تحریر : مفتی شکیل منصور القاسمی
جب برائ میں مبتلا ہوجانے کا گمان غالب ہو تو نکاح کرنا واجب ہے۔۔۔
جب بیوی کی خوراک پوشاک دینے سے عاجز ہو تو نکاح کرنا ناجائز ہے۔۔
معتدل اور نارمل حالات میں نکاح کرنا سنت موکدہ ہے۔
ایک دو کے علاوہ تمام ہی نبیوں نے اس سنت کو زندہ کیا ہے۔نکاح ہی وہ واحد عبادت ہے جو آدم سے ایں دم تک،اور ایں دم سے آں دم تک یعنی جنت میں بھی عبادت نکاح باقی رہے گی۔
نکاح کے دو رکن اور دس شرطیں ہیں۔رکن کا مطلب یہ ہے کہ اسکے بغیر نکاح قائم ہی نہیں ہو سکتا۔رکن نکاح کے اندر ہوتا ہے۔۔۔۔شرط نکاح کا مفہوم یہ ہے کہ اسکے بغیر نکاح منعقد تو ہو جاتا ہے۔لیکن صحیح نہیں ہوتا۔اور شرط نکاح کے باہر ہوتی ہے۔
نکاح کا رکن اول ایجاب اور رکن ثانی قبول ہے۔۔۔عقد کرنے میں پہلے قول کو ایجاب کہیں گے،خواہ مرد کی طرف سے ہو یا عورت کی طرف سے۔یا انکے اولیاء یا وکلاء کی طرف سے۔اور پچھلے قول کو قبول کہیں گے ۔خواہ مرد کی طرف سے ہو یا عورت کی طرف سے۔
نکاح کی شرطیں درج ذیل ہیں:
1۔عاقدین عاقل بالغ اور آزاد ہوں۔(بغیر عقل اور بلوغ کے ایجاب و قبول صحیح نہیں ہوگا۔آزاد ہونا اسلئے ضروری ہے کہ باندی اور غلام کو مولا کی اجازت کے بغیر نکاح کرنے کا اختیار نہیں )
2۔جانبین میں سے ایک کا عورت ہونا
(ہم جنس کی شادی صحیح نہیں ہوگی۔)
3۔۔ عاقدین اگر خود سے ایجاب و قبول کر رہے ہوں تو دونوں ایجاب و قبول سنیں۔اور اگر وکیل یا ولی ایجاب و قبول کررہے ہوں تو اب عاقدین کا سننا ضروری نہیں۔
4۔۔دو آزاد،عاقل،بالغ،مسلمان مرد گواہ ہوں۔(سب قید احترازی ہے ۔البتہ دو مرد دستیاب نہ سکیں تو ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت بھی معتبر ہے۔)
5۔۔۔لڑکی اگر بالغہ،باکرہ یا ثیبہ ہو تو اسکی رضامندی ضرو ری ہے۔
6۔ایجاب و قبول ایک ہی مجلس میں ہوں۔
7 ۔ایجاب و قبول میں موفقت ہو (اگر ایجاب کے خلاف قبول ہوا تو نکاح صحیح نہیں۔)
8۔۔دونوں گواہ ایجاب و قبول ایک ساتھ سنیں۔الگ الگ سننے سے نکاح صحیح نہ ہوگا۔
9۔۔نکاح کی نسبت عورت کے پورے جسم کی طرف ہو یا ایسے بعض عضو کی طرف ہو جس سے کل ہی مراد لیا جاتا ہو۔جیسے سر یا گردن۔
10۔گواہوں کو معلوم ہو کہ دولہا دلہن کون ہے؟ اور کون کس سے نکاح کرتا ہے۔
دنیا کی تمام ہی زبانوں میں ایجاب و قبول کرنے کی گنجائش ہے۔اگرچہ عاقدین اسکے معنی نہ سمجھتے ہوں! (جامع الرموز،شرح الوقایہ )
جب دولہا دلہن دونوں نابالغ ہوں یاایک بالغ اور دوسرا نابالغ،یا دونوں یا ایک کم عقل ہوں تو ان تمام صورتوں میں بغیر ولی کے نکاح درست نہیں ہوگا ۔
عورت اگر بالغہ ہو تو وہ خود بھی بغیر سرپرست اور وکیل کے براہ راست عقد نکاح کرسکتی ہے۔البتہ اسکے لئے شرط یہ ہے کہ اپنے کفومیں مہر مثل پر نکاح کرے ۔اپنے سے گرے ہوئے مرد سے نکاح نہ کرے جس سے اسکی فیملی کو ننگ و عار لاحق نہ ہو۔
نکاح پڑھانے کا مسنون طریقہ
سب سے پہلے یہ خطبہ پڑھے۔(بلا کم و کاست )
الحمدللہ نستعینہ ونستغفرہ ونعوذبا اللہ من شرور انفسنا ۔من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ھادی لہ۔واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ۔
اسکے بعد بالترتیب درج ذیل تین آیتیں پڑھے۔
1۔ آل عمران آیت نمبر 102
2۔۔ سورہ النساء آیت نمبر 1
3۔الاحزاب آیت نمبر 70۔71 دو آیت
(رواہ احمد والترمذی وابو دائود والنسائ وابن ماجہ والدارمی
مشکات ۔کتاب النکاح صفحہ 272 باب اعلان النکاح والخطبہ والشرط۔الفصل الثانی)
خطبہ مذکورہ پڑھنے کے بعد عورت کا نام مع ولدیت لےکر مرد سے کہے ” میں نے فلانہ بنت فلاں کا نکاح تمہارے ساتھ بعوض مہر مبلغ اتنے روپے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا۔کیا تم نے قبول کیا؟ تو مرد جواب میں کہے” میں نے اسکو قبول کیا۔” ۔۔۔۔اسکے بعد دعاء کرے “بارک اللہ لک وبارک اللہ علیک وجمع بینکمافی خیر ( صحیح البخاری۔باب کیف یدعی للمتزوج ۔جلد 2 صفحہ 774۔775۔۔۔۔عمل الیوم واللیلہ صفحہ 200۔۔۔۔محمودیہ جلد 10 صفحہ 470۔پاکستانی۔)
وسعت ہو تو چھوارے تقسیم کرادئے جائیں۔بوقت نکاح چھوارے تقسیم کرنا سنت ہے۔دیکھئے اعلاء السنن جلد 11۔صفحہ 11۔ط کراچی )
مہر حسب استطاعت طے کردیا جائے۔شریعت میں زیادہ کی کوئ مقدار متعین نہیں ہے۔کم سے کم مقدار دس درھم ہے اس سے کم جائز نہیں ہے۔۔۔۔۔دس درھم، تیس گرام چھ سو اٹھارہ ملی گرام چاندی کے برابر ہے۔یا تو اس مقدار میں چاندی یا اسکی قیمت ادا کردیجائے تو مہر ادا ہوجائے گا۔۔۔۔مہر فاطمی کی مقدار ڈیڑھ کیلو تیس گرام نو سو ملی گرام چاندی ہے۔۔۔۔۔بعض علماء کے نزدیک ایک کلو چار سو انہتر گرام چھ سو چونسٹھ ملی گرام چاندی مہر فاطمی کی مقدار ہے۔
عورت سے اجازت لینے کے لے گواہ کا ہونا شرط نہیں ہے۔اجازت عورت ہی سے لیناضروری نہیں ہے،اسکے ولی سے بھی اجازت لیجاسکتی ہے۔
ولی،وکیل،امام مسجد ،قاضی یا کوئ بھی ایجاب و قبول کراسکتاہے۔
گواہوں کے لئے یا وکیل کے لیئے لڑکی کا محرم ہونا ضروری نہیں ہے۔ایجاب ایک دفعہ ہی کافی ہے تین مرتبہ ایجاب و قبول کرانا زائد بات ہے۔جو اوقات نماز کے لئے مکروہ ہیں ان میں بھی نکاح صحیح ہے۔نکاح کے حق میں کوئ وقت مکروہ نہیں ہے۔اسی طرح صحت نکاح کے لئے اندراج رجسٹر بھی ضروری نہیں ہے۔
خطبہ نکاح کھڑے ہوکے اور بیٹھ کے دونوں طرح پڑھنا جائز ہے۔ہمارے اکابر کا عمل دونوں طرح رہا ہے۔لیکن کھڑے ہوکے خطبہ پڑھنا بہتر ہے۔کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عام عادت کھڑے ہوکر تمام خطبات پڑھنے کی تھی۔کھڑے ہوکر پڑھنے میں اعلان کی صورت بھی ہے۔جو بذات خود نکاح میں مطلوب ہے۔علاوہ ازیں خطبات میں اصل کھڑے ہوکر ہی پڑھنا ہے۔۔۔۔مگر بیٹھ کر پڑھنا بھی جائز ہے۔معمول اور رواج دونوں طرح کا ہے۔اس میں شدت برتنا غیر مناسب ہے۔
ایجاب و قبول سے پہلے خطبہ پڑھنا مندوب ہے۔۔۔۔۔واللہ اعلم
شکیل منصور القاسمی