شاتمِ رسول کعب بن اشرف کا انجامِ بد !

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا؟ وہ اللہ اور اس کے رسول کو بہت ستا رہا ہے۔“ اس پر محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ اجازت دیں گے کہ میں اسے قتل کر آؤں؟ آپ نے فرمایا ”ہاں مجھ کو یہ پسند ہے۔“ انہوں نے عرض کیا، پھر آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں کہ میں اس سے کچھ باتیں کہوں آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ اب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کعب بن اشرف کے پاس آئے اور اس سے کہا، یہ شخص (اشارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا) ہم سے صدقہ مانگتا رہتا ہے اور اس نے ہمیں تھکا مارا ہے۔ اس لیے میں تم سے قرض لینے آیا ہوں۔ اس پر کعب نے کہا، ابھی آگے دیکھنا، خدا کی قسم! بالکل اکتا جاؤ گے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا، چونکہ ہم نے بھی اب ان کی اتباع کر لی ہے۔ اس لیے جب تک یہ نہ کھل جائے کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے، انہیں چھوڑنا بھی مناسب نہیں۔ تم سے ایک وسق یا (راوی نے بیان کیا کہ) دو وسق غلہ قرض لینے آیا ہوں۔ اور ہم سے عمرو بن دینار نے یہ حدیث کئی دفعہ بیان کی لیکن ایک وسق یا دو وسق غلے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ میں نے ان سے کہا کہ حدیث میں ایک یا دو وسق کا ذکر ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرا بھی خیال ہے کہ حدیث میں ایک یا دو وسق کا ذکر آیا ہے۔ کعب بن اشرف نے کہا، ہاں، میرے پاس کچھ گروی رکھ دو۔ انہوں نے پوچھا، گروی میں تم کیا چاہتے ہو؟ اس نے کہا، اپنی عورتوں کو رکھ دو۔ انہوں نے کہا کہ تم عرب کے بہت خوبصورت مرد ہو۔ ہم تمہارے پاس اپنی عورتیں کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں۔ اس نے کہا، پھر اپنے بچوں کو گروی رکھ دو۔ انہوں نے کہا، ہم بچوں کو کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں۔ کل انہیں اسی پر گالیاں دی جائیں گی کہ ایک یا دو وسق غلے پر اسے رہن رکھ دیا گیا تھا، یہ تو بڑی بے غیرتی ہو گی۔ البتہ ہم تمہارے پاس اپنے «اللأمة» گروی رکھ سکتے ہیں۔ سفیان نے کہا کہ مراد اس سے ہتھیار تھے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس سے دوبارہ ملنے کا وعدہ کیا اور رات کے وقت اس کے یہاں آئے۔ ان کے ساتھ ابونائلہ بھی موجود تھے وہ کعب بن اشرف کے رضاعی بھائی تھے۔ پھر اس کے قلعہ کے پاس جا کر انہوں نے آواز دی۔ وہ باہر آنے لگا تو اس کی بیوی نے کہا کہ اس وقت (اتنی رات گئے) کہاں باہر جا رہے ہو؟ اس نے کہا، وہ تو محمد بن مسلمہ اور میرا بھائی ابونائلہ ہے۔ عمرو کے سوا (دوسرے راوی) نے بیان کیا کہ اس کی بیوی نے اس سے کہا تھا کہ مجھے تو یہ آواز ایسی لگتی ہے جیسے اس سے خون ٹپک رہا ہو۔ کعب نے جواب دیا کہ میرے بھائی محمد بن مسلمہ اور میرے رضاعی بھائی ابونائلہ ہیں۔ شریف کو اگر رات میں بھی نیزہ بازی کے لیے بلایا جائے تو وہ نکل پڑتا ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ جب محمد بن مسلمہ اندر گئے تو ان کے ساتھ دو آدمی اور تھے۔ سفیان سے پوچھا گیا کہ کیا عمرو بن دینار نے ان کے نام بھی لیے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ بعض کا نام لیا تھا۔ عمرو نے بیان کیا کہ وہ آئے تو ان کے ساتھ دو آدمی اور تھے اور عمرو بن دینار کے سوا (راوی نے) ابوعبس بن جبر، حارث بن اوس اور عباد بن بشر نام بتائے تھے۔ عمرو نے بیان کیا کہ وہ اپنے ساتھ دو آدمیوں کو لائے تھے اور انہیں یہ ہدایت کی تھی کہ جب کعب آئے تو میں اس کے (سر کے) بال ہاتھ میں لے لوں گا اور اسے سونگھنے لگوں گا۔ جب تمہیں اندازہ ہو جائے کہ میں نے اس کا سر پوری طرح اپنے قبضہ میں لے لیا ہے تو پھر تم تیار ہو جانا اور اسے قتل کر ڈالنا۔ عمرو نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ پھر میں اس کا سر سونگھوں گا۔ آخر کعب چادر لپیٹے ہوئے باہر آیا۔ اس کے جسم سے خوشبو پھوٹی پڑتی تھی۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا، آج سے زیادہ عمدہ خوشبو میں نے کبھی نہیں سونگھی تھی۔ عمرو کے سوا (دوسرے راوی) نے بیان کیا کہ کعب اس پر بولا، میرے پاس عرب کی وہ عورت ہے جو ہر وقت عطر میں بسی رہتی ہے اور حسن و جمال میں بھی اس کی کوئی نظیر نہیں۔ عمرو نے بیان کیا کہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا، کیا تمہارے سر کو سونگھنے کی مجھے اجازت ہے؟ اس نے کہا، سونگھ سکتے ہو۔ راوی نے بیان کیا کہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس کا سر سونگھا اور ان کے بعد ان کے ساتھیوں نے بھی سونگھا۔ پھر انہوں نے کہا، کیا دوبارہ سونگھنے کی اجازت ہے؟ اس نے اس مرتبہ بھی اجازت دے دی۔ پھر جب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اسے پوری طرح اپنے قابو میں کر لیا تو اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ تیار ہو جاؤ۔ چنانچہ انہوں نے اسے قتل کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کی اطلاع دی۔(صحیح البخاری ، كِتَاب الْمَغَازِي. بَابُ قَتْلُ كَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ)
مَن لِكَعْبِ بنِ الأشْرَفِ، فإنَّه قدْ آذَى اللَّهَ ورَسولَهُ، فَقامَ مُحَمَّدُ بنُ مَسْلَمَةَ فقالَ: يا رَسولَ اللَّهِ، أتُحِبُّ أنْ أقْتُلَهُ؟ قالَ: نَعَمْ، قالَ: فَأْذَنْ لي أنْ أقُولَ شيئًا، قالَ: قُلْ، فأتاهُ مُحَمَّدُ بنُ مَسْلَمَةَ فقالَ: إنَّ هذا الرَّجُلَ قدْ سَأَلَنا صَدَقَةً، وإنَّه قدْ عَنَّانا وإنِّي قدْ أتَيْتُكَ أسْتَسْلِفُكَ، قالَ: وأَيْضًا واللَّهِ لَتَمَلُّنَّهُ، قالَ: إنَّا قَدِ اتَّبَعْناهُ، فلا نُحِبُّ أنْ نَدَعَهُ حتَّى نَنْظُرَ إلى أيِّ شيءٍ يَصِيرُ شَأْنُهُ، وقدْ أرَدْنا أنْ تُسْلِفَنا وسْقًا أوْ وسْقَيْنِ – وحَدَّثَنا عَمْرٌو غيرَ مَرَّةٍ فَلَمْ يَذْكُرْ وسْقًا أوْ وسْقَيْنِ أوْ: فَقُلتُ له: فيه وسْقًا أوْ وسْقَيْنِ؟ فقالَ: أُرَى فيه وسْقًا أوْ وسْقَيْنِ – فقالَ: نَعَمِ، ارْهَنُونِي، قالوا: أيَّ شيءٍ تُرِيدُ؟ قالَ: ارْهَنُونِي نِساءَكُمْ، قالوا: كيفَ نَرْهَنُكَ نِساءَنا وأَنْتَ أجْمَلُ العَرَبِ، قالَ: فارْهَنُونِي أبْناءَكُمْ، قالوا: كيفَ نَرْهَنُكَ أبْناءَنا، فيُسَبُّ أحَدُهُمْ، فيُقالُ: رُهِنَ بوَسْقٍ أوْ وسْقَيْنِ، هذا عارٌ عَلَيْنا، ولَكِنَّا نَرْهَنُكَ اللَّأْمَةَ – قالَ سُفْيانُ: يَعْنِي السِّلاحَ – فَواعَدَهُ أنْ يَأْتِيَهُ، فَجاءَهُ لَيْلًا ومعهُ أبو نائِلَةَ، وهو أخُو كَعْبٍ مِنَ الرَّضاعَةِ، فَدَعاهُمْ إلى الحِصْنِ، فَنَزَلَ إليهِم، فقالَتْ له امْرَأَتُهُ: أيْنَ تَخْرُجُ هذِه السَّاعَةَ؟ فقالَ إنَّما هو مُحَمَّدُ بنُ مَسْلَمَةَ، وأَخِي أبو نائِلَةَ، وقالَ غَيْرُ عَمْرٍو، قالَتْ: أسْمَعُ صَوْتًا كَأنَّهُ يَقْطُرُ منه الدَّمُ، قالَ: إنَّما هو أخِي مُحَمَّدُ بنُ مَسْلَمَةَ ورَضِيعِي أبو نائِلَةَ إنَّ الكَرِيمَ لو دُعِيَ إلى طَعْنَةٍ بلَيْلٍ لَأَجابَ، قالَ: ويُدْخِلُ مُحَمَّدُ بنُ مَسْلَمَةَ معهُ رَجُلَيْنِ – قيلَ لِسُفْيانَ: سَمَّاهُمْ عَمْرٌو؟ قالَ: سَمَّى بَعْضَهُمْ – قالَ عَمْرٌو: جاءَ معهُ برَجُلَيْنِ، وقالَ: غَيْرُ عَمْرٍو: أبو عَبْسِ بنُ جَبْرٍ، والحارِثُ بنُ أوْسٍ، وعَبَّادُ بنُ بشْرٍ، قالَ عَمْرٌو: جاءَ معهُ برَجُلَيْنِ، فقالَ: إذا ما جاءَ فإنِّي قائِلٌ بشَعَرِهِ فأشَمُّهُ، فإذا رَأَيْتُمُونِي اسْتَمْكَنْتُ مِن رَأْسِهِ، فَدُونَكُمْ فاضْرِبُوهُ، وقالَ مَرَّةً: ثُمَّ أُشِمُّكُمْ، فَنَزَلَ إليهِم مُتَوَشِّحًا وهو يَنْفَحُ منه رِيحُ الطِّيبِ، فقالَ: ما رَأَيْتُ كاليَومِ رِيحًا، أيْ أطْيَبَ، وقالَ غَيْرُ عَمْرٍو: قالَ: عِندِي أعْطَرُ نِساءِ العَرَبِ وأَكْمَلُ العَرَبِ، قالَ عَمْرٌو: فقالَ أتَأْذَنُ لي أنْ أشُمَّ رَأْسَكَ؟ قالَ: نَعَمْ، فَشَمَّهُ ثُمَّ أشَمَّ أصْحابَهُ، ثُمَّ قالَ: أتَأْذَنُ لِي؟ قالَ: نَعَمْ، فَلَمَّا اسْتَمْكَنَ منه، قالَ: دُونَكُمْ، فَقَتَلُوهُ، ثُمَّ أتَوُا النبيَّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ فأخْبَرُوهُ.( عن جابر بن عبدالله. أخرجه البخاري (4037) واللفظ له، ومسلم (1801) مطولاً.)
———————————-
یہودیوں میں کعب بن اشرف بہت ہی دولت مند تھا۔ یہودی علماء اور یہود کے مذہبی پیشواؤں کو اپنے خزانہ سے تنخواہ دیتا تھا۔ دولت کے ساتھ شاعری میں بھی بہت با کمال تھا جس کی وجہ سے نہ صرف یہودیوں بلکہ تمام قبائل عرب پر اس کا ایک خاص اثر تھا۔ اس کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے سخت عداوت تھی۔ جنگ ِ بدر میں مسلمانوں کی فتح اور سرداران قریش کے قتل ہو جانے سے اس کو انتہائی رنج و صدمہ ہوا۔ چنانچہ یہ قریش کی تعزیت کے لئے مکہ گیا اور کفارِ قریش کا جو بدر میں مقتول ہوئے تھے ایسا پر درد مرثیہ لکھا کہ جس کو سن کر سامعین کے مجمع میں ماتم برپا ہو جاتا تھا۔ اس مرثیہ کو یہ شخص قریش کو سنا سنا کر خود بھی زار زار روتا تھا اور سامعین کو بھی رلاتا تھا۔ مکہ میں ابو سفیان سے ملا اور اس کو مسلمانوں سے جنگ ِ بدر کا بدلہ لینے پر ابھارا بلکہ ابو سفیان کو لے کر حرم میں آیا اور کفار مکہ کے ساتھ خود بھی کعبہ کا غلاف پکڑ کر عہد کیا کہ مسلمانوں سے بدر کا ضرور انتقام لیں گے پھر مکہ سے مدینہ لوٹ کر آیا تو حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہجو لکھ کر شان اقدس میں طرح طرح کی گستاخیاں اور بے ادبیاں کرنے لگا، اسی پر بس نہیں کیا بلکہ آپ کو چپکے سے قتل کرا دینے کا قصد کیا۔
کعب بن اشرف یہودی کی یہ حرکتیں سراسر اس معاہدہ کی خلاف ورزی تھی جو یہود اور انصار کے درمیان ہو چکا تھا کہ مسلمانوں اور کفارِ قریش کی لڑائی میں یہودی غیر جانبدار رہیں گے۔ بہت دنوں تک مسلمان برداشت کرتے رہے مگر جب بانیٔ اسلام صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس جان کو خطرہ لاحق ہو گیا تو حضرت محمد بن مسلمہ نے حضرت ابو نائلہ و حضرت عباد بن بشر و حضرت حارث بن اوس و حضرت ابو عبس رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو ساتھ لیا اور رات میں کعب بن اشرف کے مکان پر گئے اور ربیع الاول ۳ ھ کو اس کے قلعہ کے پھاٹک پر اس کو قتل کر دیا اور صبح کو بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر اس کا سر تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دیا۔ اس قتل کے سلسلہ میں حضرت حارث بن اوس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تلوار کی نوک سے زخمی ہو گئے تھے۔ محمد بن مسلمہ وغیرہ ان کو کندھوں پر اٹھا کر بارگاہ رسالت میں لائے اور آپ نے اپنا لعاب دہن ان کے زخم پر لگا دیا تو اُسی وقت شفاء کامل حاصل ہو گئی۔ (زرقانی جلد۲ ص۱۰)
شکیل منصور القاسمی
بیگوسرائے

Scroll to Top