حکمت ، تدبر ، شعور وآگہی عطیۂ خداوندی اور علم کی نمایاں ترین منزل ہے ، روحِ عصر اور تقاضائے دہر سے ہم آہنگ سماجی ومعاشرتی کوششیں کرنا ، وقت کے سانچے میں ڈھل کر نئی حقیقتوں کو قبول کرنا ہی کسی زندہ قوم کے لئے “آئینِ زندگی “ کہلاتی ہے ۔ وقت کے تباہ کُن ظالم تھپیڑوں سے آنکھیں چرا کر ،قوم وملت کے وسیع تر مفادات ومقتضیات کو پس انداز کرکے دور از کار مشاغل میں پڑنا ، الجھنا والجھانا پرانی راگوں کو چھیڑنا ، بے وقت کی شہنائی بجانا < طرزِ کَُہن پہ اَڑنا > قیادت کی غداری اور ضمیر کی بے حسی کے سوا اور کیاہو سکتا ہے ؟ ۔
“چھوٹے مقاصد “ اور “محدود سوچوں” کے لئے جینے والے جن افراد کی رگوں اور شریانوں میں انفرادیت ، ہوس ،دولت ،عہدہ ،اقتدار و شہرت پرستی کا ہی خون دوڑ رہا ہوتا ہے انہیں قوم اور ملت کے عمومی اُفتاد وزیاں کے وقت بھی مختلف عناوین سے مختلف مواقع پہ دین ومذہب کے ہی حسین،دلکَش وجاذب نظر ناموں سے “ سرکَس لگانے “ اور اس میں گلو کاری ، ساز و آواز ، عجیب وغریب لَے ، سُر اور تان میں کمپٹیشن کے ذریعے “مداری” کا کردار ادا کرنے میں لطف آتا ہے ۔ چونکہ ضمیر ، غیرت واحساس نام کی چیز بالکل سڑ اور گَل چکی ہوتی ہے ؛اس لئے انہیں اس شاطرانہ ومنافقانہ روش پہ کوئی عار بھی نہیں آتی ۔قومی وملی مفادات کو ذاتی وشخصی لحد میں دفن کردینے والے رہبرانِ قوم ریاستی جبر وظلم کے خلاف جرات وعزیمت اور پُراَمن کامیاب جدّ وجہد میں مظاہرہ و مسابقہ کرنے کی بجائے قرآن خوانی کے “مسابقے “میں جُٹ جائیں تو انہیں منزلِ مقصود کا سُراغ کیسے ملے گا ؟ :
جو بے خبر ہے ابھی تک خود اپنی منزل سے
تو ایسے خضر سے کس طرح رہبری ہوگی؟
شکیل منصور القاسمی