قبر اطہر کی زیارت کی نیت سے سفر مدینہ نہ صرف جائز ، بلکہ افضل ترین عبادت ہے

چاروں فقہی مذاہب اور جمہور علماء اہل سنت والجماعت کا اجماع ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کرنا افضل ترین عبادت ہے۔مسجد نبوی اور مدینہ طیبہ کی ساری فضیلت روضہ نبوی ہی کی وجہ سے ہے۔اس لئے جمہور اہل سنت والجماعت کے نزدیک زیارت روضہ پاک کے لئے سفر کرنا مندوب ومستحب ہے۔بعض مالکیہ اور اصحاب ظواہر کے نزدیک واجب ہے ۔حنفیہ کے یہاں سنت قریب الواجب ہے ۔
ہمارے یہاں بہتر یہ ہے کہ سفر مدینہ کے وقت مقامات مقدسہ اور مسجد نبوی کی نیت کرنے کی بجائے خالص قبر شریف کی زیارت کی نیت کرے ۔کیونکہ اس میں تعظیم زیادہ ہے ۔
یہ صرف حنفی یا دیوبندی علماء کا مسلک نہیں ، بلکہ چاروں مسلک : حنفی شافعی ،مالکی اور حنبلی فقہ کی کتابوں میں اس کا جواز مذکور ہے۔
علامہ ابن تیمیہ اور ان کے بعض شاگرد اس مسئلے میں متفرد ہیں۔ان کے یہاں زائر مسجد نبوی کی زیارت کی نیت کرے۔روضہ نبوی کی زیارت کی نیت سے مستقل سفر مدینہ ان کے یہاں جائز نہیں ہے۔
علامہ ابن تیمیہ اور کچھ مخصوص افراد نے حدیث (( لا تشد الرحال إلا إلی ثلاثة مساجد المسجد الحرام ومسجد الرسول ﷺ ومسجد الأقصی ))․ رواه البخاري ( رواہ البخاری کتاب فضل الصلاة فی مسجد مکة والمدینة حدیث نمبر ۱۱۸۹)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضى الله عنہ نبی اکرم ﷺکا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ تین مساجد کے علاوہ رخت سفر نہ باندھا جائے سوائے تین مساجد کے(تین مساجد یہ ہیں):مسجد حرام، مسجد رسول (ﷺ) اور مسجد اقصیٰ۔)
کو ظاہر پہ محمول کرتے ہوئے روضہ رسول کی زیارت کی نیت سے سفر مدینہ کو ناجائز کہا ہے۔جمہور ائمہ حدیث میں سے کسی نے بھی اس حدیث کو اس طرح ظاہر پہ محمول نہیں کیا جسطرح علامہ ابن تیمیہ نے کیا ہے۔
علامہ ابن حجر عسقلانی اور علامہ قسطلانی نے فرماتے ہیں کہ ابن تیمیہ کا یہ قول تمام ہی مسائل میں سب سے نامناسب مسئلہ ہے۔اور جمہور محدثین نے ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اس منفرد قول کی تردید فرمائی ہے۔
کم وبیش سات صحیح وحسن احادیث سے زیارت روضہ نبوی کی نیت سے سفر مدینہ کا جواز ثابت ہوتا ہے ۔جو اوپر عربی کی تحریر میں موجود ہیں ۔
انبیاء چونکہ اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں، موت ان کے لیے مُزِیلِ حیات نہیں ہوتی؛ بلکہ ساتر ِحیات ہوتی ہے، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی قبر اطہر میں باحیات ہیں؛اس لیے زیارت قبر اطہر کے فضائل بیان کیے گئے ہیں، انہیں روایات کے پیش نظر احناف کے یہاں زیارت روضہ اقدس کا حکم قریب بہ واجب ہے، جمہور کے نزدیک مستحب ہے اور بعض مالکیہ اور بعض ظاہریہ کے نزدیک واجب ہے اور ابن تیمیہ زیارت قبر اطہر کو غیر مشروع کہتے ہیں۔
و قد اختلف فیہا أقوال أہل العلم، فذہب الجمہور إلی أنہا مندوبة وذہب بعض المالکیة وبعض الظاہریة إلی أنہا واجبة وقالت الحنیفة: إنہا قریبة من الواجبات، و ذہب ابن تیمیة الحنبلي، إلی أنہا غیر مشروعة (حاشیة إعلاء السنن: ۱۰/۴۹۹)
ملا علی قاری نے شرح الشفاء میں قاضی عیاض مالکی کے حوالے سے لکھا ہے:
زیارة قبرہ علیہ السلام سنة من سنن المسلمین مجمع علیہا أي مجتمع علی کونہا سنة و فضیلة مرغب فیہا․
یعنی قبر اطہر کی زیارت مسلمانوں کی متفق علیہ سنت ہے اور اس کی ایسی فضیلت ہے جس کی رغبت ہر مسلمان کو کرنی چاہیے (شرح الشفاء: ۲/۱۵۰)
لہٰذا ہر صاحب استطاعت شخص کی یہ خواہش ہونی چاہیے کہ اسے جب بھی موقع ملے گا وہ روضہٴ اقدس کی زیارت کرے گا اور جو لوگ حج کرنے جاتے ہیں، انہیں روضہٴ اقدس کی زیارت بھی کرنی چاہیے، اگرچہ روضہٴ اقدس کی زیارت حج کا کوئی رکن یا جز نہیں ہے؛ لیکن شروع سے امت کا یہ تعامل چلا آرہا ہے کہ خاص کر دور دراز علاقوں کے مسلمان جب حج کو جاتے ہیں تو روضہ پاک کی زیارت اور وہاں درود و سلام کی سعادت ضرور حاصل کرتے ہیں اور کسی سے اس کا انکار منقول نہیں ہے، تو یہ اجماع کے درجہ میں ہے، اعلاء السنن کے حاشیہ میں ہے:
لم یزل دأب المسلمین القاصدین للحج في جمیع الأزمان علی تباین الدیار و اختلاف المذاہب، الوصول الی المدینة المشرفة لقصد زیارتہ صلی اللہ علیہ وسلم ویُعَدُّ أنَّ ذلک من أفضل الأعمال، و لم ینقل أن أحدا أنکر علیہم ذلک فکان إجماعاً (إعلاء السنن: ۱۰/۴۹۹)
اور جن لوگوں نے زیارت قبر اطہر کو ممنوع ومکروہ لکھا ہے ان کے بارے میں ملا علی قاری لکھتے ہیں کہ
الأحادیث فی ہذا الباب کثیرة، وفضائل الزیارة شہیرة، و من أنکرہا؛ إنما أنکر ما فیہا من بدع نکیرة غالبہا کبیرة․
یعنی باب زیارت کی روایات بہت زیادہ ہیں، اس کے فضائل مشہور ہیں اور جس نے بھی اس کا انکار کیا ہے حقیقت میں اس نے ان بدعات و منکرات کا انکار کیا ہے، جن میں سے اکثر گناہ کبیرہ تک پہنچ جاتے ہیں (مرقاة المفاتیح، رقم الحدیث: ۲۷۵۶، باب حرم المدینہ)
اس وجہ سے صاحب اعلا ء السنن پر شکوہ انداز میں رقمطراز ہیں:
’’ورحم اﷲ طائفۃ قد اغمضت عیونھا عن کل ذلک وانکرت مشروعیۃ زیارۃ قبرھذا النبی الکریم وحرمت عن مثل ھذا الفضل العظیم وزعمت ان لاینوی الزائر الامسجد النبی ا فقط ولم تدر فضیلۃ المسجد انما ھی لاجل برکۃ النبی ا فجواز نیۃ المسجد یستدعی جوازنیۃ زیارتہ ‘‘۔ اعلاء اسنن۱۰؍۴۹۷
ترجمہ: ’’ اﷲ اس گروہ پر رحم فرمائے ،جس نے ان تمام (روضئہ اطہر کی زیارت میں وارد شدہ ) احادیث سے چشم پوشی کی ،اور اس کی زیارت کی مشروعیت ہی سے انکار کر بیٹھے ،اور اس عظیم فضیلت ومنفعت سے ہاتھ دھو بیٹھے ،اور سوچ رکھا کہ زائر صرف اور صرف مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کی نیت کرے ،اور وہ اس بات سے بے خبر رہا کہ مذکورہ مسجد نبوی کو جو شرف اور فضیلت حاصل ہے، وہ آپ ﷺ ہی کی وجہ سے تو ہے ،لہذا مسجد نبوی کی زیارت کے لئے نیت سفر کرنے کا جواز اس بات کا تقاضا کرتاہے کہ روضئہ مبارک کی زیارت کی غرض سے سفر کرنا اور اس کی نیت کرنا جائز ہو‘‘۔
علامہ قسطلانی اپنی کتاب’’مواھب اللدینیہ ‘‘میں فرماتے ہیں:
’’وامن اعتقد غیر ھذا فقد انخلع من ربقۃ الاسلام وخالف اﷲ ورسولہ ا وجماعۃ العلماء الاعلام ،وقد اطلق بعض المالکیۃ انھا واجبۃ وقال القاضی عیاض انھا سنۃ من سنن المسلمین مجمع علیھاوفضیلۃ مرغب
فیھا‘‘۔( المواھب اللدنیہ المقصد العاشر 403۔404 /3)
ترجمہ:’’یعنی جس کسی نے بیان کردہ کے علاوہ اورعقیدہ رکھا تو وہ اسلام کی رسی سے نکل گیا،اور اس نے اﷲ اور اس کے ر سول ا اور تمام اکابرین امت اور کبار اسلاف کی مخالفت کی۔اور بعض مالکیہ کے نزدیک روضئہ اطہر کی زیارت واجب ہے ،اور قاضی عیاض مالکی کے نزدیک یہ مسلمانوں کی چند ان سنتوں میںسے ایک ہے جس پرامت کا اجماع ہے اور ایک مرغوب فضیلت ہے‘‘۔
جلیل القدر عالم دین، ممتاز محدث وفقیہ حضرت مولاناخلیل احمد صاحب انبھیٹوی ثم المدنی رحمہ اﷲ تحریر فرماتے ہیں کہ ’’ ہمارے نزدیک اور ہمارے مشائخ کے نزدیک زیارت قبر سید المرسلین (ہماری جان آپﷺپر قربان) اعلیٰ درجہ کی قرابت اور نہایت ثواب اور سبب حصول درجات ہے بلکہ واجب کے قریب ہے ’’عند نا وعند مشائخنا زیارۃ قبر سید المرسلین (روحی فداہ) من اعظم القربات واھم المندوبات وانحج لنیل الدرجات بل قریبۃ من الواجبات ‘‘اورآگے چل کر فرماتے ہیں وینوی وقت الارتحال زیارتہ علیہ الف الف تحیۃ وسلام وینوی معھار زیارۃ مسجدہ ﷺوغیرہ من البقاع والشاھد الشریفۃ بل الا ولی ما قال العلامۃ الھمام بن الھمام ان یجرد النیۃ لزیارۃ قبرہ علیہ الصلوٰۃ والسلام ثم یحصل لہ اذا قدم زیارۃ المسجد لان فی ذلک زیارۃ تعظیمہ واجلالہ ﷺویو ا فقہ قولہ ﷺمن جاء نی زائر اً لا تحملہ حاجب الا زیارتی کان حقا علی ان اکون شفیعاً لہ یوم القیامۃ ۔(ترجمہ) اور سفر کے وقت آنحضرتﷺکی زیارت کی نیت کرے اور ساتھ میں مسجد نبوی ؒ او دیگر مقامات و زیارت گا ہائے متبرکہ کی بھی نیت کرے بلکہ بہتر وہ ہے جو علامہ ابن ھمام نے فرمایا کہ خالص قبر شریف کی زیارت کی نیت کرے جب وہاں حاضر ہوگا تو مسجد نبویﷺکی بھی زیارت حاصل ہوجائے گی۔ اس صورت میں جناب رسالت مآبﷺکی تعظیم زیادہ ہے اور ا س کی موافقت خود حضرت کے ارشاد سے ہورہی ہے کہ جو میری زیارت کو آیا کہ میری زیارت کے سوا کوئی حاجت اس کو نہ لائی ہو تو مجھ پر حق ہے کہ قیامت کے د ن اس کا شفیع بنوں ‘‘(التصدیقات ص۵)
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒروضۂ پا ک کی زیارت کے فضائل بیان کرنے کے بعد ہدایت فرماتے ہیں کہ ’’ جب مدینہ کا عزم ہوتو بہتر یہ ہے کہ روضہ ٔ اطہر ا کی زیارت کی نیت کر کے جائے ۔(زبدۃ المناسک ’’ جدید‘‘ ص ۱۱۳)
اور شیخ الا سلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ فرماتے ہیں کہ ’’ مدینہ منور ہ کی حاضری محض سرور کائنات علیہ السلام کی زیارت اور آپ کے توسل کی غرض سے ہونی چاہئے … اسی وجہ سے میرے نزدیک بہتر یہی ہے کہ حج سے پہلے مدینہ منورہ جانا چاہے اور آنحضرتﷺکے توسل سے نعمت قبولیت حج وعمرہ کے حصول کی کوشش کرنی چاہئے ، مسجد کی نیت خواہ وہ تبعاً کر لی جائے مگر اولی یہی ہے کہ صرف جناب رسول اﷲﷺکی زیارت کی جائے تاکہ لا تحملہ الا زیارتی والی روایت پر عمل ہوجائے ۔
مکتوب نمبر ۴۵ مکتوبات شیخ الا سلام (صفحہ ۱۲۹۔۱۳۰ ج۱)
دلائل وحوالجات اوپر کی عربی تحریر میں موجود ہیں ۔
فقط۔ واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

Scroll to Top