میرے یار، میرے ہمدم، مشفق و مکرم پیارے دوست محترم عالی مقام حضرت مولانا مفتی مجتبی حسن صاحب قاسمی کو رحمہ اللہ لکھتے ہوئے دل کانپ رہا ہے، آنکھیں اشکبار ہیں،آج 20 اپریل بروز بدھ آٹھویں تراویح کی نماز سے فارغ ہوکر گھر کی طرف آتے ہوئے جوں ہی موبائل آن کیا، موبائل کی گھنٹی بجنے لگی، عزیزم حافظ اویس سلمہ کافون تھا، اس نے علیک سلیک کے بعد حادثۂ فاجعہ کی اطلاع دی، دل ماننے کے لئے بالکل تیار نہیں ہوا، میں نے اس واقعہ کی صحت کے تعلق سے چند سوالات کرنے کے بعد فون کاٹ دیا، لیکن چوں کہ چند دنوں سے ان کی علالت کی خبر مل رہی تھی، اس درمیان کئی مرتبہ رابطے کی کوشش بھی کی، لیکن بات نہیں ہوپائی، آج ہی قبیل المغرب محب گرامی مفتی شکیل صاحب قاسمی دامت برکاتہم سے ان کی صحت کے تعلق سے بات ہوئی، انھوں نے بھی بتایا کہ میں نے آج فون کیا تھا لیکن فون رسیو نہیں ہوا، اس لئے مجھے عزیزم حافظ اویس سلمہ کی خبر پر کسی قدر تشویش ہوئی اور میں نے حضرت مفتی شکیل صاحب قاسمی کو فون لگایا، انھوں نے علیک سلیک کے بعد نہایت ہی دلگیر آواز میں اس حادثۂ فاجعہ کی تصدیق کردی، پھر کیا تھا، غیر اختیاری طور پر میری چیخ نکل گئی اور آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب امڈپڑا، میں اور مفتی صاحب دونوں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے، اسی حالت میں گھر پہنچا، رفیق گرامی مولانا غفران ساجد سے رابطہ کیا وہ ممبئی تھے، اور آنے کی تیاری کر رہے تھےا نھوں نے لڑکھڑاتی آواز میں واقعہ کی تفصیل بتائی اور یہ بھی بتایا کہ گجرات سے حضرت مفتی مجتبی حسن رحمۃاللہ علیہ کی اہلیہ اور بچے کل دو بجے تک گھر پہنچیں گے، حضرت مفتی مجتبی حسن قاسمی کا انتقال پر ملال نے دل و دماغ کو بالکل ہی جھنجوڑ دیا ہے، آنکھیں رہ رہ کر اشکباری کرتی چلی جارہی ہیں، نیند کا دور دور تک کوئی سراغ نہیں ہے، مسجد کے لاؤدسپیکر سے سحری کے لئے اعلان ہونا شروع ہو چکا ہے،
دراصل ہم تینوں( مفتی شکیل منصور صاحب قاسمی، مفتی مجتبی حسن قاسمی اورناچیز راقم ) ایک دوسرے کے ایام طالب علمی ہی سے میدان علم و تحقیق کے معاون، مشیر اور شریک کار رہے ہیں، ایام طالبعلمی میں مطالعے وکتب بینی، بحث و تحقیق اور تلاش و جستجو کے علاوہ ہمارے تعلقات خورد و نوش، نشست و برخواست، اور سیر و تفریح تک محیط تھے، ہر ایک کے اندر جذبۂ ایثار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، اور فراغت کے بعد بھی ہم ایک دوسرے کے رابطے میں رہے، محب گرامی مفتی شکیل منصور صاحب قاسمی ہماری بالمشافہ ملاقات کی سبیلیں بھی گاہے بگاہے تلاش کرلیا کرتے تھے، اور ہمیں ایام طالبعلمی کی یادیں تازہ کرنےکا موقع مل جایا کرتا تھا، ابھی گزشتہ ماہ کی بات ہے، ادارۂ مباحث فقہیہ کی طرف سے منعقد فقہی اجتماع میں ہم تینوں شریک ہوئے، اور انتظامیہ کی طرف سے پہلے سے طے شدہ الگ الگ قیام گاہ کو منسوخ کرا کے ہم نے ایک تین بیڈ والے کمرہ میں انتظام کرنے کہا جسے ہوٹل منیجر نے بھی بشاشت کے ساتھ قبول کرلیا، اور یوں ہم تینوں جب تک دہلی رہے ساتھ ساتھ رہے، آہ کسے معلوم تھا کہ اب آئندہ اس طرح ہم تینوں جمع نہیں ہو سکیں گے، ابھی چند دنوں قبل ہی کی تو بات ہے، حضرت امیر شریعت کے انتقال پر ملال پر جنازے میں شرکت کے لئے مونگیر جانا ہوا، مفتی شکیل صاحب دہلی تھے، اس لئے وہ جنازے میں شریک نہیں ہو سکے، مجھے فون کرکے کہا آپ چلے جائیے مفتی مجتبی صاحب بھی جارہے ہیں، مفتی مجتبی حسن صاحب قاسمی اور مولانا غفران ساجد صاحب دونوں ساتھ تھے ملاقات ہوئی ہم تین ہوگئے اور جب تک رہے ساتھ رہے، ایک ہفتہ قبل ان سے بات ہوئی وہ نیپال کسی عزیز کے تقریب میں تھے، اسی دن گجرات جانے والے تھے، مگر افسوس طبیعت ساتھ نہیں دے سکی اور ایسےبیمار ہوئے کہ دنیا ہی سے رخصت ہو گئے، جس وقت سے خبر ملی دل بیچین ہے، آخر ایسا کیسے ہوگیا، اتنی جلدی وہ کیسے روٹھ گئے، روٹھنا کام تو میرا تھا، وہ ہمیشہ مجھے منایا کرتے تھے، میرے غصے کو وہ اپنی سنجیدہ مزاجی سے مسکراہٹ میں تبدیل کردیا کرتے تھے، آج وہی روٹھ گئے، اور روٹھے بھی ایسے کہ ہمیں منانے کے لائق بھی نہیں چھوڑا، دو روز قبل جب انھوں نے میرا فون رسیو نہیں کیا میں نے واٹس ایپ پر ان کو لکھا کہ اپنی طبیعت کے بارے میں بتائے، اس کا بھی اس نے کوئی جواب نہیں دیا تو مجھے بہت غصہ آرہا تھا، میں نے ٹھانا تھا کہ ان کی طبیعت ٹھیک ہوجاتی ہے تو بتاؤں گا کہ کب سے اتنا بڑا بے وفا اور نخرے باز بن گئے، ہائے افسوس وہ تو کسی اور ہی حال میں تھے، وہ اپنے رب کے پاس جانے کے فراق میں اس طرح محو تھے کہ انھیں کسی کی کوئی خبر ہی نہیں رہی، اللہ پاک ان کا درجہ بلند کرے، ان کے معصوم بچوں اور اہلیہ محترمہ اور جملہ پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے، میں نےاپنا غم بھلانے کے لئے لکھنا شروع کیا تھا، مگر خیالات کے ہجوم میں غموں کا سیلاب تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے، رات گزرگئی، صبح ہوگئی انکھوں میں نیند کا نشاں تک نہیں، خدایا رحم فرما ،
جہاں کہیں علمی مجلس سجے گی، جب کبھی علمی مباحثہ کا ماحول قائم ہوگا، مجتبی حسن قاسمی کی یاد ستائے گی، بہت ستائے گی،