسلسل، مربوط اور ہم رشتہ رکھتے ہیں۔
“کتاب جاناں” اپنی جامعیت میں دریا بکوزہ ہے، سیرت بیانی تک محدود نہیں، سیرت کی بحثیں بھی جزو کتاب ہیں، مضامین سیرت نے اسے دفاع سیرت کا حسین مرقع بنا دیا ہے، مفتی صاحب موصوف نے سلگتے موضوعات کو شامل رکھا ہے، تعداد ازواج کی بحث عمدہ ہے، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سن وسال کا دفاع معقول اور متوازن ہے، جہاد کی تحقیق قابل دید ہے، یہ دفاعی ابحاث کتاب کے عالمانہ رنگ اور محققانہ شان کو نمایاں کرتی ہیں۔
چودہ ابواب پر مشتمل تصنیف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے تمام زاویوں کا احاطہ کرتی ہے، ذاتی کوائف سے شروع ہونے والے سلسلے کی ہر کڑی اور ہر باب آفتاب و ماہتاب ہے، ہر باب کی رعنائی آپ کو متاثر کرے گی، ہر بحث کا کمال اعصاب گیر ہوگا، داد تحسین کے لیے ایک باب کا انتخاب آپ کی قوت ارادی کو بار بار متزلزل کرے گا؛ تا آں کہ آپ پکار اٹھیں کہ ایں خانہ ہمہ آفتاب است۔
مفتی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ تعلق خاطر کے گرز سے راقم کا تعطل وجمود ریزہ ریزہ کیا، کتاب پڑھنے پر مجبور کیا، جزاک اللہ کہ چشمم باز کردی مرا با جانِ جاں ہم راز کردی، مطالعہ کتب کے دس رنگ ہیں، لکھنے اور تبصرے کے لیے پڑھنا سب سے گہرا اور شوخ ہے، اس لیے زیر بحث سیر کا لطف اور مزہ خاص تھا۔
صاحبِ کتاب، صاحب کتب ہیں، ان کا فعال وفیاض قلم متواتر بر سرِ شغل رہتا ہے، آپ متعدد علمی، فکری اور تخلیقی عجائبات کے نقاش ہیں، جنھیں اہل علم اور ارباب ذوق کا اعتبار واعتماد اور قارئین کا بہترین خراج تحسین حاصل ہوا، امید ہے کہ تازہ کاوش بھی حسب سابق قبولیت و مقبولیت سے ہم کنار ہوگی، اللہ تعالی کتاب اور صاحب کتاب کو دونوں جہاں کی سرخ روئی نصیب فرمائے، نفع عام وتام فرمائے، آمین۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قصیدۂ کتابِ جاناں ﷺ

سلام اس صحیفے پہ، نُورِ مبیں ہے
سخن اس کا کوثر، بیاں یاسمیں ہے

ہر اک باب خوشبوئے طیبہ سے لبریز
ہر اک سطر رشکِ گلِ نسترن ہے

یہ “جاناں” ہے دراصل آئینۂ دل
کہ جس میں جھلکتا جمالِ حسنِ امیں ﷺ ہے

ادب اس کے دامن میں گویا صنم ہے
فقاہت کی رفعت یہاں خوش نشیں ہے

سخن میں ہے سوزِ محبّت کی گرمی
معانی میں حکمت کی برقِ یقیں ہے

قلم نے دکھایا وہ رخ مصطفائی ﷺ
کہ جس پر دل و جاں فدا، روح قریں ہے

شکیلؔ القاسمی کے فن کی ضیاء ہے
کہ جس سے دلوں میں چراغاں مبیں ہے

وہی ہیں کہ جن کی بصیرت یگانہ
کہ جن کا کمالِ سخن دل نشیں ہے

اکابر نے جب اس کتاب کو دیکھا
تو ہر سمت تحسین کا اک سُناں ہے

کہا: “یہ صحیفہ ہے عِلمی فخر
یہ ہر بزمِ دانش کی زینت مبیں ہے”

یہ “جاناں” فقط اک کتاب نہیں ہے
یہ اُمت کی جاں ہے، یہ روحِ دِین ہے

یہ مہکی ہوئی گلشنِ نعت و سیرت
یہ ہر قافلہ کا چراغِ رہیں ہے

(بہ شکریہ یکے از محب مخلص )
یکم ربیع الاول 1447ھ 25؍اگست 2025ء

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتاب: کتابِ جاناں صلی اللہ علیہ وسلم
مصنف: مفتی شکیل منصور القاسمی
صفحات: ۳۸۲
ناشر: مرکز البحوث الاسلامیہ العالمیّ
تعارف و تبصرہ: کلیم احمد نانوتوی

سیرتِ رسول پر بے شمار کتابیں لکھی گئیں اور مختلف زبانوں میں مختلف رنگ ڈھنگ کے ساتھ لکھی گئیں، قلم کاروں نے اس موضوع پر خامہ فرسائی کو اپنے لیے سعادت جانا تو مصنفوں نے اس کے ذریعے دارین کی خیر کا دروازہ کھٹکھٹایا، اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا۔ کچھ دنوں قبل علمی حلقوں میں بڑا نام رکھنے والے، اکابر کے معتمد مصنفِ کتاب کی جانب سے کتابِ جاناں کا قیمتی ہدیہ موصول ہوا، مطالعے کی میز پر رکھا اور عشق و عقیدت سے پڑھنا شروع کیا تو یوں محسوس ہوا کہ کوئی عاشق اپنے معشوق کی ادائیں، نقوش اور حرکات و سکنات کو سلیقے سے موتیوں کی لڑی کی مانند پرو رہا ہے، ہر ہر واقعے کا حوالہ، ہر بات مستند اور ہر فرمان پر حدیث یا تاریخ کی شہادت پیش کی گئی ہے۔ خود مصنف کی نگاہ سے دیکھیں تو کتاب کا تعارف کچھ یوں ہے:

“زینتِ بحر و بر، رونقِ آسماں، وجہِ تخلیقِ کون و مکاں، محبوبِ ربّ دو جہاں حضور سید لولاک صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت، اخلاق، اوصاف و شمائل کا حسین گلدستہ”۔
سیرتِ رسول پر لکھی گئی کتابوں کی فہرست کو اگر چمکتے ستاروں سے تعبیر کیا جائے تو کتابِ جاناں اس کہکشاں کا وہ روشن تارا ہے جو محبت، عقیدت اور فصاحت کی روشنی سے دلوں کو منور کرتا ہے۔ کتاب میں ایک طرف غیر مستند اور سطحی و فرضی واقعات سے کنارہ کشی اختیار کی گئی ہے تو وہیں دوسری طرف مستند اور ثابت شدہ واقعات کو حوالوں سے مزین کر کے پیش کیا گیا ہے۔ کتاب نہ بہت مختصر ہے کہ قاری کو سمجھنا دشوار ہو اور نہ بہت مطوّل کہ ایک ہی واقعے یا ایک ہی مضمون کے پیچھے ساری توانائی صرف کی گئی ہو۔ چودہ ابواب میں سے ہر باب اپنے آپ میں ایک معنویت رکھتا ہے۔
الغرض کتابِ جاناں صرف سیرت کی ایک کتاب نہیں؛ بل کہ یہ عشقِ رسول میں ڈوبی ہوئی وہ تحریر ہے، جس کے ہر ورق سے عقیدت ٹپکتی ہے، اور ہر صفحہ قاری کو قلبی سرشاری عطا کرتا ہے۔ اس میں بیان کردہ واقعات محض تاریخ نہیں، بلکہ روحانی کیفیات ہیں جو قاری کو دورِ نبی میں لے جاتے ہیں، اور دل نبی کے قدموں میں جا ٹھہرتا ہے۔
مصنف نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت کو جس انداز میں رقم کیا ہے، وہ ایک عاشقِ صادق ہی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ زبان دل آویز، اسلوب مؤثر، بیان دل نشین، اور جذبات بے مثال۔ ہر باب ایک نیا جذب، ہر سطر ایک نیا رنگ لیے ہوئے ہے۔ اکابر علما کی تائید و تحسین نے کتاب کے اعتبار کو وقار بخشا ہے اور مصنف نے کتاب کے آخری باب میں پندرہ مشہور غیر مسلم مفکرین کی شہادت پیش کر کے چار چاند لگا دیے ہیں۔
یہ کتاب اُن لوگوں کے لیے ہے جو سیرت کو صرف جاننا نہیں، محسوس بھی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ محض مطالعہ نہیں، ایک وجدانی سفر ہے، جو دل کو عشقِ مصطفیٰ کی روشنی میں نہلا دیتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتابِ جاناں”: سیرتِ نبویؑ کا معتبر و شفاف آئینہ

سیرت، تحقیق اور عشقِ رسولؑ کی علمی تعبیر کا سنگم

✍ جلیل القاسمی
نائب قاضی و استاذ مدرسہ
بدر الاسلام، بیگوسرائے، بہار

سرزمینِ بیگوسرائے علم و فضل کی روایات میں ہمیشہ زرخیز رہی ہے۔ اس مردم خیز خطے نے امت کو جو قابلِ فخر فرزند عطا کیے، ان میں نامور محقق، جید عالم و فقیہ اور صاحبِ طرز ادیب ہمارے سینئر برادر مکرم مولانا مفتی شکیل منصور القاسمی کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ ان کا تعلق دارالعلوم دیوبند کے اس فیض یافتہ قافلے سے ہے جس نے علم کو اخلاص، تحقیق کو دیانت اور قلم کو مقصدیت عطا کی۔
راقم کے لیے یہ نسبت باعثِ مسرت بھی ہے اور موجبِ شرف بھی کہ دارالعلوم دیوبند میں وہ ہم سے ایک سال سینئر رہے اور آج علمی و تصنیفی افق پر ایک روشن، معتبر اور مستند حوالہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مولانا مفتی شکیل منصور القاسمی ان اہلِ علم میں سے ہیں جن کی تحریروں میں فقاہت کی پختگی، تحقیق کی گہرائی اور ادب کی شائستگی یکجا ہو جاتی ہے۔ ان کا قلم نہ سطحی ہے اور نہ محض جذباتی؛ بلکہ دلیل، توازن اور حسنِ بیان کا ایسا حسین امتزاج پیش کرتا ہے جو قاری کو فکری اطمینان بھی دیتا ہے اور قلبی سرشاری بھی۔ یہی اوصاف ان کی تازہ اور وقیع تصنیف “کتابِ جاناں” میں پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔

“کتابِ جاناں” محض سیرتِ نبوی کی ایک کتاب نہیں، بلکہ عشقِ رسول، دیانتِ تحقیق اور حسنِ ترتیب کا ایسا دل نشیں سنگم ہے، جو قاری کے دل و ذہن کو بیک وقت مسخر کر لیتا ہے۔ مطالعے کے دوران یوں محسوس ہوتا ہے گویا مؤلف نے قلم نہیں اٹھایا، بلکہ محبت کو لفظوں میں ڈھال دیا ہے۔

اس تصنیف میں سیرتِ طیبہ کو روایت کے احترام اور تحقیق کے وقار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ قرآن و سنت، معتبر کتبِ سیر و تاریخ اور صحیح احادیث سے ماخوذ مواد نہایت سلیقے سے مرتب کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ہر باب علمی اعتماد کے ساتھ روحانی تاثیر بھی رکھتا ہے۔ اسلوب میں محدثانہ متانت کے ساتھ ادیبانہ لطافت اور بیانیہ حسن نمایاں ہے۔

چودہ ابواب پر مشتمل یہ کتاب نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے متنوع گوشوں کو اس طرح محیط ہے کہ قاری کو ایک جامع، مربوط اور ہمہ جہت سیرت نگاری کا ذوق حاصل ہوتا ہے۔ شمائل و اخلاق، سیر و مغازی، معاملات و عادات، دلائل و معجزات اور غیر مسلم مفکرین کی آرا—ہر موضوع اپنے مقام پر توازن اور اعتدال کے ساتھ پیش ہوا ہے۔ خصوصاً اخلاق و شمائل سے متعلق مباحث دل میں عشقِ رسول کی ایسی حرارت پیدا کرتے ہیں جو دیرپا تاثیر رکھتی ہے۔

کتابِ جاناں دفاعِ سیرت کے میدان میں بھی ایک سنجیدہ، مضبوط اور معقول آواز ہے۔ معاصر اور حساس اعتراضات کو علمی متانت، شائستگی اور مدلل اسلوب میں پیش کرنا مؤلف کے محققانہ مزاج کا روشن ثبوت ہے۔ اسی بنا پر یہ کتاب نہ صرف ذوقِ مطالعہ کے لیے مفید ہے بلکہ تدریس اور فکری رہنمائی کے لیے بھی نہایت موزوں ہے۔

سیرتِ نبوی کا مطالعہ محض تاریخ کا مطالعہ نہیں، بلکہ ایمان کی تجدید، عمل کی اصلاح اور فکر کی رہنمائی کا مؤثر ذریعہ ہے۔ اسی شعور نے اردو زبان میں سیرتِ پاک کا ایک عظیم اور قابلِ فخر ذخیرہ تیار کیا ہے۔ علامہ شبلی نعمانی و سید سلیمان ندوی کی سیرت النبی، سید مناظر احسن گیلانی کی النبی الخاتم، سید ابو الحسن علی ندوی کی نبی رحمت، مولانا ادریس کاندھلوی کی سیرت المصطفی، قاضی سلیمان منصورپوری کی رحمة للعالمین، جسٹس کرم شاہ کی ضیاء النبی اور مولانا صفی الرحمن مبارک پوری کی الرحیق المختوم جیسی تصانیف اس روایت کی روشن مثالیں ہیں۔ ایسے بھرپور پس منظر میں “کتابِ جاناں” کا منظرِ عام پر آنا اس تسلسل کی خوشگوار توسیع اور ایک وقیع اضافہ ہے۔

کتابِ جاناں محض ایک دل فریب عنوان نہیں، بلکہ مؤلف کے قلبی تعلق، والہانہ وابستگی اور عشقِ رسولؑ کا بلیغ اظہار ہے۔ یہ نام خود اس حقیقت کا اعلان ہے کہ فلاح، نجات اور کامیابی کا راستہ صرف وابستگیِ رسولؑ میں مضمر ہے۔

مفتی شکیل منصور القاسمی نے اس تصنیف میں قرآن و سنت اور معتبر مآخذ سے نہایت محنت، دیانت اور سلیقے کے ساتھ مواد جمع کیا ہے۔ تحقیقی منہج واضح، حوالہ جات مستند اور اسلوب شستہ و دل نشیں ہے۔ ہر سطر میں اخلاص کی خوشبو اور ہر صفحے پر محبتِ رسول کی روشنی محسوس ہوتی ہے۔

مختصر یہ کہ “کتابِ جاناں” سیرت نگاری کے میدان میں ایک وقیع، معتبر اور قابلِ اعتماد اضافہ ہے، جو علم کو وقار، تحقیق کو اعتماد اور محبت کو زبان عطا کرتی ہے۔ مؤلفِ محترم اس عظیم خدمتِ نبویؑ پر بجا طور پر داد و تحسین کے مستحق ہیں۔ راقم سطور انھیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو بارگاہِ رسالت مآب میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے امت کے لیے نفع بخش اور مؤلف موصوف کے لیے ذخیرۂ آخرت بنائے۔
آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین۔
04/01/2026

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیرت نبوی کا شاہکار ‘”کتابِ جاناں ﷺ” کا ورودِ مسعود

✍ محمد توصیف قاسمی

مرزا غالب سے معذرت کے ساتھ شعر پیش ہے:
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
بیٹھے رہیں تصور ’’کتابِ جاناں‘‘ کئے ہوئے
حضرت مولانا مفتی شکیل احمد Shakeel Ahmad صاحب دامت برکاتہم سے میرا رابطہ نو سال سے زیادہ کا ہوچکا ہے،اپنے طالب علمانہ مزاج مذاکرہ و نقد کے سبب ان سے میں ایسے ہی کسی علمی مسئلہ پر بحث کرلیتا تھا جیسے شرکاء درس آپس میں کرلیتے ہیں، بغیر اس بات کو جانے کہ وہ کس عمر و مرتبہ کے ہیں، ان کا علم و عمل میں مقام کیا ہے؟کوئی اور ہوتا تو اسے منھ پھٹ کہہ کر پیچھا چھڑالیتا، مگر یہی مفتی صاحب تھے جنھوں نے میری بہت سی علمی و فکری سوالات کو جواب فراہم کئے، بہت سے آداب سکھائے، لیکن مجھے یہ سمجھتے زیادہ دیر نہیں لگی کہ میں جس ساحل پر بیٹھا ہوں وہ کوئی کنواں نہیں ، ایک دریا ہے، جس سے میں مستفید ہوا اور خوب ہوا۔
کون کہتا ہے کہ سوشل میڈیا کےنتائج سو فیصد خراب ہوتے ہیں، ہمیں تو سوشل میڈیا اورواٹسپ نے مفتی شکیل صاحب دیئے اور انھوں نے سوشل میڈیا کو ’’مرکز البحوث الاسلامیۃ العالمی’’ دیا، جو اپنے آپ میں علم و تحقیق، فکری بالیدگی، ادب و اسلوب کا ایک عمدہ اور نمایاں ترین پلیٹ فارم ہے، پھر اس کے ذریعہ انھوں نے بھی خوب کام کئے اور اس “منہل علمی” سے ہمیں بھی سیرابی کی توفیق ہوئی، مجھے کتنے ہی کاموں کی تحریک ، نوبت اور ہمت اسی قافلۂِ علم و ادب سے ہوئی،میرے سوا بھی بہت سے احباب اس بات کے معترف و مشکور ہیں انھیں یہاں کی علم تحقیق کی مجالس سے بے پناہ فائدہ ہوا۔
مجھے اس سے کیاکیا فائدہ ہوا؟ یہ بہت معمولی بات ہے، اور یہاں موضوع بحث نہیں، لیکن عوام و خواص کا کیا فائدہ ہوا ؟ یہ ضرور موضوع سخن بنانے کے لائق ہے، مگر مفصل ہے، اس تناور درخت کی ایک عمدہ ترین شاخ اور پہلو پر آج ہم نظر ڈالتے ہیں ، اور اس کا نام ہے:’’ کتابِ جاناں ﷺ‘‘۔
سبحان اللہ! نام ہی ایسا لذیذ و محبت بھرا ہے کہ کتاب کا نام لینے سے ہی دل کی امنگیں وادیِ حجاز کی طرف سَرنِگوں ہوجاتی ہے،اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ’’جاناں شخصیت ‘‘ ( محبوب از جان وجہاں )کی دلکش تصویر قلب و اعصاب پر طاری ہونے لگتی ہے، وہی تو مخلوق میں یکتا ایسے لاڈلے وجاناں ہیں جن کی شخصیت میں کھو جانا عین عبادت ہے، ان میں فنا ہوجانا عین رضا ہے، خود خالق کائنات جس جاناں کی مدح و توصیف میں ہوں ، وہی تو ہیں جنہیں اِس کتاب نے اور اس کے مصنف نے ذکر اورستائش کا مرکز بنایا ہے۔
اور پھر جب آپ کتاب کے اوراق پلٹتے ہیں تو ایک ایک واقعہ اس وادی میں ہوتا نظر آنے لگتا ہے، ہاں کیا بتائیں کچھ ایسی ہی منظر کشی ہوئی ہے “کتابِ جاناں” میں، یہ ذکر ولادت ہے، اُدھر شق صدر کی گھڑی ہے، ذکر مقربین ہے تو تذکرہ انصار و مہاجرین ہے، اور لیجئے کہ شمائل محبوب کے عنوان دیکھئے، ’’جلوہائےحسن وکمال‘‘، ’’زلف نبویﷺ کی دلنشین کیفیات‘‘،’’رخسار جاناں کی تابانی‘‘ ’’جمالِ دہنِ مصطفوی‘‘سبحان اللہ ! محبوب کا ذکر جس محبوبیت و لذت کے ساتھ ہونا چاہئے اس کا پورا عکس نظر آتا ہے، مگر مجال ہے کہ اس ناز محبوبی میں عظمت و علو مقام کا کہیں دامن ہاتھ سے چھوٹا ہو، کمال ہے اور بڑا کمال ہے کہ محبت و عظمت کے توازن کو قلم نے ایسا سلیس جامہ دیا ہے کہ ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا نعرہ زبان سے خود بخود نکل آتا ہے۔
سیرت پاک ﷺ کے لئے کسی منجھے اور سلجھے ہوئے قلم کا چل جانا ایک عظیم الشان نعمت و سعادت ہے، پھر اگر اس میں علمی کمال اور تحقیق شامل ہوتو کیا کہنا۔
کتاب جاناںﷺ کی خصوصیت میری نظر میں یہ ہے کہ اس کےانداز نگارش میں بڑا تنوع ہے، جس میں سیرت و سوانحی پہلو بھی بڑی جامعیت کے ساتھ سما جاتے ہیں، قبل نبوت، عطاء نبوت، اہل بیت نبوت کو بڑی محبت اور چاشنی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، پھر جو ابواب لائے گئے ہیں وہ ایک ایک باب مستقل رسالہ اور کتاب ہے، ایک باب رفقاء خواص اور اصحاب کرام رضی اللہ عنہم پھر خطوط و موالی، اسباب و سامان، پھر شمائلِ نبوی ، دس اخلاق عظیمہ ، سو اوصاف کریمانہ ، 100 معجزات نبوی، 20 نبوی وصیتیں، ذات نبوی غیر مسلم مفکرین کی نظر میں، اس طرح یہ کتاب خواص کے لئے تحقیق اور عوام کے لئے پیغام سیرت کا ایک جامع اور دلکش مجموعہ بن گئی ہے۔
تحریر و اسلوب پر مجھ جیسا ’’بے ادب‘‘ کیا تبصرہ کرسکتا ہے؟ تاہم تاثر تو پیش کر ہی سکتا ہوں کہ الفاظ و اسلوب ، حسن تعبیر جگہ جگہ دل موہ لیتی ہے، ایک تو ذکر جاناں اور پھر اس کی تجسیم ومنظر کشی ایسی حسین تعبیرات و کلمات سے ہوئی ہوتو حسن دوبالا ہونا ہی ہے۔
علماء نے لکھا ہے کہ سیرت نبوی سے وابستگی، اس کا علم و تحقیق، تدریس و تذکرہ ایمان کا براہ راست حصہ ہے، نیز عقیدہ توحید و رسالت کو ہر لحاظ سے مضبوط کرنے والا ہے، اور واقعہ یہ ہے کہ سیرت نبویﷺ کا مطالعہ ایمان کو وہ تازگی دیتا ہے جو دوسری بڑی کم ہی چیزوں سے میسر آتی ہے،کم ازکم انسانی کلاموں میں سب سے زیادہ محرکِ ایمان یہی ہے، آج کے کفر و ارتداد کے دور مین اس کا جتنا درس و مطالعہ ہو کم ہے۔
کتاب کی طباعت 80 گرام اعلی کاغذ پر ہوئی ہے، دیدہ زیب ٹائٹل ہے، کتاب رمضان میں طبع ہوگئی تھی، کسی مصلحت سے میرا اصرار تھا کہ ڈاک کے بجائے کسی کے ہاتھوں بھیجی جائیں، ابھی چند دن قبل کتاب مجھے پہنچی ہے۔
مگر اس خوشخبری کے ساتھ کہ نیا ایڈیشن بھی تیار ہوچکا ہے، پہلی طباعت میں جو بعض غیر ارادی ٹیکنیکل خامیاں در آئی تھیں انہیں نئے ایڈیشن میں درست کرلیا گیا ہے۔وللہ الحمد!
میں مبارکباد پیش کرتا ہوں مصنفِ گرامی حضرت مولانا مفتی شکیل احمد صاحب مدظلہ العالی کو ؛ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں سیرت پاک ﷺ لکھنے کی سعادت رکھی، آگے قارئین کا حق ہے کہ وہ اس ایمانی شعلہ سے اپنے سینے میں کتنی ہلکی و تیز ایمانی لَو لگاتے ہیں۔ واللہ ولی التوفیق

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Scroll to Top