ملک کے موجودہ حالات میں ملک کی دینی و مذہبی تحریکوں ، تنظیموں ، جماعتوں اور اداروں کا فریضہ ہے کہ وہ اس سیلاب ارتداد کے سدباب کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں اور مسلمانوں میں عملی طور پہ شعور وآگہی پیدا کریں ۔
سوشل میڈیا اور سماجی رابطے کی سائیٹس پہ اس فتنہ کو زیادہ ہائیلائیٹ کرنے کی بجائے علماء کرام اور ائمہ مساجد کے تربیتی اجتماعات منعقد کئے جائیں ۔مساجد کے ممبر ومحراب اور عوامی اجتماعات کی وساطت سے عوام الناس میں بیداری لائیں۔
ایسے پر خطر موقع سے آنکھیں موندلینا کافی خطرناک ہے ۔اگر ایک مرتبہ یہ فتنہ ہمارے گھروں میں گھس گیا تو پہر بعد میں قابو پانا اور اس کا تدارک کرنا مشکل ہوجائے گا۔دین مبین کے امین وپاسبان حضرات علماء کرام کی اخلاقی، روحانی اور علمی وذہنی ذمہ داری بنتی ہے کہ آزمائش وکشمکش کے ان حالات میں انفرادی وذاتی مفادات پہ اجتماعی اور ملی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے سیرت وکردار اور جذبہ صدیقی کا اعلی جوہر دکھائیں ۔۔
ایسے موقع پر ایک ایک لمحہ مہینہ اور سال کے برابر ہوتا ہے ، اور ایک سانس ایک عمر کے برابر ، اس وقت اگر علماء اور علوم دینیہ کے حاملین و منتسبین نے اپنے کو نہ سنبھالا ، انہوں نے اپنی اخلاقی بلندی، اپنی بے غرضی ، سچی خدا پرستی کا ۔۔۔جس کے اندر نفاق نہ ہو، ۔۔۔۔۔۔ثبوت نہ دیا تو سخت خطرہ ہے۔۔۔
وما توفيقي إلا بالله عليه توكلت وإليه انيب .۔۔
شكيل منصور القاسمي
مركز البحوث الاسلامية العالمي