بقلم :
شکیل منصور القاسمی ![]()
السوال
کیا مسلمانوں کی طرح کافر سے بھی منکر نکیر قبر میں سوال کرتے ہیں؟؟؟ اگر ہاں تو کیسے ؟؟؟ جبکہ کافر کا جسم آگ میں جلا دیا جاتا ہے ؟؟؟
نوشاد۔اصلاح جماعت گروپ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
قبر میں سوال وجواب جن سے ہوگا ان کے بارے میں اکثر روایتوں میں “اماالمنافق او المرتاب ” ہی مروی ہے
بعض روایتوں میں “او الکافر” ایک نسخہ میں “والکافر” بدون واو کے بھی ہے ۔
اس اختلاف الفاظ کی وجہ سے علماء امت میں اس کے متعلق اختلاف ہوا کہ سوال قبر صرف مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے یا کفار بھی مسئول ہونگے ؟؟؟ یعنی سوال محدود ہے یا غیر محدود ؟؟؟
حافظ ابن عبد البر فرماتے ہیں سوال قبر صرف مومن مخلص اور مومن ظاہری یعنی منافق کے ساتھ خاص ہے تاکہ اس سوال کے نتیجہ میں اصل مومن اور بناءوٹی مومن (منافق ) کا امتیاز ہوسکے۔کھلے مہار کافر سے سوال ہی بے سود ہے ۔علامہ سیوطی نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے اور شرح الصدور فی احوال الموتی والقبور میں اس کو ثابت کیا ہے۔
علامہ قرطبی اور حافظ ابن قیم جوزیہ سوال کے عموم کے قائل ہیں۔قاضی شوکانی لکھتے ہیں : قال ابن القیم السوال عام للامة وغیرھا ولیس فی الاحادیث مایدل علی الاختصاص ۔نیل الاوطار 77/4۔کیونکہ جب مومن ومنافق سے سوال ہوگا تو کافر سے بدرجہ اولی سوال ہوگا ۔الروح صفحہ 86۔87 میں لکھتے ہیں” فلنسالن الذين أرسل إليهم ولنسالن المرسلين ” کے بموجب جب قیامت میں کافر سے سوال ہوگا تو قبر میں کیوں نہیں ہوگا ؟؟؟
حافظ عسقلانی نے سوال کے عموم والی روایتوں کو سوال کے مخصوص بالمسلمین والی روایتوں پر ترجیح دی ہے۔حکیم ترمذی نے کفار کے سوال قبر کو بالیقین ثابت مانا ہے۔علامہ شامی رحمہ اللہ مسلمانوں کے ساتھ سوال کے مخصوص ہونے کو راجح کہتے ہیں ۔دیکھئے شامی جلد 1۔صفحہ 572۔سعید۔
حافظ کشمیری نے بھی فیض الباری صفحہ 85 ق میں السوال غیر مخصوص کہکر اسی کو راجح قرار دیا ہے ۔فیض الباری کے بعض نسخہ میں طباعت کی غلطی سے “السوال مخصوص ” چھپ گیا ہے “غیر” چھوٹ گیا ہے ۔جو قابل اصلاح ہے۔
پہر جب قبر میں کافر سے سوال ہوگا تو کیسے ؟؟؟ جبکہ اسے شمشان گھاٹ میں نذر آتش کردیا جاتا یے ؟؟
تو خوب سمجھ لینا چاہئے کہ “قبر” عالم برزخ کا نام ہے ۔اس گڑھے کا نام قبر نہیں ہے جس میں مردہ کو دفن کیا جاتا ہے ۔سورہ عبس کی آیت نمبر 21 کے ذیل میں معارف القرآن کی بحث اس سلسلہ میں قابل مطالعہ یے۔
مرشد تھانوی قدس سرہ اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں
” اس روح کو برزخ میں دوسرا جسم مثالی عطا ہوتا ہے اور ساتھ ہی اس جسم عنصری کے ساتھ بھی تعلق رہتا ہے ۔قبر کا سوال اسی جسم مثالی سے ہوتا ہے جو برزخ میں عطاہوتاہے۔اور اس جسد عنصری کے ساتھ تعلق بھی رہتا ہے ۔ملفوظات حکیم الامت صفحہ 214۔
لہذا سوال قبر پر اب یہ شبہ بیکار ہے کہ اگر کافر کی نعش کو جلادیا جائے یا کسی میت کو شیر یا بھیڑیا کھاجائے تو اس سے سوال کیسے ہوگا؟ ؟؟
ہاں برزخ کے بعد دوزخ میں اسی دنیاوی جسد عنصری پر عذاب بھی ہوگا اور جنت میں اسی پر انعام واکرام بھی۔امداد الفتاوی 129/6۔میں اس کی تفصیلی اور تمثیلی بحث موجود ہے۔
واللہ اعلم
شکیل منصور القاسمی