ذات باری تعالی کے لئے لفظ خدا کے استعمال میں جواز کا تردد ان لوگوں کو ہے جو شریعت اسلامیہ کے اصل ثالت ” اجماع ” امت کے منکر ہیں ۔
اہل سنت والجماعت کے نزدیک اجماع امت اور قیاس بھی شریعت کے اصول ثابتہ میں سے ہیں ۔جو انہیں نہ مانے وہ اہل سنت سے خارج ہے ۔
ذات باری کے لئے لفظ خدا کا استعمال صدیوں سے اجماع امت کی وجہ سے جائز الاستعمال ہے۔اگر چہ اولی وافضل تو لفظ “اللہ ” ہی استعمال کرنا ہے !
لیکن اسے لفظ “اللہ “کے مترادف کے طور پہ استعمال کیا جاتا ہے
خدا کے معنی ہیں : خود آنے والی ذات ۔
اس لحاظ سے یہ واجب الوجود وقدیم کے ہم معنی ہوئے ۔
اجماع امت اس بات پہ قائم ہے کہ جو لفظ بھی واجب الوجود وقدیم کے معنی ومفہوم کو ادا کردے اس کو لفظ جلالہ ” اللہ ” کی جگہ استعمال کرنا جائز ہے ۔خواہ کسی بھی زبان کا لفظ ہو !
فی شرح العقائد (صـ۹۷): واذا ورد بالشرع باطلاق اسم بلغۃ فھو اذن باطلاق مایرادفہ من تلک اللغۃ اومن لغۃ اخری۔
وفی النبراس (صـ۱۷۳): قال بعض المحققین لانزاع فی جواز اطلاق اسمائہ الاعلام الموضوعۃ فی اللغات کخدائی بالفارسیۃ وتنکری بالترکیۃ۔
في ’’ روح المعاني ‘‘ : أسماء اللہ تعالی توقیفیۃ یراعی فیہا الکتاب والسنۃ والإجماع ، فکل إسم ورد في ہذہ الأصول جاز إطلاقہ علیہ جلّ شانہ ، وما لم یرد فیہا لا یجوز إطلاقہ وإن صحّ معناہ ۔ اہـ ۔ (۶/۱۷۷ ، تحت آیۃ الأعراف : ۱۸۰ ، تفسیر المظہري : ۳/۴۶۶ ، مکتبہ زکریا بکڈپو دیوبند) (فتاویٰ بنوریہ ، رقم الفتویٰ :۱۱۶۲۹)
فإن قیل: کیف یصح إطلاق الوجود والواجب والقدیم ونحو ذلک، کلفظ خدا بالفارسیۃ … قلنا بالإجماع وہو من أدلۃ الشرعیۃ؛ لأنہ قد ثبت بالقرآن والحدیث أن الإجماع حجۃ۔ (نبراس ۱۷۴)
ہي معظمۃ في کل لغۃ مرجعہا إلی ذات واحدۃ، فإن اسم اللہ لا یعرف العرب غیرہ، وہو بلسان فارسي خدا الخ۔ (المواقیت والجواہر ۷۸، بحوالہ محمودیہ ڈابھیل ۱/ ۲۶۸)
نیچریت پرستوں کو اب اس لفظ کے جواز استعمال میں شبہ ہورہا ہے
جبکہ صدیوں سے علماء امت کے مابین یہ مستعمل ہے۔۔۔سارے علماء کا غلط پہ مجتمع ہونا محال ہے۔اس لئے بے شک وریب لفظ خدا کا استعمال جائز ہے۔
ہاں اگر لفظ اللہ استعمال کرے تو یہ بہتر بات ہے۔
واللہ اعلم
شکیل منصور القاسمی