مدارس کے چراغ اور معیشت کی آندھیاں

مدارس کے چراغ اور معیشت کی آندھیاں

قسط اول

بقلم: شکیل منصور القاسمی
مدارسِ اسلامیہ صدیوں سے دین کی حفاظت، علم کی اشاعت اور ایمان کی آبیاری کے قلعے کے طور پر امت کا سرمایۂ افتخار رہے ہیں۔ ان کے اساتذہ و فضلا نے صبر و قناعت کی زندگی اختیار کی، عسرتوں پر مسکرائے، اور اپنی تنگ دستی کو امت کی سعادتوں میں ڈھال دیا۔ یہی برصغیر کے اکابر علماء کا طرۂ امتیاز تھا؛ مگر آج ایک نئی آندھی اٹھی ہے، جو ان چراغوں کی لو کو مدھم کرنے لگی ہے۔ پرکشش سرکاری نوکریوں کی چمک نے مدارس کے بہت سے تازہ دم سپاہیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جو قافلہ کل دین کی پاسبانی کے لیے صف بستہ کھڑا تھا، آج وہ سرکاری اسکولز ومکاتب کی راہوں کا مسافر بن رہا ہے۔ یہ صورت حال مدارس کے قابل اساتذہ کے وجود اور ان کے مستقبل کے لیے خطرے کی ناقوس ہے۔
طبقۂ علماء کے لیے سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ معاش کی فکر میں اس قدر الجھ جائیں کہ علم و دین کی اصل خدمت پس منظر میں چلی جائے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ہمارے اکابر نے سادہ زیست کو زینت بنایا، عسرتوں کو خندہ پیشانی سے جھیلا، مگر علمِ دین کی شمع بجھنے نہ دی۔ ان کی زندگیاں مسلسل جدوجہد، بے پناہ ایثار اور دین کی خاطر جاں فشانی سے عبارت ہیں۔
طالبِ علمانہ دور میں ایک جواں سال طالبِ علم معمولی وسائل کے ساتھ، شب و روز کی مشقت سہہ کر، محض ذوق و شوق کے سہارے علمی پیاس بجھاتا ہے۔ یہی قربانی اس کے مستقبل کی برکتوں کی ضمانت بنتی ہے۔ اگر یہی جذبہ تدریسی دور میں بھی چند سال برقرار رہے، اور وہ گنتی کے کچھ عرصۂِ عسرت کو مسکراہٹ کے ساتھ برداشت کر لے، تو اللہ تعالیٰ آسائشوں کے ایسے ایسے دروازے کھول دیتے ہیں جن کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ تاریخ کے صفحات شاہد ہیں کہ جنہوں نے صبر کیا، قناعت کو اوڑھنا بچھونا بنایا، اور معمولی وسائل پر سادہ زیست اختیار کی، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسی فتوحات کے در کھولے کہ شاہانِ وقت ان کے قدموں میں جھکنے لگے۔ انہی کے ذریعے امت کو علمی، فکری اور روحانی فتوحات نصیب ہوئیں۔
افسوس کہ آج کے دور میں ایک نیا طوفان اٹھا ہے۔ یوپی بورڈ اور بہار مدرسہ بورڈ، اور پھر بی پی ایس سی وغیرہ کے امتحانات نے جب نوکریوں کی راہیں کھولیں تو ہزاروں باصلاحیت مدرسین اور کہنہ مشق اساتذۂ حدیث مدارس سے رخ موڑ کر سرکاری بحالیوں کی طرف لپک پڑے۔ یہ ایسا عمومی انحراف ہے جس نے مدارس کی علمی و روحانی فضا کو بری طرح مجروح کر دیا ہے۔
میں یہ نہیں کہ سکتا کہ
یہ کسی حکومتی منظم سازش کا شاخسانہ ہے یا طبقۂ علماء کی محض وقتی مجبوریوں کا اثر؟ ؛ مگر اتنا طے ہے کہ مدارس کے لیے یہ منظر نہایت تشویش ناک ہے۔
اس سے مجالِ انکار نہیں کہ زندگی کی اس مادّی دنیا میں رزق کا مسئلہ ایک تسلیم شدہ ہمہ گیر حقیقت ہے، جس سے چشم پوشی ممکن نہیں۔ انسان خواہ کتنی ہی روحانی بلندیوں کو چھو لے، اس کے وجود کی زمینی ضرورتیں اُسے دستک دیتی رہتی ہیں۔ بھوک، پیاس، لباس اور سر چھپانے کی جگہ، یہ سب تقاضے انسان کو اس حقیقت کی یاد دلاتے ہیں کہ آمدنی کے بغیر زیست کا بار اٹھانا تقریباً ناممکن ہے۔
اسلام نے اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا ؛ بلکہ اسے دین کے دائرے میں شامل کیا۔ عبادات اور ایمانی فرائض کے بعد، معاش کی جدوجہد کو ایک مستقل ذمہ داری قرار دے کر دوسرا فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کا یہ فرمان کہ:
“ حلال روزی کی تلاش وجستجو، فرض عبادات کے بعد ایک اور فریضہ ہے”(مرقاۃ المفاتیح ، كتاب البيوع، باب الكسب وطلب الحلال، ج:5، ص:1904، ط:دارالفكر)
اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ کسبِ حلال محض ایک دنیاوی ضرورت نہیں ؛ بلکہ دینی تقاضا بھی ہے۔
انبیاء کے وارثوں کے لیے بالخصوص یہ امر نہایت اہم ہے کہ وہ ایسے ذرائعِ آمدنی اختیار کریں جن سے اُن کی خودداری محفوظ رہے۔ اُس کی پیشانی علم کی روشنی سے روشن ہو، نہ کہ سوال کی زنجیر سے جھکی ہوئی۔ محتاجی کا داغ اُس کے شایانِ شان نہیں۔
تاریخِ انبیاء پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے ہاتھ سے محنت کیے بغیر زندگی بسر نہ کی۔ کسی نے لکڑی تراشی، کسی نے کھیتی باڑی کی، کسی نے جانور چَرائے، اور کسی نے تجارت کی۔ اور جانِ کائنات ، سرورِ دو جہاں ﷺ نے بھی اجیاد کے پہاڑوں پر اجرت پر لوگوں کی بکریاں چَرائیں ، قافلۂ تجارت کے ساتھ ملک شام کا سفر کیے، اور مدینہ کے نواح (مقام جُرُف ) میں کھیتی باڑی میں ہاتھ ڈالا۔ گویا عرش کے فرستادہ بھی زمین پر اپنے ہاتھ سے کماتے تھے، تاکہ امت کو یہ سبق دیں کہ عزّت محنت میں ہے، ذلت سوال میں اور حلال روزی کی طلب ہر پیغمبر کے نقشِ قدم میں جلوہ گر ہے۔
اسی تناظر میں علماء و اہلِ تدریس وتعلیم کے لیے موزوں یہی ہے کہ تدریس کو محور بنائے رکھتے ہوئے اور اس کے نظام کو متاثر کئے بغیر ، بوقت ضرورت ، خارج اوقات میں تجارت، مضاربت ، حرفت ، یا کوئی اور جائز ذریعہ اختیار کریں۔ یوں علم بھی محفوظ رہے گا، عزّت بھی سلامت رہے گی اور ضروریاتِ حیات بھی پوری ہوں گی۔ اس کے برعکس اگر محض ذریعہ معاش کی تلاش میں کتاب وسنت کے درس و تدریس سے کٹ کر دوسری راہوں کا رخ کیا جائے تو نہ یہ دانشمندی ہے اور نہ ہی پائیدار حل!
فوج در فوج تدریس کے سپاہی اگر مدارس چھوڑ کر عصری اسکولوں کی نوکریوں میں کھو جائیں، تو یہ طرزِ عمل مدارس کے وجود کے لیے زہرِ قاتل ہے۔
مدارس کا اصل سرمایہ ان کے مخلص، ایثار پیشہ اور قناعت شعار اساتذہ ہیں۔ اگر یہی قافلہ منتشر ہو گیا تو مدارس محض اینٹوں کی عمارتیں اور نصاب کی کتابیں بن کر رہ جائیں گے، ان کی روح پرواز کر جائے گی۔ آج سب سے بڑھ کر ضرورت اس بات کی ہے کہ اہلِ علم اپنی اصل حیثیت کو پہچانیں، اپنے اکابر کے روشن نقوش پر چلتے ہوئے دین کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصدِ اعلیٰ بنائیں۔ چند سالوں کی ریاضت اور صبر وتحمل کے بعد دنیا بھی آپ کے قدموں میں آئے گی ، عزت بھی رفیق ہوگی اور شہرت ووقار بھی !
یہی وہ چراغ ہے جس کی روشنی سے امت کا مستقبل منور ہوتا ہے:
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لیجیے!

شکیل منصور القاسمی
بیگوسرائے
مرکز البحوث الإسلامية العالمي
(بدھ10؍ربیع الاوّل 1447ھ3؍ ستمبر 2025ء)

مدارس کے چراغ اور معیشت کی آندھیاں
قسط دوم
بقلم: شکیل منصور القاسمی

اسلام ایک ایسا آفاقی اور کامل دین ہے جس نے مزدوروں اور محنت کشوں کو محض خادم یا نوکر نہیں؛بلکہ انہیں “بھائی” قرار دیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے انسانیت کو وہ عظیم اصول عطا فرمایا جس نے دنیا کو مزدور کی عظمت کا سبق سکھایا:
إِخْوَانُكُمْ خَوَلُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ(صحیح البخاری، حدیث: 30—-یہ تمہارے بھائی ہیں، اللہ نے انہیں تمہارے ماتحت کیا ہے؛ پس جو خود کھاؤ وہی انہیں کھلاؤ، جو خود پہنو وہی انہیں پہناؤ، ان پر طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہ ڈالو، اگر ڈالو تو خود ان کی مدد کرو)۔
مزید برآں، آپ ﷺ نے مزدوری طے کیے بغیر کسی کو ملازم رکھنے سے منع فرمایا:
نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ اسْتِئْجَارِ الْأَجِيرِ حَتَّى يُبَيَّنَ لَهُ أَجْرُهُ(مسند أحمد، حدیث: 11743)
اور تاکید فرمائی:
أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ(سنن ابن ماجہ، حدیث: 2443)
یعنی مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی اجرت ادا کرو۔
قرآن مجید نے بھی صاف اعلان کیا:
﴿وَلا تَبخَسُوا النّاسَ أَشياءَهُم﴾ (الاعراف: 85—-یعنی لوگوں کے حقوق میں کمی نہ کرو۔
بلکہ ایک اور حدیث میں سخت وعید آئی ہے:
قَالَ اللَّهُ: ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ … وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ، وَلَمْ يُعْطِهِ أَجْرَهُ
(صحیح البخاری، حدیث: 2227—اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قیامت کے دن تین اشخاص سے میں خود جھگڑوں گا… ان میں ایک وہ ہے جس نے کسی مزدور سے پورا کام لیا مگر اس کی مزدوری ادا نہ کی)۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق اجرت محض لین دین نہیں، بلکہ مزدور کی عزتِ نفس کی حفاظت اور اس کے گھرانے کی ضروریاتِ زندگی کی کفالت کا ضامن ہے۔تن خواہ کا بنیادی مفہوم بھی تو یہی ہے !
ریاستی قوانین بھی اسی عدل کے تابع ہیں۔ ہندوستان کی عدالتِ عظمیٰ نے 31 اکتوبر 2018 کو مزدوروں کے لیے کم از کم اجرت مقرر کی:
غیر تربیت یافتہ: یومیہ 538، ماہانہ 14,000
کم تربیت یافتہ: یومیہ 592، ماہانہ 15,400
تربیت یافتہ یا میٹرک پاس: یومیہ 652، ماہانہ 16,962
گریجویشن یا اس سے زائد: یومیہ 710، ماہانہ 18,462
افسوس صد افسوس! کہ ملک کے مرکزی اداروں کو چھوڑ کر بیشتر مدارس میں آج بھی اساتذہ کو اس معیار سے کہیں کم تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔ بلند و بالا عمارتوں پر لاکھوں اور کروڑوں خرچ ہوتے ہیں، مگر وہ استاد، جو علم کے چراغ جلا کر نسلوں کو روشنی دیتے ہیں، دس تا پندرہ ہزار کے قلیل مشاہرے پر زندگی کی کٹھنائیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ وہ المیہ ہے جو ذہین فضلاء کو تدریس سے کنارہ کشی پر مجبور کر رہا ہے۔ اگر یہی طرزِ عمل جاری رہا تو مدارس کی روشن قندیلیں ایک ایک کر کے بجھ جائیں گی، اور علم و عرفان کی بزم ویرانی میں بدل جائے گی۔
آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اربابِ مدارس اساتذہ کو “بھائی” سمجھیں، اجرت کے فرسودہ اور ظالمانہ نظام کو ختم کریں، اور عدالت کی مقررہ کم از کم شرح کو اخلاقی معیار بنائیں۔ اساتذہ کی بنیادی ضروریات کی کفالت کریں، مشاہرات وقت پر ادا کریں، ایمرجنسی حالات کے لیے قرضِ حسنہ کا نظام وضع کریں، اور اچھی کارکردگی پر انعام و اکرام کا سلسلہ جاری کریں۔اضافی خدمات ومحنتوں پہ معقول اضافی اجرت دیں ، ان کی مجبوریوں سے فائدہ نہ اٹھائیں !
یاد رکھیے! عمارتیں نہیں ؛ بلکہ “اساتذہ کرام “ مدارس کی جان وشہ رگ ہیں۔ ان کی عزت و آسودگی میں ہی امت کی بقاء اور مدارس کی روشنی مضمر ہے۔ تدریس کے سپاہی یوں ہی سرکاری اسکولوں کا رُخ نہیں کرررہے ہیں، بلکہ ظالمانہ و فرسودہ “تنخواہی نظام” انہیں اس ہجرت وانحراف پر مجبور کررہا ہے۔
مدارس کو حقیقی معنوں میں اگر زندہ رکھنا ہے تو سب سے پہلے اساتذہ کے دلوں کو زندہ رکھنا ہوگا۔ عالی شان عمارتیں مدارس کو وقار نہیں دیتیں، بلکہ وہ اساتذہ کرام ہی ہیں جو ان عمارتوں کو معنی بخشتے ہیں۔ اگر ان کے گھروں کے چولہے بجھ گئے تو مدارس کی روشنی بجھتے دیر نہیں لگے گی۔
اب وقت ہے کہ ہم اپنے نظامِ تنخواہ کو عدل و کرم کا آئینہ بنائیں، نصاب درس ونظام تربیت کی طرح دارالعلوم دیوبند کے نظام مشاہرات کو بھی آئیڈیل بنانے کی کوشش کریں ؛ تاکہ مدارس کے چراغ معیشت کی آندھیوں میں بھی ہمیشہ روشن رہیں۔
شکیل منصور القاسمی
مركز البحوث الإسلامية العالمي
(جمعہ12؍ربیع الاوّل 1447ھ5؍ ستمبر 2025ء)

مدارس کے چراغ اور معیشت کی آندھیاں
قسط دوم
بقلم : شکیل منصور القاسمی

مدارس کے اساتذہ کرام اپنی صلاحیتوں، مزاج، استعداد اور خانگی احوال کے اعتبار سے مختلف و متنوع ہوتے ہیں۔ بعض انتظامی امور میں ماہر، بعض گھریلو زندگی میں قدرے مضبوط اور ذمہ داریوں سے آزاد، جبکہ بعض محض تدریس و تربیت میں منہمک اور گھریلو ذمہ داریوں سے گراں بار ہوتے ہیں۔ یہ حضرات اپنی تمام توانائیاں طلبہ کو علوم و فنون میں ماہر بنانے، ان میں لکھنے پڑھنے کی عادت ڈالنے، اور ان کی فکری و اخلاقی تربیت میں صرف کر دیتے ہیں۔ ان کی دنیا کا دائرہ اکثر مدرسہ اور اس کے طلبہ تک محدود رہتا ہے، اور وہ تجارتی پیچیدگیوں، مالی بازاروں یا معاشرتی سازشوں اور رنگینیوں سے بالکل بے خبر رہتے ہیں۔
اہل و عیال کی ضروریات اور زندگی کے تقاضوں کے باعث بعض اساتذہ اپنی سالوں کی جمع پونجی بازار میں سرمایہ کاری یا مضاربت کے نام پر لگا دیتے ہیں، مگر مکار اور چالاک تاجروں کے ہاتھوں یہ سرمایہ ہڑپ لیا جاتا ہے۔ یوں وہ استاد، جو علم و تدریس میں اپنی جان و دل لگا دیتے ہیں، آخرکار لُٹے پٹے گھر کے رہ جاتے ہیں نہ گھاٹ کے۔
رات و دن تدریس، تعلیم و تربیت اور طلبہ کی صلاحیت سازی میں مشغول یہ اساتذہ جب کسی مصیبت، بیماری یا حادثے کا شکار ہوتے ہیں، تو بعض مدرسہ کے ذمہ داران نہ صرف ان کی خبر گیری تک نہیں کرتے؛ بلکہ ان کی حالت زار پر سنجیدگی سے توجہ دینے اور جزوی انسانی معاونت تک سے گریز کرنے کو کار ثواب سمجھتے ہیں۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ : وہ اساتذہ، جنہوں نے قوم کے بچوں کی تعمیر اور مستقبل کی تشکیل میں اپنی زندگیاں قربان کیں، اگر ان تکلیف دہ سلوک کی وجہ سے تدریس چھوڑ کر محنت و مشقت یا امامت کی طرف نہ جائیں، تو ان کے لیے کون سا راستہ باقی رہ جاتا ہے؟ مدرسہ کی معمولی تنخواہ ان کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کر سکتی، اور اضافی ہنگامی اخراجات کی بھرپائی کب اور کیونکر ہوگی؟
ہمدردان قوم و ملت کب ان کے درد کو سمجھیں گے؟ ملک میں پیش آمدہ آفات اور ہنگامی حالات میں راحت رسانی اور خدمت انسانیت یقیناً ضروری ہے، یہ کام بھی جاری رہے؛ مگر ہمارے یہ مدرسین بھی “شاید انسان ہی ہیں “ فرصت ملے تو کچھ رفاہی اقدامات حالات گزیدہ ان اساتذہ کے لیے بھی ہونے چاہئیں، جنہوں نے ہمارے لیے اپنی توانائیاں قربان کیں اور ہماری روشنی کو برقرار رکھا۔ یہ کیسا عدل ہے، یہ کیسا انصاف ہے، کہ وہ چراغ جو قوم کو روشن رکھنے میں اپنی جان لگا دیتے ہیں، خود اندھیروں میں رہ جائیں؟
اب ہم کیا کریں؟
یہ شاید قارئین کرام کو چھوٹا منہ بڑی بات لگے، مگر اظہار کے بغیر چارہ کار بھی تو نہیں۔کب تک مہر بہ لب رہا جائے ؟ ناچیز کے خیال سے اس وقت ترجیحی بنیادوں پر ضروری اقدامات درج ذیل ہو سکتے ہیں:

رابطۂ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند اس مسئلے پر سب سے پہلے پیش قدمی کرے۔

تمام ملحقہ مدارس کے ذمہ داران کو پابند کرے کہ تنخواہوں کے معیار کو دارالعلوم دیوبند کے طرز پر مقرر کریں، تاکہ اساتذہ کی بنیادی ضروریات پوری ہوں اور وہ عزت و وقار کے ساتھ تدریس جاری رکھ سکیں۔

ایک جامع لائحہ عمل ترتیب دیا جائے، جس میں مالی تحفظ، رفاہی انتظامات، اور ہنگامی صورت حال میں مدد کے فوری اقدامات شامل ہوں۔

تمام ملحقہ اداروں کو عمل درآمد کا مکلف بنایا جائے اور ہر سطح پر نگرانی یقینی بنائی جائے۔

اگلے اجلاس و اجتماع میں رپورٹ طلب کی جائے تاکہ پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔

جو مدرسے اس لائحہ عمل پر عمل درآمد میں سست روی دکھائے یا ناکام رہیں، ان کی رکنیت کی منسوخی پر غور کیا جائے، تاکہ عملی اقدام کی اہمیت ہر کسی کے لیے واضح ہو۔
توقع ہے کہ یہ اقدامات اساتذہ کے تئیں انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کریں گے، اور ان کے لیے حقیقی تحفظ اور قدر کی ضمانت بھی فراہم کریں گے۔ ان محسنینِ قوم کی عزت و وقار بحال کیے بغیر، ہم اپنی آنے والی نسلوں کی تعلیم، تربیت اور روشن مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال دیں گے۔
اگر یہ چراغِ علم بجھ گئے، تو روشنی کے ساتھ امید بھی اندھیروں میں کھو جائے گی۔ لہٰذا یہ وقت ہے کہ قوم جاگے، رہنما سنجیدہ ہوں، اور مدارس کے ان چراغوں کو وہ مقام و منزلت دے جو ان کا حق ہے۔ کیونکہ حقیقت میں یہ “اجیر “ نہیں، معمارِ قوم ہیں، اور آنے والی نسلوں کی روشنی ہیں۔( جاری )

شکیل منصور القاسمی
مركز البحوث الإسلامية العالمي
(اتوار 14؍ ربیع الاوّل 1447ھ 6؍ ستمبر 2025ء)

Scroll to Top