دورِ نبوت میں تشریعِ اسلامی کا اصل سرچشمہ وحیِ ربانی تھا؛ لیکن جمہور علماءِ اصول کے نزدیک غیر منصوص مسائل میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیش آمدہ حالات کے حل کے لیے اجتہاد بھی فرماتے تھے، پھر علماءِ احناف کے مطابق بعض مواقع پر آپ ﷺ سے اجتہادی خطا بھی صادر ہوئی؛ مگر ایسی خطا کو باقی نہ رکھا جاتا؛ بلکہ وحی فوراً اس کی تصحیح فرما دیتی اور درست رہنمائی عطا کر دی جاتی۔(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ناچیز کی کتاب : اجماعِ امت – حقیقت، حیثیت، تطبیقات، ص 46-60)
یہاں اہم سوال یہ جنم لیتا ہے کہ جب وحی نازل ہو رہی تھی تو پھر اجتہاد کی ضرورت کیا تھی؟ کیا ہر معاملے میں وحی کا انتظار نہیں کیا جا سکتا تھا؟
تو اصل حقیقت یہ ہے کہ حضور ﷺ کا اجتہادی طرزِ عمل امت کے لیے ایک عظیم تربیتی نصاب تھا، اگر آپ ہر موقع پر صرف وحی کے منتظر رہتے، تو امت کے لیے اجتہاد، استنباط اور استخراجِ مسائل کے دروازے دھندلا جاتے۔حضور ﷺ نے اجتہاد کے ذریعے یہ سبق دیا کہ مسائل کا حل صرف وحی تک محدود نہیں ؛ بلکہ فہمِ شریعت، عقلِ سلیم، غور و تدبر اور اصولِ دین کی روشنی میں بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔
اسی عمل نے بعد کے زمانوں میں امت کو فقہی بصیرت اور شرعی اجتہاد کے قابل بنایا، اور شریعت کو قیامت تک زندہ، متحرک اور قابلِ اطلاق بنائے رکھنے کی بنیاد فراہم کی۔
اجتہادِ نبوی ﷺ یہ بھی بتاتا ہے کہ محض نصوص کے ظواہر پر جمود اختیار کرنا دین کی روح کے خلاف ہے۔حالات بدلتے رہتے ہیں، معاشرتیں نئے تقاضے پیش کرتی ہیں، اور شریعت کی حقانیت اسی میں ہے کہ وہ ہر دور کے مسائل کا صلاحیت مندانہ جواب دے۔ حضور ﷺ نے اجتہاد فرما کر یہ واضح کیا کہ شریعت اسلامیہ وسیع تر اصول رکھتی ہے اور اس کے دائرے میں تا قیامت ہر زمان و مکان کے تقاضے سمائے جا سکتے ہیں۔
مزید برآں، حضور ﷺ کے اجتہادی عمل میں عارضی وقوع لغزش میں ایک عظیم مصلحت یہ بھی مضمر تھی کہ علماءِ امت کی اجتہادی لغزشوں پر طعن و تشنیع کا دروازہ نہ کھلنے پائے۔اگر ہر خطا پر سختی کی جاتی اور اعتراضات کیے جاتے تو اجتہاد کا باب ہی بند ہو جاتا، حالانکہ دین کے بڑے مصالح اسی باب سے وابستہ ہیں۔شریعت عام ہے، دائمی ہے، اور اسی وقت باقی رہ سکتی ہے جب بدلتے ہوئے حالات کے مطابق احکام میں تطبیق کی گنجائش برقرار رہے۔
اسی پس منظر میں یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ مجتہد کی خطا موجبِ ملامت نہیں بلکہ باعثِ اجر ہے۔حدیثِ صحیح میں آیا ہے:
“مجتہد اگر صحیح رائے تک پہنچے تو اسے دو اجر ملتے ہیں،اور اگر اجتہاد میں خطا ہوجائے تو بھی ایک اجر ضرور ملتا ہے۔”(صحیح بخاری: کتاب الاعتصام ج۹/۱۳۲، صحیح مسلم: کتاب الأقضیہ ج۵/۱۳۱)
لہذا یہ حقیقت ہر صاحبِ نظر کے دل میں نقش ہوجانی چاہیے کہ علماء و فقہاء کی اجتہادی لغزشیں طعن و تشنیع کے لیے نہیں، بلکہ احترامِ اجتہاد کے پیشِ نظر باوقار نگاہ سے دیکھی جانی چاہئیں، یہی طرزِ فکر روحِ شریعت کے قریب اور دین کی حیات کے لیے ناگزیر ہے۔واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
مركز البحوث الإسلامية العالمي
(اتواریکم جمادی الثانیہ 1447ھ23 نومبر 2025ء)