مفتی اور فتوی

فتوی اسم مصدر ہے۔ جسکی جمع ” فتاوی” اور ” فتاوِی ” ہے۔افتاء یعنی کسی کو کوئی مسئلہ یا حکم بتادینے کو لغت میں فتوی کہتے ہیں۔

شرعی اصطلاح میں پوچھنے والے شخص کو دلائل شرعیہ کے ساتھ حکم شرعی بیان کردینے کو ” فتوی ” کہتے ہیں۔

“مفتی” اس کو کہتے ہیں جو قرآن و حدیث میں کامل دسترس رکھتا ہو۔دلائل ومصادر شرعیہ پہ جس کی گہری اور دقیق نظر ہو۔غور وتدبر کی صلاحیت سے بھی مالا مال ہو ۔علوم شرعیہ ماہر اساتذہ فن سے سبقا سبقا پڑھا ہو ۔پیش آمدہ مسائل وواقعات میں قرآن و حدیث کی روشنی میں لوگوں کی رہنمائی کرتا ہو۔

اس کا موضوع علی العموم لوگوں کے افکار ونظریات پہ احکام خداوندی منطبق کرناہے ۔لوگوں پہ احکام بجبر واکراہ تھونپنا اس کا موضوع نہیں۔

علامہ قرافی کے بقول مفتی ‘ اللہ کا ترجمان، اور علامہ ابن القیم کے بقول مفتی’ اللہ کا ایسا وزیر ہے جو احکام شاہی پہ مہر لگانے کے منصب پہ فائز ہو۔ابن المنکدر کا خیال ہے کہ مفتی’ اللہ اور اس کی مخلوق کے درمیان ایک واسطہ ہے۔

رسالت مآب ۖ کے زمانے میں حضورنبی اکرم ۖ خود منصب افتاء پر فائز تھے ، وحی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتویٰ دیاکرتے تھے ،اورآپ کے فتاویٰ جوامع الکلم تھے اورحضرات صحابہ کرام آپ ۖ سے پیش آنے والے مسائل سے متعلق سوالات کرتے تو آپ ۖ وحی کے ذریعے سے ان کے جوابات مرحمت فرماتے تھے ، چنانچہ قرآن کریم میں آیاہے ”ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیہن” النساء 127(لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں مسئلہ پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان عورتوں کے بارے میں فتویٰ دیتاہے )اسی طرح قرآن وسنت میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے سوالات اورآپ ۖ کی طرف سے دیے گئے جوابات (فتاویٰ)مذکور ہیں،آپ ۖ کے یہ فتاویٰ (یعنی احادیث)اسلام کے احکام کا دوسر اماخذ ہیں،ہرمسلمان کے لیے ان پرعمل کرناضروری ہے ،اوراس سے کسی کوانحراف کرنے کی اجازت نہیں ۔(ارشاد المفتیین )

نبی کریم ۖ کے اس دنیا سے وصال فرماجانے کے بعد فتویٰ کے کام اور ذمہ داری کو صحابہ کرام نے سنبھالا اوربہت احسن طریقے سے انجام دیا ،حضرات صحابہ کرام فہم وفراست اورذہانت وذکاوت میں مختلف درجات کے حامل تھے چنانچہ ان میں سے جوحضرات فتویٰ دیاکرتے تھے ان کی تعداد ایک سوتیس سے کچھ زائد تھی(اعلام الموقعین : ج،١،ص ١٢)

البتہ زیادہ فتویٰ دینے والے سات حضرات کے اسماء گرامی مندرجہ ذیل ہیں ۔

(١)حضرت عمربن خطاب (٢)حضرت علی بن ابی طالب (٣)حضرت عبداللہ بن مسعود (٤)حضرت عائشہ (٥)حضرت زیدبن ثابت (٦)حضرت عبداللہ بن عباس(٧)حضرت عبداللہ بن عمر ۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دورمبارک میں بفضل خداوندی بہت فتوحات حاصل ہوئیں ،اس وجہ سے حضرات تابعین مختلف بلاداسلامیہ میں دین متین کی خدمت سرانجام دے رہے تھے،اکثربلاد اسلامیہ میں ایسے حضرات مقررتھے جولوگوں کی رہنمائی کرتے،مدینہ منورہ میں حضرت سعیدبن المسیب ،حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف ،حضرت عروہ بن الزبیر،حضرت عبیداللہ ،حضرت قاسم بن محمد،حضرت سلیمان بن یسار اورحضرت خارجہ بن زید انہیں کو فقہاء سبعہ بھی کہاجاتاہے۔

ان کے علاوہ حضرت حسن بصری،حضرت ابراہیم نخعی، حضرت مسروق ،حضرت علقمہ بھی افتاء کی خدمات سرانجام دیتے تھے ،اس کے بعددوسری صدی ہجری میں فقہ وافتاء کے بڑے بڑے ائمہ اور مجتہدین پیداہوئے ، جنہوں نے فقہ وفتاویٰ اوراجتہاد واستنباط کے حوالے سے کارہائے نمایاں انجام دیے،چنانچہ انہی مجتہدین میں سے چارحضرات امام اعظم ابوحنیفہ ،امام مالک ، امام شافعی اورامام احمدبن حنبل کی تدوین کردہ فقہ کو امت کے سواداعظم نے قبول کیا ہے ۔

“افتاء ” یعنی فتوی دینا

ایک عظیم الشان منصب ہے،اس کی فضیلت واہمیت ہر شخص پر روزروشن کی طرح عیاں ہے ۔اوپر کی سطروں سے اس کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا۔

فقہاء کرام اور مفتیان عظام کی وہ جماعت جنہوں نے اپنے آپ کو استنباط احکام اور استخراج مسائل کے لئے مختص کیا اور حلال وحرام کو معلوم کرنے کے لیے قواعد وضوابط مرتب کیے وہ تاریک رات میں ستاروں کی مانند ہیں اوریہی لوگ انبیاء کرام علیہم السلام کے حقیقی وارث ہیں،نبی کریم ۖ کا ارشاد گرامی ہے ۔

”العلماء ورثة الانبیاء وان الانبیاء لم یورثوا دینارا ولادرہما وانما ورثوا العلم فمن اخذبہ فقداخذ بحظ وافر”…(رواہ الترمذی فی کتاب العلم ،باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادة )

قرآن کریم میں اولوالامر کی اطاعت اور فرمانبرداری کو واجب اورضروری قراردیاگیاہے”یایہاالذین آمنوا اطعیوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم”(اے ایمان والو! اطاعت کرواللہ کی اور اطاعت کرورسول کی اوراولی الامرکی) ایک تفسیر کے مطابق ”اولوالامر”سے مراد حضرات علماء اور فقہاء ہیں ۔

امام شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مفتی امت میں افتاء اور تبلیغ کے اعتبار سے نبی کریم ۖ کا قائم مقام ہوتاہے ، چنانچہ امام شاطبی لکھتے ہیں۔

”وعلی الجملة فالمفتی مخبرعن اللہ تعالیٰ کالنبی ونافذامرہ فی الامة بمنشورالخلافة کالنبی”

الحاصل مفتی لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کی خبر دیتاہے اوراس کے ارشادات کو لوگوںپر نافذ وجاری کرتاہے ۔ (الموافقات :ج ،٤،ص ،٢٤٤تا٢٤٥)

افتاء کی اسی اہمیت کے پیش نظر اس منصب پہ فائز شخص کے لئے درج ذیل اوصاف وشرائط سے متصف ہونا بھی ضروری ہے :

الف:- عاقل بالغ مکلف ہونا۔

ب:- شریعت کے ضروری علم کا حامل ہونا۔

ج:- درجۂ ثقاہت پر فائز ہونا۔

د:- فقہی طبعیت، ذہن میں سلامتی اور غور وفکر کی صلاحیت ہونا۔

ہ:- منکرات ومعاصی سے پوری طرح اجتناب کرنے والا ہونا۔

و:- بد اخلاقی اور بے مروتی سے محفوظ ہونا۔

ز:- منفعل المزاج نہ ہونا۔

ک:- دنیا سے بے رغبت ہونا۔

ظاہری ہیئت ، وضع قطع اور لباس وپوشاک کے لحاظ سے بھی مفتی کو ان صفات سے متصف ہونا چاہئے :-

مفتی کو لوگوں کے سامنے باوقار لباس میں آنا چاہئے، مفتی اپنی وسعت کے مطابق دائرۂ

شریعت میں رہتے ہوئے، اچھا لباس زیبِ تن کرے، اور طہارت و نظافت کا اہتمام رکھے؛ کیونکہ اگر آدمی کی ظاہری ہیئت قابل قبول نہ ہو، تو اس کی بات کا وزن بھی عام لوگوں کی نظر میں زیادہ نہیں ہوتا۔ (اصول الافتاء و آدابہ ۳۲۴)

ادلہ شرعیہ :قرآن، سنت ،اجماع امت اور قیاس سے مستنبط احکام شرعیہ (فتاوی ) کو دیدہ دانستہ توہین واستخفاف کی نیت سے مفتیوں کی ” خانہ ساز ” آراء کہنا یا اس طرح کے دیگر تنقیصی فقرے کسنا انتہائی خطرناک امر اور باعث کفر ہے ۔

في ’’الفتاوی الہندیۃ‘‘: رجل عرض علیہ خصمہ فتوی الأئمۃ فردہا وقال:’’ چہ بارنامہ فتوی آوردہ ‘‘۔ قیل یکفر لأنہ رد حکم الشرع وکذا لو لم یقل شیئاً لکن ألقی الفتوی علی الأرض وقال : ’’ ایں چہ شرع است‘‘ کفر۔

(۲/۲۷۲،کتاب السیر، الباب التاسع في أحکام المرتدین ، مطلب موجبات الکفر ومنہا ما یتعلق بالعلم والعلماء ،الفتاوی التاتارخانیۃ :۴/۲۶۲،کتاب أحکام المرتدین ، فصل في العلم والعلماء ۔۔۔الخ)

في ’’الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الہندیۃ‘‘: رجع من مجلس العلم فقال آخر:’’ از کشت آمد ا ‘‘۔ وقال:’’ مرا بعلم چہ کار ‘‘۔ أو قال : من یقدر علی أداء ما یقولون أو ألقی الفتوی علی الأرض أو قال: ’’ چہ بار نامہ آوردی ‘‘ عند رویۃ الفتوی أو قال: ’’ ایں چہ شرع است ‘‘ یکفر لأنہ رد حکم الشرع ۔

(۶/۳۳۷ ،کتاب ألفاط تکون إسلاماً وکفراً ، الفصل الثاني ، النوع الثامن في استخفاف العلم والعلماء)

آج کل ذرائع ابلاغ بالخصوص سوشل میڈیا پہ فتاوی کے بخئے ادھیڑ نے اور انہیں مسلمانوں کی نظروں میں بے وقعت کرنے کی منظم سازشیں عروج پہ ہیں ۔ بعض پڑھے لکھے مسلم دانشوران بھی اس کے شریک کار بن جاتے ہیں ۔خدا را ایسے احباب اپنے ایمان کی خیر منائیں۔علماء دین اور ان کے فتاوی کی توہین کرکے اپنی دنیا وآخرت برباد نہ کریں۔ واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم۔۔۔۔واللہ اعلم بالصواب ۔

شکیل منصور القاسمی

Scroll to Top