ناموسِ صحابہ کے جاں باز محافظ — حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی رحمہ اللہ

ماضی قریب اور عصر حاضر کی جن چند نابغہ روزگار ہستیوں سے ان کے شخصی تفوق ، خداداد محاسن ومحامد اور ذاتی فضل وکمال کے باعث ، عاجز کو بے لوث قلبی و روحانی والہانہ عقیدت ومحبت رہی ہے ان میں مخدومی ومعظمی حضرت مولانا عبد العلیم صاحب فاروقی لکھنوی رحمہ اللہ کی شخصیت ممتاز مقام رکھتی تھی ، جن لوگوں نے حضرت کی ہمہ جہت ومتنوع ہشت پہل شخصیت کو قریب سے دیکھا یا پڑھا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضرت کو کیسے کیسے محامد ومحاسن اور فضل وکمال سے نوازا تھا ؟ شفقت ، محبت ، وفور علم ، خورد نوازی ، حق گوئی ، جرات اظہار وبے باکی ، خداداد ذکاوت وذہانت ، غیر معمولی فہم وفراست ، متانت وسنجیدگی شیریں بیانی وشستہ زبانی ، اور نصح وخیر خواہی کے آپ منبع تھے ، جب بھی بالمشافہ زیارت یا ٹیلیفونک گفتگو ہوتی ، روح کو بالیدگی اور قلب ونظر کو عجیب سکون ملتا تھا ، ہمارے اسلاف کرام ؛ بالخصوص علماے دیوبند کے آپ بہترین نمونہ و قابل فخر یادگار وبے باک تر جان تھے ، حق تعالی نے ناموس صحابہ کے تحفظ کے میدان میں آپ سے جو خدمات لی ہیں وہ “ایک آدمی“ کے نہیں ؛ بلکہ “اکاڈمی“ کی ہیں۔
آپ محرم اسرار دین تھے ، ممتاز عالم دین اور بالغ نظر مصنف تھے ، منصف مزاج مورخ اور شستہ مزاج ادیب تھے ، بہترین اور صاحب طرز خطیب تھے ، لاجواب انشاء پرداز اور نثر نگار تھے ، بے مثال منتظم وباکمال مربی تھے ، منزل آشنا اور باخبر وباحوصلہ ملی قائد تھے ، ان تمام حیثیتوں کے ساتھ آپ کی ایک حیثیت ناموس صحابہ کے جانباز محافظ کی بھی تھی ، اپنی اس حیثیت کے اعتبار سے آپ اپنے ہم عصروں میں ممتاز نظر آتے ہیں ۔روافض واہل تشیع کی کمین گاہوں سے واقف چوکنا وہوشیار نباض وقت ، معاملہ فہم ، بابصیرت ، پیکر عزم وحوصلہ ، بروقت اقدام کی صلاحیتوں سے بھرپور ترجمان اہل سنت تھے ۔
حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی صاحب رحمہ اللہ فاروقی النسل ہیں، ۳۲ واسطوں سے آپ کا سلسلہ نسب امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے مل جاتا ہے ۔ آپ کے والد حضرت مولانا عبد السلام فاروقی(م1973) ہیں جو امام اہل سنت حضرت مولانا عبد الشکور صاحب فاروقی لکھنوی کے فرزند تھے ،
آپ کی ولادت 1948ء میں لکھنؤ میں ہوئی ، ابتدائی تعلیم اپنے والد اور دادا جان کی زیر نگرانی مدرسہ فرقانیہ لکھنؤ میں پائی ، عربی کی ابتدائی تعلیم کے لئے ادارہ محمودیہ لکھیم پور میں داخل ہوئے اور عربی سوم تک یہیں پڑھے ، سن 1966ء میں جامعہ مظاہر علوم سہارنپور تشریف لے گیے اور وہاں عربی متوسطات اور مشکوۃ تک کی تعلیم حاصل کی ، اس کے بعد ازہر ہند دار العلوم دیو بند چلے آئے 1969ء میں یہیں سے حضرت مولانا فخر الدین احمد صاحب ؒ سے بخاری شریف پڑھ کر سند فراغ پائی ،1970ء میں دار المبلغین لکھنؤ میں تدریس اور عملی زندگی کا آغاز کیا ، پھر 1973 میں والد کے انتقال کے بعد دار المبلغین کی ذمہ داری دوش ناتواں پہ آگئی ، تعلیم ظاہری سے فراغت کے بعد دارالمبلغین کے پلیٹ فارم سے دینی ، ملی ، تبلیغی دعوتی اور دفاع صحابہ جیسے کاموں میں تن ومن سے انہماک کو مقصد حیات بنالیا، ملک کی باوقار تنظیم جمعیت علماے ہند سے وابستہ ہوئے اور مختلف ادوار میں مختلف حیثیتوں سے کہیے کہ اسی کا ہوکے رہ گئے، میدان عمل میں کود کر اپنا تاریخی کردار اور عصری فریضہ نہایت خلوص، دیانت داری اور مردانگی سے ادا کیا،مفادات حاصلہ کے لئے لگے ہوڑ اور شخصی تگ ودو کے آج کے مسابقتی زمانے میں علماے دیوبند کے اخلاص، للّٰہیت، استغناء وتوکل علی اللہ کی شاندار روایت کو بڑی پامردی اور حوصلہ مندی سے باقی رکھا، کبھی بھی خود کو “ضمیر” “عوام” اور “تاریخ” کے سامنے شرمندہ نہیں ہونے دیا۔
بلندحوصلگی، کشادہ نظری اور حلم مزاجی کے ساتھ آپ نہ صرف “بلندیِ فکر” کے حامل تھے ؛ بلکہ اپنے بلندافکار کو عمل کے سانچے میں ڈھالنے کی غیر معمولی خدا داد صلاحیت رکھتے تھے۔ نری فکر اور خشک وسہانے خواب نتیجہ خیز نہیں ہوتے ؛ جب تک انہیں تشکیل، تعمیر وتعمیل کے لئے عملی تصویر دینے کی متجسم اخلاقی طاقت، جذبہ ایثار وقربانی، اور حکمت وبصیرت حاصل نہ ہو۔
لسانی ، وطنی ، مقامی اور ادارتی تنگ نائیوں سے آپ یکسر پاک ومنزہ تھے ، یہی وہ مقناطیسی کشش تھی جو بلا امتیاز اصحاب علم وفضل کو آپ کے قدموں میں کھینچ لاتی تھی ،شاعر مشرق علامہ اقبال نے میر کارواں کے لئے جس رخت سفر ، شرائط واوصاف کی نشاندہی کی ہے :
نگہ بلند ، سخن دل نواز ، جاں پرسوز
يہی ہے رخت سفر مير کارواں کے ليے
وہ آپ میں خلاق اکبر نے کافی حد تک مستجمع کردیئے تھے ۔

نگہ بلند :

بلندیِ مقاصد ، فکری آفاقیت ، خیالات کی پاکیزگی، ماضی سے سبق حاصل کرکے مستقبل کیلئے موثر وقابل عمل منصوبہ بندی و پیش بندی ، زمانہ کے چیلنجز ،تقاضے ، حالات ، مشکلات مسائل و معاملات سمیٹنے کی بھرپور صلاحیت، دوراندیشی ، تعمیری ، انقلابی ، مثبت اور جاندار سوچ وعمل، قول وعمل میں یکسانیت ۔ حضرت کا وصف ممتاز تھا اور اس کے سہارے آپ اپنا سفر طے کرتے تھے ۔

سخن دل نواز :

جس نے بھی حضرت کو سنا وہ گواہی دے گا کہ آپ کے انداز بیان میں جاذبیت، تاثیر ، کشش ، موضوع پر گرفت ، دل کو موہ لینے اور متاثر کردینے والے نرم الفاظ وتعبیرات کے استعمال پر بلا کی قدرت تھی، گفتار میں نرمی ، جامعیت اور تسلسل تھا۔ لہجے میں ایسی جاذبیت تھی کہ اصحاب علم وفضل کوایک وحدت، اتحاد اور نظم وضبط میں پروئے رکھتی تھی ، متبعین ، متعلقین ، منتسبین میں سے ہر فرد کے جذبات واحساسات کا پورا خیال ہوتا تھا ، ہر فرد کے دکھ درد ، تکلیف ، غم ، خوشی کو وہ اپنا سمجھتے ، ہرایک کا دل سے احترام اور ہرایک کی عزت نفس کا خیال رکھتے تھے ۔

جاں پرسوز :

قائد ورہبر ومیرکارواں کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ منزل کی جانبِ منزل سفرکی راہ میں پیش آنیوالی تکالیف مسائل مشکلات ومصائب کا جرات استقلال عزم ہمت اور بہادری سے نہ صرف مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو بلکہ مشکلات ومصائب کو آسانیوں، چیلنجز کو مواقع میں بدلنے کے فن پر دسترس رکھتاہو ۔ ناامیدی کی گھٹا ٹوپ اندھیروں میں امیدوں کے چراغ روشن کرسکے، حالات سے سمجھوتہ کے بجائے مقابلے کی جرات کر سکتا ہو ۔ سختیوں کو جھیلنے اور نامساعد حالات میں جینے کا ہنر رکھتا ہو۔الحمد للہ حضرت فاروقی رحمہ اللہ کی ذات والا صفات میں یہ وصف بھی درجہ اتم موجود تھا ۔
جن لوگوں نے حضرت فاروقی رحمہ اللہ کی شخصیت کو قریب سے پڑھا ہے وہ اچھی طرح واقف ہیں کہ حضرت نے دین ومذہب کی سربلندی ، تحفظ ناموس صحابہ ، احقاق حق وابطال باطل جیسے عظیم مقاصد کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کردی تھی ۔ آپ کی ساری جفاکشی ، محنت ، ریاضتیں ، ایثار وخدمات دین ومذہب کی سربلندی کی خاطر ہی تھیں ۔
اس کے ساتھ ہی اللہ تعالی نے آپ کو “حقیقت پسندانہ مزاج “ سے نوازا تھا ، لوگوں کی باتوں کو حسن قبح اور خیر وشر کی میزان میں تولے بغیر بالکل قبول نہیں کرتے ۔ خوش آمدانہ باتوں سے آپ کو دلی تکلیف ہوتی ، دور ازکار فروعی مباحث اور لاطائل کاموں سے اعراض وچشم پوشی کی پالیسی اختیار فرماکر مثبت اور تعمیری کاموں کے وسیع وعریض میدان پر نگاہ مرکوز رکھتے ہوئے سرگرم عمل رہنے کی تلقین فرماتے ۔حاسدین ، معاندین ، معاصرین ومخالفین کے شور وغل اور چیخ وپکار کو بلند حوصلگی ، عالی ظرفی ، حلم مزاجی ، اور عفو ودرگزر کے ساتھ برداشت کرنے کی تاکید فرماتے تھے ۔برہنہ دماغوں ، آوارہ زبانوں کے مبتذل الفاظ ، سب وشتم اور سخت وسنگلاخ اور ہتک آمیز تبصروں پہ صبر وضبط اور برداشت کی تعلیم دیتے تھے ۔یعنی کہ آپ متانت وسنجیدگی ، صبر واعتدال ،عالی ظرفی اور حلم مزاجی کی تصویر جمیل تھے ۔آپ میں پہاڑوں کا شکوہ ، زمینوں کا تحمل اور سمندروں کی گہرائی تھی ۔
اگست 2022 میں ہمارے واٹس ایپ حلقے میں ایک فاضل رکن کی ایک مشترک تحریر کے باعث فسق یزید والی بحث چھڑ گئی تھی ، اس بابت فضلاے حلقہ کے دو الگ الگ نقطہاے نظر تھے ، شرکاء حلقہ کی طرف سے اس بابت علمی تحقیق، تعلیق، تبصرے وتجزیئے کی گہرافشانی شروع ہوگئی۔ ویسے ماہ محرم آتے ہی چند سالوں سے ہمارے واٹس ایپ حلقے “مرکزالبحوث” میں فسق یزید پہ خواہی نخواہی بحثوں کا طویل سلسلہ چل پڑتا تھا، کئی سالوں سے یہ معمول چلا آرہا تھا، لیکن بحث بغیر نتیجہ و فیصلہ ہی ختم ہوجاتی تھی، خلاف معمول اس مرتبہ یہ طے کیا گیا کہ بحث بے نتیجہ نہ چھوڑی جائے، طرفین سے اپنا اپنا مدعا مدلل و مبرہن پیش کرنے کی گزارش کی گئی۔ پھر تکمیل بحث کے بعد حکم دلائل وبراہین کی روشنی میں اپنا فیصلہ قلمبند کرکے حلقے میں مشترک کردیں گے۔
یہاں رک کر یہ ذہن نشیں کرتے جائیں کہ ردو قدح، بحث وتمحیص اور تنقید وتحقیق؛ قوم وملت کے ضروری ووسیع تر تعمیری مفاد یا اصلاح، اور ارشاد و ہدایت کے جذبے سے ہو تو یہ بامقصد، دور رس، نتیجہ خیز اور ثمرآور کوشش کہلاتی ہے، جس سے قوم وملت کی فلاح و بہبود متعلق ہوتی ہے۔ فضل وکمال کے اظہار، یا ذاتی تفوّق و برتری کے لئے، اصول پسند دلیلوں سے انحراف اور طبع زاد بودی دلیلوں سے استشہاد کے ذریعہ، اپنی رائے، فکر، سوچ اور انفرادیت کو بزعم خود فیصلہ کُن سمجھنا، فرسودہ راگوں کو چھیڑنا، دور ازکار فروعی اور ضمنی مباحث میں الجھنا والجھانا، لاطائل طبع آزمائی، تضییع اوقات، قوم وملت کی بیش قیمت اور صالح ذہانتوں کو انتشار کا شکار کرنا، عوام میں اختلاف و فتنے، تخریب، تضحیک اور تحقیر وتنقیص کے نئے دروازے کھولنا، تشویش و اضطراب کا زنجیری سلسلہ قائم کرنا ہے. جو عموماً بے سود ہوتا ہے۔
علم، حِلم اور عقل تینوں کا معتدلانہ و حقیقت پسندانہ فطری مجموعہ سے معاشرے میں صالح انقلاب وحقیقی تبدیلی آئے گی.
حلم وعقل پہ تسلط وغلبہ کے بغیر، نِرا علم یا چرب زبانی نے عوام کے لئے سوائے فتنے اور گمراہی کے کبھی کوئی اور پھل دیا ہے؟ جذبات کا شکار ہوکر حلم وعلم کے مقتضیات کو کھو بیٹھنا “خشک مزاجوں” خوش فہموں “انا پرستوں” اور “فتنہ انگیزوں” کا کام ہے۔
‎موضوع انتہائی حساس و نازک تھا، حکمیت مصیبتوں اور جذباتیت سے بھری ذمہ داری ہوتی ہے، اس کے تقاضے بھی سب اچھی طرح جانتے ہیں. فریقین کی جانب سے کئی دنوں تک جاری مباحث ودلائل کا انتہائی باریک بینی کے ساتھ جائزہ لینے کے بعد عاجز نے بطور خلاصہ اپنا تفصیلی موقف رکھا تھا جسے اکابر علماء اور شرکاء حلقہ کی اکثریت نے پسند کیا اور عاجز کے موقف کی تائید کی ؛ لیکن ایک فریق کے بعض دوستوں پہ یہ فیصلہ کافی گراں گزرا ، پھر سوشلستان پہ بندہ کے خلاف جو طوفان کھڑا کردیا گیا وہ گالی گفتار کی انتہا پر تھا ، رفقاء اس پر طبعاً برہم تھے ، قریب تھا کہ یہ سلسلہ طول پکڑ جاتا ؛ لیکن حضرت مخدومی المحترم فاروقی صاحب کو پتہ چلا تو آپ نے خود سے کال کر کے پہلے میرے فیصلے کی مکمل تائید کی ، پھر فرمایا کہ آپ بالکل خاموش ہوجائیں ! مخالف کی کسی ہذیان یا تحریر کا قطعی کوئی جواب نہ لکھیں ، ایسے حریف لائق اعتناء نہیں ہوتے ، آپ ان غیر ناضج الفکر فضلاء کے معیار کے نہیں ہیں ، ایسوں سے الجھ کر آپ کچھ پائیں گے نہیں ! متعلقہ موضوع کے حوالے سے حضرت کے خیالات کا خلاصہ یہ تھاکہ تفسیق یزید اصول دین میں سے نہیں ہے، نہ یہ مدارِ سنیت ہے. اس کا مبنی تحقیق و تفتیش ہے، صرف اسی حیثیت سے اس سے اشتغال رکھا جائے ، قائلین فسق کی نظروں میں ممکن ہے اس کی کوئی وجہ رہی ہوگی اور منکرین فسق کی نظروں میں بھی یقیناً اس کی وجوہات ہیں۔ تفسیق پہ زور صرف کرنا، گہرائی میں اترنا اسے نزاعی وعوامی رنگ دینا . اسی طرح یزید کی بیجا تعدیل وتوصیف اور قصیدہ گوئی کرنا دونوں جادۂِ اعتدال سے تجاوز ہے۔ تفسیق کو امرتحقیق تک ہی محدود رکھا جائے، یہ ایک ضمنی اور فروعی چیز ہے. اس پہ اصول دین کی بناء ہے نہ یہ جزو سنیت ہے ، جس کی رسائی جہاں تک ہوسکے اسے اپنائے، اسے عوامی عقیدہ نہ بنایا جائے ، ورنہ پھر یہ مختلف اندیشوں اور اضطرابات کا ذریعہ اور سبب بنے گا”
‎ایسے اضطراب آمیز وہیجان انگیز ماحول میں ایک قائد کے کردار ، اس کی دور اندیشی ، حلم وضبط ، شرافت ومتانت کا جہاں ہمیں صحیح ادراک ومشاہدہ ہوا ، وہیں ہمیں حضرت کے جلال فاروقی اور الحب فی اللہ والبغض فی اللہ کے حسین مظاہر(وسیع تر معنی میں ) بھی دیکھنے کو ملے ۔حضرت کی حکیمانہ ومشفقانہ ممانعت کے بعد ہم نے اور ہمارے رفقاء نے اپنی زبان کو مہر بہ لب اور قلم کو اس موضوع سے متعلق بالکل پابند سلاسل کرلیا ۔
میں کیا ؟ اور میری حیثیت ہی کیا ؟ میرے ترچھے نقوش اور کج مج تحریروں کی وقعت ہی کتنی ہے ؟
لیکن حضرت مخدومی المحترم کی خورد نوازی کی انتہا تھی کہ میرا اردو یا عربی کا کوئی مضمون کسی واسطے سے حضرت کے باصرہ نواز ہوتا تو خود سے فون کرتے
اگر کبھی میں مشغول تدریس ہوتا اور بعد میں موبائل دیکھتا تو حضرت کی دس دس کالیں چوک گئی ہوتیں ، فون پہ احقر کا حوصلہ بڑھاتے ، تحریروں کی تحسین وتائید فرماتے ، میرے عربی مضامین حضرت کو اردو کی بہ نسبت زیادہ اچھے لگتے ، پچھلے سال ایک ٹیلی فونک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس سرہ اور ان کے عشق رسول سے عربوں کو واقف کرانا چاہئے ، عربی میں اس موضوع پہ ایک جامع اور خوبصورت مضمون قلمبند کرنے کی ضرورت ہے آپ اپنی خوصورت عربی میں اسے تحریر فرمادیں ! حضرت کا حکم عالی تھا ، تعمیل امر کو بندے نے سعادت سمجھا ، بتوفیق الہی مضمون لکھا گیا اور ماہنامہ الداعی کے رمضان وشوال 1445 کے شمارے میں “الشيخ العلامة السيد حسين أحمد المدني وروائع من حبه للرسول صلى الله عليه وسلم ” کے نام سے شائع ہوا ، ماشاء اللہ اہل علم وادب نے اسے شوق کے ہاتھوں لیکر قدر کی نگاہوں سے پڑھا ، بے شمار تشجیعی پیغامات موصول ہوئے ، برادر مکرم ومعظم حضرت مولانا مفتی سید محمد سلمان صاحب منصور پوری مدظلہ العالی نے بھی کافی پسند کیا اور حوصلہ افزا ودعائیہ کلمات کہے ۔
حضرت فاروقی صاحب رحمہ اللہ عاجز سے فرماتے تھے کہ “مجھے آپ سے محبت نہیں ؛ بلکہ عقیدت ہے “حضرت کی قلبی خواہش تھی کہ میں بیرون ملک کی بجائے اپنے ملک کے ہی کسی مرکزی ادارے میں رہ کر تدریسی وتحقیقی کام کروں ، اس خواہش کا بار بار اظہار بھی فرماتے اور اپنے طور پہ اس کے لئے کوشاں بھی رہتے ۔

وفات حسرت آیات

ابھی کچھ ہی دن تو ہوئے تھے کہ چند دیوانوں کا ایک قافلہ ، جس میں ملک کے مختلف خطوں کے افراد شریک تھے، سہارنپور ، رائے پور، گنگوہ ، تھانہ بھون ، نانوتہ اور دیوبند میں موجود نوابغ روزگار شخصیات اور زیر زمیں مستور زمانے کی یادگار ہستیوں کے آستانے کی خاک چھانتے ہوئے لکھنؤ وارد ہوا تھا، لکھنؤ میں جن عظیم ہستیوں کی قدم بوسی سے ہمیں سرفراز ہونا تھا، ان میں سر فہرست اہل سنت کے ترجمان ، امام اہل سنت حضرت مولانا عبدالشکور فاروقی کے جانشیں ، قلوب انسانی میں حضرات صحابہ کی محبت کی شمع روشن کرنے والی شخصیت مخدومی ومحترمی حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی کا اسم گرامی تھا، راستے ہی میں حضرت کے صاحب زادے کے ذریعے ہمیں معلوم ہوا کہ حضرت کی طبیعت علیل چل رہی ہے ، فہمینہ ہاسپٹل وکٹوریہ اسٹریٹ لکھنؤ میں زیر علاج ہیں، اطباء کی طرف سے بات چیت کرنے اور ملنے جلنے کی ممانعت ہے، یہ سن کر ہمیں شدید دھچکا لگا، بالآخر ہماری طرف سے یہ درخواست کی گئی کہ ہم بات چیت نہیں کریں گے،صرف ایک نظر حضرت کو دیکھنا چاہتے ہیں، ہماری درخواست قبول ہوئی اور 18 اپریل 2024 کو تقریباً بارہ بجے ہمیں اطلاع دی گئی کہ آپ حضرات مذکورہ ہاسپٹل آکر حضرت کی زیارت سے شرف یاب ہو سکتے ہیں، ہم لوگ جلدی جلدی ہسپتال پہنچے، آکسیجن لگا ہوا تھا، اشارے سے حضرت نے ہمارے سلاموں کا جواب دیا، شدت ضعف ونقاہت سے شناخت متاثر تھی ، حضرت کے ایک عزیز نے ہمارے رفقاء میں سے ہرایک کا حضرت سے تعارف کروایا ، اور ہماری طرف سے دعاء کی درخواست حضرت تک پہنچادی ، حضرت سے جب اس عاجز نے مصافحہ کیا تو آپ نے گنہگار کے ہاتھ تھام کر قدموں میں بٹھایا ، میری آنکھیں اشکبار اور آواز بھرائی ہوئی تھی ، دل کہر رہا تھا کہ شاید یہ زندگی کی آخری ملاقات ہو ، چند ہی منٹوں بعد ہم سب باری باری عیادت کرکے باچشم تر باہر آبیٹھے ، جب ہم لوگ ایمرجنسی والے روم سے باہر آگئے تو حضرت نے مفتی محمد توصیف صاحب قاسمی کے توسط سے عاجز کو یہ کہلا بھیجا کہ” مفتی شکیل سے کہ دو کہ پہلے سے میری طبیعت اب ٹھیک ہے” ہم لوگ اسی روز لکھنؤ سے اپنے وطن کے لئے چل دئیے، محترمی جناب ڈاکٹر عزیر دستگیر صاحب اور محترمی جناب مولانا عمیر عالم دستگیر صاحب کا ٹکٹ ایک روز بعد کا تھا، اس طرح ہمارے قافلے کا یہ عارضی سفر منقطع ہوگیا، سبھی لوگ اپنے اپنے منزل پر پہنچ گئے، حضرت ترجمان اہل سنت کی یادیں آتی رہیں، مکرمی مفتی محمد توصیف صاحب لکھنوی کے توسط سے ہمیں حضرت کی صحت کے تعلق سے خبریں موصول ہوتی رہیں، 23 اپریل کی بات ہے عزیز گرامی مولانا ابو الحسن علی فاروقی زید مجدہ نبیرہ حضرت فاروقی صاحب نے بتایا کہ حضرت ہسپتال سے اب گھر آگئے ہیں ، الحمدللہ پہلے سے طبیعت اب بحال ہے، البتہ ضعف کا غلبہ ہے، ان شاء اللہ چند دنوں میں وہ بھی دور ہو جائے گا، ہمیں بہت حد تک حضرت کی صحت و عافیت کے تعلق سے اطمینان ہوگیا تھا، مگر آج صبح 24 تقریبا چھ بجے ایک شخص نے” مرکزالبحوث الاسلامیہ” میں مولانا کے انتقال پر ملال کی خبر دی تو عاجز نے اسے سوشلستان کی “بر آمد “ سمجھ کر اس میسیج کو بحق ایڈمن ڈلیٹ کردیا، احباب کی دھڑکنیں یہی کہہ رہی تھیں کہ یا اللہ یہ خبر جھوٹی ہو، مگر “وقعت الواقعہ” کو جوش محبت و عقیدت سے کب تلک ٹالا جاسکتا تھا، بالآخر تھوڑی ہی دیر میں مطلع صاف ہوگیا، خبریں ناقابل انکار ذرائع سے آنے لگیں کہ واقعی دین مبین کا بےباک سپاہی ، صحابہ کا سچا عاشق، اہل سنت کا ترجمان ہمیشہ کے لئے اب سو چکا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون ،
پھر کیا تھا، ہر طرف سے حزن و ملال ، غم و صدمہ ، کرب و الم اور دکھ اور افسوس کے اظہار پر مبنی تحریریں آنی شروع ہوگئیں ، ہر کوئی محزون و رنجیدہ نظر آنے لگا؛ کیونکہ حضرت مولانا عبدالعلیم فاروقی رحمۃ اللّٰہ علیہ ایک عظیم خانوے کے عظیم الشان سپوت تھے، دینی حمیت ان کے رگ رگ میں بھری ہوئی تھی، دین کے اندر کسی طرح کی تلبیس پر ان کی غیرت ایمانی بھڑک اٹھتی تھی، اور وہ بھر پور قوت سے اس تلبیس کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرنے میں مصروف ہوجاتے تھے، اور جب تک اسے کھرچ کر باہر نہیں کردیتے تھے،ان کو سکون نہیں ملتا تھا، لکھنؤ جہاں بارہا ایک مخصوص جماعت کی طرف سے ناموس صحابہ پر انگشت نمائی کی کوشش ہوتی رہی ، مولانا مرحوم بڑی حساسیت سے نگاہ جمائے رکھتے تھے، جب کبھی کسی دشنام طراز کی طرف سے کوئی لاف زنی سامنے آتی ، بلا تاخیر وہ میدان میں گود پڑتے اور اس دشمن صحابہ کا ناطقہ بند کرکے ہی دم لیتے تھے، وہ مادر علمی دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مجلس شوریٰ کے موقر رکن اور جمعیت علمائے ہند کے اہم ذمہ دار بھی تھے، ان اداروں میں ان کی رائے کی بڑی وقعت تھی،ان اداروں میں اپنی اصابت رائے ، دور اندیشی اور مخلصانہ خدمات کے ان مٹ نقوش چھوڑ گئے ہیں ۔
حضرت رحمہ اللہ کی رحلت کا صدمہ صرف ان کے خانوادے کا تنہا صدمہ نہیں ؛ بلکہ پورے علماء دیوبند اور ملی تنظیموں کا اجتماعی صدمہ ہے ، وہ پورے حلقہ دیوبند کا قیمتی سرمایہ تھے ، ان کی وفات حسرت آیات ہم تمام ابناے دیوبند کے لئے بہت بڑا خسارہ ہے ، ان کی رحلت بالخصوص خانوادہ فاروقی اور دار العلوم دیوبند کے لئے عالم اسباب میں بظاہر ناقابل بھرپائی خلاء ہے ؛ کیونکہ ان کی وفات سے دارالعلوم نے اپنا ایک بے لوث ووفاشعار علمی ترجمان اور فکری نمائندہ کھودیا ہے ، جس پہ ہم مرحوم کے خانوادہ کے ساتھ دارالعلوم دیوبند کو بھی تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہیں اور دعاء کرتے ہیں کہ اللہ تعالی انہیں ان کا نعم البدل عطا فرمائے ، لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔

شکیل منصور القاسمی
مركز البحوث الإسلامية العالمي
( بدھ 15؍شوال المکرم 1445ھ24؍اپریل 2024ء)

Scroll to Top