شریعتِ مطہرہ کا جوہرِ اعتدال

شریعتِ اسلامیہ کی نمایاں ترین خصوصیات میں سے ایک اہم ترین وصفِ امتیاز اس کا اعتدال و توازن ہے، جو اس کے تمام احکام، اصول، اور فکری و عملی مناہج میں نمایاں طور پر جھلکتا ہے، ہماری شریعت نہ تو حد درجہ سخت گیری کو گوارا کرتی ہے، اور نہ ہی مادر پدر آزاد سہولت پسندی اور بے ضابطہ نرمی کو قبول کرتی ہے۔
اسلام نے انسانی فطرت، تمدنی تقاضوں، اور عملی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے جامع اور حکیمانہ اصول عطا فرمائے ہیں جو ہر دور میں قابلِ اطلاق اور قابلِ التفات ہیں۔ شریعت کا یہی اعتدال اس کی ہمہ گیریت، آفاقیت اور ابدیت کی دلیل ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد مواقع پر تیسیر کی تاکید اور تعسیر سے اجتناب کا حکم فرمایا، اور دین کو سختی سے نہیں، بلکہ سہولت، رواداری اور فہم ، حکمت وتدبر کے ساتھ اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے ۔
تاہم یہ سہولت اور آسانی شتر بے مہار نہیں، کہ جہاں چاہا، جیسے چاہا، دین کو من چاہی تعبیرات کے قالب میں ڈھال لیا جائے؛ بلکہ یہ سہولت : اصول، آداب، شرعی ضوابط، اور مصالحِ شرعیہ کے دائرے میں محدود اور مقید ہے۔ تیسیر کو بھی علم، تقویٰ، اور فہمِ شریعت کے سانچے میں پرکھا جاتا ہے، نہ کہ نفس کی خواہشات یا دنیاوی سہولتوں کے تناظر میں۔
افسوس کہ عصرِ حاضر کا المیہ یہ ہے کہ دین کے ماننے والوں میں دو انتہائیں روز بروز نمایاں ہو رہی ہیں:
ایک طرف وہ طبقہ ہے جو سخت گیری، اور ظاہری تشدد کو دینداری کا معیار سمجھ بیٹھا ہے، اور دین کی روح، اس کی آفاقی وسعت و حکمت سے غافل ہو کر دوسروں پر بے جا سختی روا رکھتا ہے۔
دوسری طرف ایک گروہ وہ بھی ہے جو تیسیر کے نام پر ہر حد پار کر رہا ہے، حتیٰ کہ وہ بنیادی احکامِ شریعت کو بھی مصلحت، تاویل یا “جدید تعبیر” کی آڑ میں پسِ پشت ڈالنے سے دریغ نہیں کرتا۔
شریعت اسلامیہ ان دونوں انتہاؤں کو ناپسند کرتی ہے، اور شدت اور بے جا نرمی کے درمیان اعتدال و توازن کا راستہ اختیار کرنے کا حکم دیتی ہے۔ یہی وسطیت اسلام کا وہ امتیاز ہے جس پر امتِ وسط کی بنیاد قائم ہے۔
پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نہ تو دین کو اپنی خواہشات کے تابع بنا کر اس کی ہیئت و روح کو مجروح کریں، اور نہ ہی دین کو اس قدر سخت اور دشوار بنائیں کہ اس کی کشش زائل ہو جائے۔ فقہاء امت، محدثین کرام، اور ائمۂ سلف نے ہمیشہ اسی اعتدال کی راہ اپنائی۔
شریعت کا حسن، اس کا عدل، اس کی وسطیت اور اس کی معتدلانہ رہنمائی ہی دراصل اس کے الٰہی ہونے کی روشن دلیل ہے۔

شکیل منصور القاسمی
مركز البحوث الإسلامية العالمي

Scroll to Top