دلوں کو زندگی دینے والا دل سو گیا
نالۂِ غم : شکیل منصور القاسمی
جانا تو سب کو ہے،کون ہے جو اس دارِ فانی میں ہمیشہ رہنے آیا ہو؟ مگر ایسے نازک اور پُرآشوب زمانے میں، جب دنیا خلوص ، روحانیت، تطہیرِ باطن اور تزکیۂ نفس کی شدید محتاج ہو، ایسے صاحب قلب نہایت بافیض مربی ومرشد کامل کا پردہ فرما جانا دل و جاں پر قیامت خیزی سے کم نہیں ۔
ابھی فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد جب موبائل کھولا تو اسکرین پر یہ اندوہناک خبر پڑھنے کو ملی، دل یکایک سن ہو کر رہ گیا، کلیجہ بیٹھ سا گیا۔
حضرت پیر ذو الفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ کی وفات کی خبر نے دنیا میں پھیلے لاکھوں اہل دل کو سوگوار کر دیا، ان کی آنکھیں آج اشکبار
اور دل غمِ فراق سے نڈھال ہیں : إنا لله و إنّا إليه راجعون.
اللہ تعالیٰ حضرت کو غریقِ رحمت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور ان کی علمی و روحانی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔امت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے، اور خلفاء ومجازین کے ذریعے سلسلۂ فیض کو تا قیامت جاری و ساری رکھے۔
حضرت کے لاکھوں متوسلین اور مسترشدین تھے، جن کے قلوب آج غم سے نڈھال ہیں۔
ہم تمام اہلِ ارادت سے بالعموم، اور بالخصوص حضرت مولانا سلمان صاحب بجنوری مُدظلّہ کی خدمت میں تعزیتِ مسنونہ پیش کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور اس عظیم سانحے کو ہمارے لیے قربِ الٰہی کا ذریعہ بنا دے، آمین۔
شکیل منصور القاسمی
مرکز البحوث الاسلامیہ العالمی
(اتوار22؍جمادی الثانیہ 1447ھ 14؍ دسمبر2025ء)