31 مئی 1866 بمطابق 15 محرم الحرام 1283 ہجری کو قصبہ دیوبند ضلع سہارنپور میں قائم ہونے والا چھوٹا سا مدرسہ “ دارالعلوم “ صرف مدرسہ ہی نہیں ؛ بلکہ قرآن وسنت کی تعبیر کا مظہر جمیل ، اخلاص وللہیت ، تواضع و سادگی ، تقوی وطہارت حق گوئی وبے باکی ، جہد مسلسل اور علم وعمل کے “پاور ہائوس “ کا نام ہے ۔ جہاں سے پوری انسانی آبادی میں ایمان ، علم ویقین ، صداقت وشجاعت کی بجلی سپلائی کی جاتی رہی ہے ۔ یہاں سے ارتدادی فتنوں اور طوفان بلا خیز کا رخ موڑا گیا ۔
دارالعلوم دیوبند کسی متعصب فرقے ، جتّھہ یا گروہ کا نام نہیں ہے ؛ بلکہ پورے خطے میں تجدید واحیاء ، تحفظ وبقائے اسلام کا “عظیم مرکز “ کا نام ہے ، علم حدیث کے تحفظ کے کے ساتھ ساتھ اسلامی قدروں کی بقاء وتحفظ کا ذریعہ ، تہذیبی ارتقاء اور ملی حوصلہ مندیوں کا ذریعہ رہا ہے ، یہاں تیار ہونے والے سپوتوں نے جو تعلیم وتبلیغ ، اخلاق وتزکیہ ، تصنیف وتالیف ، فقہ وفتاوی ، ملکی ، ملی ، سماجی اور فلاحی خدمات انجام دی ہیں وہ ان مٹ نقوش بن کر پورے عالم پہ چھائے ہوئے ہیں
برطانوی سامراج کو زیر وزبر کردینے مجاہدین یہیں سے تیار ہوئے ، فرق باطلہ ، قادیانیت ، ہندو احیاء پرستی ، اور بدعتیوں کا پنجہ مروڑ نے والی کھیپ یہیں سے نکلی ، دعوت وتبلیغ جیسی تجدیدی تحریک جو آج چار دانگ عالم میں پھیلی ہوئی ہے یہیں سے پیدا ہوئی ۔مدارس اسلامیہ کے قیام کا لامتناہی زنجیری سلسلہ یہیں سے شروع ہوا ، سخت مایوسی اور اضطراب کے عالم میں اس ادارے نے امید ویقین کا چراغ روشن کیا،امت مسلمہ کی جراتمندانہ و مخلصانہ قیادت وسیادت کے فرائض انجام دیئے۔
آئندہ کل بروز پیر تحفظ دین و بقائے اسلام کے اس عظیم مرکز کا 155 واں سن تاسیس ہے ،
اس تاریخی وزریں موقع سے
دارالعلوم دیوبند کے فضلاء ، محبین ، معتقدین ومنتسبین اس ادارے اور اس کے اکابر کی روشن خدمات سے عالم کو روشناس کرائیں
اور دارالعلوم کے پیغام کو چار دانگ عالم تک پہنچائیں !
شکیل منصور القاسمی
۳۰ مئی ۲۰۲۱
روز اتوار