چھوٹے باشعور بچوں کو مسجد لانے کی اجازت ہے ۔انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا برا ہے

ایسے بے سمجھ بچوں کو مسجدوں میں لانے سے منع کیا گیا ہے جو صغر سنی کی وجہ سے مسجدوں کو آلودہ کردیں۔یعنی پانچ سال سے کم عمر کے بچے۔
اس سے زیادہ کی عمر کے بچے عموما پاکی ناپاکی اور صفائی ستھرائی سے تقریبا واقف ہوجاتے ہیں ۔چھ سال سے اوپر کے بچوں کو مسجدوں میں لانا ممنوع نہیں بلکہ موجودہ زمانے کے حالات کے تناظر میں تربیتی وتادیبی نقطہ نظر سے بچوں کو مسجدوں میں لانا مطلوب ہے ۔
بچوں کو مسجدوں میں لانے کی ممانعت پہ جو لوگ ابن ماجہ وغیرہ کی درج ذیل روایت پیش کردیتے ہیں تو یہ روایت فنی حیثیت سے ضعیف ہے :
جنبوا مساجدکم صبیانکم و مجانینکم و شراء کم و بیعکم و خصوماتکم و رفع أصواتکم و إقامۃ حدودکم و سلَّ سیوفکم و اتخذوا علی أبوابہا المطاہر و جمروہا فی الجمع۔
’’اپنی مسجدوں کو بچوں اور دیوانوں سے بچائو نیز خرید و فروخت، لڑائی جھگڑے، آواز بلند کرنے، حد قائم کرنے اور تلواریں کھینچنے سے مسجدوں کو بچائو۔ مسجد کے دروازے پرطہارت کے واسطے جگہ بنائو۔ جمعہ کے دن مسجدوں میں خوشبو کی دھونی دو۔‘‘
أخرجه ابن ماجہ برقم ۷۵، کتاب المساجد و الجماعات، باب ما یکرہ فی المساجد.بروایت حدثنا أحمد بن یوسف السلمی قال حدثنا مسلم ابن إبراہیم قال حدثنا حارث بن نبہان قال حدثنا عتبۃ بن یقظان عن أبی سعد عن مکحول عن واثلۃ بن الأسقع مرفوعاً کی ہے.
وأخرجه المنذری في الترغیب و الترہیب (۱؍۱۹۹) والسیوطی في الجامع الصغیر (۳۶۰۱)
حدیث کی سند میں ایک راوی حارث بن نبہان ہیں انھیں حافظ ابن حجر نے التقریب (رقم الترجمۃ: ۱۰۵۱) میں متروک قرار دیا ہے۔ امام احمد بن حنبل نے رجل صالح منکر الحدیث اور بخاری نے منکر الحدیث کہا ہے۔ (دیکھیں: میزان الاعتدال ۱؍۴۴۴ رقم الترجمۃ: ۱۶۴۹)
ایک دوسرے راوی عتبہ بن یقظان ہیں جنھیں حافظ ابن حجر نے التقریب (رقم ۴۴۴۴) میں ضعیف کہا ہے۔ ذہبی نے میزان الاعتدال (۳؍۳۰ رقم ۵۴۸۰) میں امام نسائی رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ انھو ںنے انھیں ’’غیر ثقۃ‘‘ کہا ہے اور کہا ہے: ’’قوّاہ بعضہم‘‘ یعنی انھیں بعض نے قوی قرار دیا ہے۔مگر قوی قرار دینے والوں کا نام نہیں درج کیا۔ یاد رہے کہ عتبہ بن یقظان سے کتب ستہ میں صرف ابن ماجہ ہی میں روایت آئی ہے،
عتبہ بن یقظان اور حارث بن نبہان کے ضعیف ہونے کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے ۔
اس لئے اس سے بچوں کو مسجد لانے کی ممانعت پہ عمومی استدلال کرنا اس لئے بھی درست اور تام نہیں ہے کہ اس کے بالمقابل
صحیح ترین روایتوں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا بچوں کو مسجد لانے کا عمل ثابت ہے ۔
عن أ بی قتادة : أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یصلی و ہو حامل أمامۃ بنت زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و لأبی العاص بن الربیع فإذا قام حملہا و إذا سجد وضعہا۔ (صحیح مسلم: ۵۴۳، کتاب الصلاۃ، باب جواز حمل الصبیان فی الصلاۃ)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور (اپنی نواسی) امامہ کو اٹھائے ہوئے تھے۔ جب کھڑے ہوتے تو امامہ کو اٹھا لیتے اورسجدہ میں جاتے تو زمین پر رکھ دیتے۔‘‘
مسلم کی دوسری روایت میں صراحت ہے کہ صحابہ کی امامت کرواتے ہوئے یعنی مسجد میں حضور اپنی نواسی کو گود میں اٹھاتے تھے:
رَأَيْتُ النبيَّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ وأُمَامَةُ بنْتُ أبِي العَاصِ وهي ابْنَةُ زَيْنَبَ بنْتُ النبيِّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ علَى عَاتِقِهِ، فَإِذَا رَكَعَ وضَعَهَا، وإذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُودِ أعَادَهَا.(عن أبی قتادة الحارث بن ربعي.صحيح مسلم: 543.)
یہ مسلم شریف کی صحیح حدیث ہے ، جو نص صریح ہے کہ یہ کام مسجد میں ہوتا تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹے بچوں کو مسجد میں لاتے تھے ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی اپنے بچوں کو مسجد لاتے تھے ۔صحیح مسلم کی ایک حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ عام صحابہ کے بچے بھی مسجد میں آتے تھے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إنی لأدخل فی الصلاۃ أرید إطالتہا فأسمع بکاء الصبی فأخفف من شدۃ و جد أمہ بہ۔
(صحیح مسلم مع شرح النووی: ۴؍۱۸۷ رقم الحدیث: ۴۷۰)
’’میں نماز میں داخل ہوتا ہوں اور نماز کو لمبا کرنا چاہتا ہوں لیکن بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو ہلکی کردیتا ہوں، اس کی ماں کو اس کی وجہ سے پریشان ہونے کی وجہ سے۔‘‘
اس حدیث مستفاد ہوتا ہے کہ سمجھدار بچوں کو مسجد لانا جائز اور درست ہے ۔حضور اور صحابہ کے عمل سے ثابت ہے ۔ان سے مسجد کا تقدس و احترام متاثر نہیں ہوتا اور نہ ہی اعمال مسجد میں کوئی خلل واقع ہوتا ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی نواسی امامة بنت زينب کو گود میں لے کر نماز پڑھاتے تھے ،مسلم 563 ۔
دین سکھانے اور مسجدوں سے محبت پیدا کرنے کے لئے آج کے پرفتن معاشرے میں ضروری ہے کہ بچوں کو بچپن ہی سے مسجدوں کا عادی بنایا جائے ۔
بچے تو شور مچانے ہی کے لئے ہیں ! اگر بچے شور نہ کریں تو کیا بوڑھے شور کریں گے ؟؟
بس ان کے کھیل کود پہ تھوڑی نگرانی زیادہ ہو
اگر پہر بھی بچے شرارت کریں تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر مسجد سے متنفر کرنے کی بجائے یا تو نماز کے بعد انہیں محبت وشفقت سے سمجھا دیں
یا پہر اس کی بھی گنجائش ہے کہ اپنے ساتھ صف کے کنارے میں لے کر خود کھڑے ہوجائیں ۔
(مستفاد: فتاویٰ دارالعلوم ۳؍۳۴۲)
جو لوگ بچوں کے شور وغوغہ پہ خود ان سے زیادہ چینخنے چلانے لگتے ہیں ان کا یہ عمل بالکل غلط ہے ۔ نادانی اور سنت رسول سے ناواقفیت پہ مبنی ہے۔
آج کے ماحول میں بہت ضروری ہے کہ بچوں کو مسجد والے ماحول سے قریب کیا جائے
بچپن کی شوخی پہ انہیں ڈانٹ پلاکر مسجد کے ماحول سے متنفر اور برگشتہ کردینے والے احباب نئی نسل کو برباد کرنے کے اصل ذمہ دار ہونگے ۔
بچوں کو مسجد لانے سے متعلق اوپر والی حدیث کے ذیل میں
امام نووی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
فالصواب الذی لا معدل عنہ أن الحدیث کان لبیان الجواز و التنبیہ علی ہذہ الفوائد فہو جائز لنا و شرع مستمر للمسلمین إلی یوم الدین۔ (صحیح مسلم مع شرح النووی: ۵؍۳۳)
’’صحیح اور سیدھی بات یہ ہے کہ حدیث بیان جواز کے لیے اور مذکورہ فوائد سے آگاہ کرنے کے لیے ہے لہٰذا یہ ہمارے لیے جائز ہے اور قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے مشروع ہے۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو مسجد میں آتے دیکھ کر خطبہ روک دیا اور منبر سے اتر کر انھیں گود میں لے کر منبر پر چڑھے۔ (دیکھیں: سنن ترمذی: ۳۷۷۶، سنن أبی داؤد: ۱۱۰۹، سنن ابن ماجہ: ۳۶۰۰، )
بچوں کو مسجد میں لانا اگر کوئی ناپسندیدہ عمل ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہرگز نہ کرتے۔
ہاں بالکل ناسمجھ اور چھوٹے بچے (اندازا چھ سال سے کم عمر کے بچے ) کے آنے سے تلویث مسجد کا جہاں خطرہ ہو وہاں انہیں لانے سے پرہیز کیا جائے ۔
ویحرم إدخال صبیان ومجانین حیث غلب تنجیسہم وإلا فیکرہ۔ (درمختار ۲؍۴۲۹ زکریا)
وفي تقریرات الرافعي: قول الشارح وإلا فیکرہ أي حیث لم یبالوا بمراعات حق المسجد من مسح نخامۃ، أو تفل في المسجد، وإلا فإذا کانوا ممیزین ویعظمون المساجد بتعلم المساجد بتعلم من ولیہم، فلاکراہۃ في دخولہم۔ (تقریرات رافعي علی الدر ۲؍۸۶)
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
8 رمضان 1439 ہجری

Scroll to Top