’’یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے‘‘
’’لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا‘‘
قرآن کریم کہتا ہے :
أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لا يُفْتَنُونَ‘‘
(مسلمان یہ نہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کر لینے کے بعد آزمائشوں کا سلسلہ ختم ہو ہی جائے گا۔
بلکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرنے کے ساتھ آزمائشوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ )
اقبالؒ اس حقیقت کو یوں بیان فرماتے ہیں:
چو می گویم مسلمانم بلرزم کہ دانم مشکلاتِ لا الہ را
جب میں خود کو مسلمان کہتا هوں، تو کانپ اٹهتا هوں….کیونکہ مجهے معلوم هے که لااله پر ایمان لانا کسقدر مشکل کام هے-
مجھے “لا الہ ” کی مشکلات کا بخوبی علم ہے ـ مجھے معلوم ہے لا الہٰ کہنےکے بعد کیسی کیسی مشکلات سامنے آنے والی ہیں- لا الہٰ کہ کے میں دنیا کے سارے باطل خداؤں کو رد کر رہا ہوں. مجھے معلوم ہے کہ کون کون سے زمداریاں مجھ پر عائد ہوتی ہیں -مجھے کیسے کیسے مرحلوں سے گزرنا ہے(که انسان صرف ایک خدا کی بندگی کرے، اور کسی انسان، شے، یا نظریے کی پرستش سے باز آجائے؛ مگر هوس چهپ چهپ کے سینے میں بنا لیتی هے تصویریں…….اور انسان پجاری کی سطح سے اٹهنے میں ایک عمر لگا دیتا هے، مگر پرستش کرنے کی عادت سے جان نہیں چهڑا پاتا؛…..)
عطا رامپوری اس کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں:
’’کانپنے لگتا ہو ﮞ کہتے ہوئے مسلم خود كو‘‘
’’كہ تقاضے مجھے ایمان کے معلوم ہیں سب‘‘
کسی شاعر نے یوں بھی فرمایا ہے: ’’شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے‘‘ ’’لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا‘‘
اسلام در اصل عشق خداوندی کا نام ہے
شہادت گاہ ِالفتِ خداوندی
میں قدم رکھنے کا نام مسلماں ہونا ہے
الفت خداوندی میں شہید ہوجانے سے ہی تقاضائے اسلام
پہ عمل پیرا ہونا اور اس راہ کی سختیوں اور قربانیوں کو برداشت کرنا آسان ہوتاہے
عقل و دِل و نِگاہ کا مُرشدِ اوّلیں ھے عشق
عشق نہ ہو تو شرع ودیں بُتکدۂِ تصوّرات
شکیل منصور القاسمی
بیگوسرائے
مسجد میں عورتوں کا اعتکاف ؟
بقلم : شکیل منصور القاسمی