آج پورے عالم اسلام ؛ خصوصاً پورے ملک میں شانِ رسالت مآب میں ہتک آمیز وگستاخانہ بیان کے باعث عجیب قسم کا ارتعاش بپا ہے،
لوگ دیوانہ وار سڑکوں پہ اتر آئے ہیں ، ہر عاشق رسول اور مومن صادق سراپااحتجاج ہے،
پرُ امن احتجاج ہر شہری کا دستوری و آئینی حق ہے اور اپنے مطالبات منوانے کا مؤثر ذریعہ بھی ، جہاں یہ احتجاجی کوشش بلا تعطل جاری رکھنے کی ضرورت ہے وہیں ماہرین آئین وقانون کی مشاورت سے منظم ومنصوبہ بند طریقے سے قانونی چارہ جوئی کے ساتھ بر سر اقتدار پارٹی سے سیاسی ڈائیلاگ اور بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا بھی ہماری سیاست کا حصہ ہونا چاہئے ۔
مقاطعہ اور اچھوت والے طرز عمل اور فیصلے سے “فاصلے “ بڑھتے ہیں ، سیاست “امکانات “ کا نام ہے ، یہاں کسی سے دائمی دوستی یا دشمنی نہیں ہوتی ۔
مختلف جہتوں سے حکمرانوں کو انڈر پریشر کرکے توہین رسالت کے قصورواروں کو قانونی شکنجے میں لانے اور انہیں قرار واقعی سزا دینے پر مجبور کرنے کی ضرورت ہے، جس سے جو کچھ بھی بن پڑے وہ اپنے حصے کا شمع ضرور جلائے ، بعض ملی قائدین کو حکمرانوں سے ڈیل ، ملت فروش یا احتجاجی اجتماعی جدوجہد کو سبوتاز کرنے کی بیک ڈور سازشی قرار دینا قرین انصاف نہیں ۔ابھی یہ وقت نہیں کہ ہم آپس میں ہی دست وگریباں ہوجائیں اور ایک دوسرے کے خلاف طوفان بدتمیزی کھڑا کرنے لگ جائیں ، اور زبان وقلم کو آلودہ دشنام کرتے ہوئے تنقیص آمیز ریمارکس یا سخت وسنگلاخ الفاظ استعمال کرنے لگ جائیں،
بیمار زبان کے ہذیان اور طعن وطنز سے ہمارے سلگتے مسائل و مشکلات اگر حل ہوجائیں تو پہر شوق سے اکابر کی پگڑیاں اچھالئے ۔
اگر نہیں ،اور ہر گز نہیں ، تو خدا را اس زبانی آوارگی سے باز آجائیے!
قائد معصوم ہوتا نہ وہ کوئی مافوق البشر ہستی ! غلطیاں وہ بھی کرسکتا ہے ، اور اپنی غلطیوں سے سیکھ بھی سکتا ہے ۔ قائد کے سلوک وعمل سے مہذب زبان ومؤدب اسلوب وپیرایہ میں اختلاف آپ بالکل کرسکتے ہیں ؛ لیکن اس طرح کہ وقار وتمکنت اور سنجیدگی ومتانت آگے بڑھ کر بلائیں لینے لگیں ۔
خلّاقِ عالم نے اس کائنات میں ہر کام کے لئے ہر آدمی پیدا کیا ہے ، قوم وملت کے تمام کام اور ضرورتیں ایک ہی شخص وشیخ کے ساتھ وابستہ کسی نے نہیں کیا ہے ۔ اور اس خود فریبی کا مدعی ہمارا کوئی قائد ہے بھی نہیں !!
ہر ایک کی صلاحیت ، ذاتی رجحان ،طبعی دلچسپی ، ذوق وشوق باہم مختلف ہے ۔
تنظیم وتحریک کا ہر فرد اپنے اپنے دائرہ میں ، اپنی صلاحیت ، دلچسپی اور معنوی قوت کے ساتھ پبلسٹی ، تشہیر ، خود ستائی ، داد وصلہ کی تمنا وطلب کے بغیر مفید وموثر کام انجام دے اور باہمی احترام کے ساتھ اوروں ، خصوصا بڑوں کے لئے خیر سگالی کے جذبات بھی رکھے تو کم وقت میں بڑے کام انجام پاسکتے ہیں ۔
ہر کوئی سجادہ نشیں ہوسکتا ، نہ ہر سجادہ نشیں بہترین مدبر ومنتظم ! جہاں بانی کی لیاقت ہر کسی میں ممکن ہے نہ سرفروشی کی تاریخ ہر کوئی رقم کرسکتا !( ویسے اللہ کے لئے یہ مشکل نہیں )
دوسروں کی کمزوریوں کی ٹوہ میں لگے رہنے اور اسے اجاگر کرنے سے بہتر ہے ہر کوئی اپنی صلاحیت وصالحیت کو قوم وملت کے وسیع تر مفاد میں صرف کرتارہے ۔آقا کی حرمت پہ جام شہادت نوش کرنے والے شہید ِناموس رسالت “ مدثر “ نے یہ بتادیا کہ کام کرنے والے خموشی سے اپنا کام کرجاتے ہیں ، ڈھول اس لئے بجتا ہے کہ اندر سے خالی ہوتا ہے :
“جو مستقبل کبھی ہوگا درخشندہ ہم نہیں ہونگے “
(مِنَ المُؤمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللّه عَلَیہ، فَمِنهُم مَن قَضَى نَحبَه وَ مِنهُم مَن يَنتَظِر وَ مَا بَدَّلُوا تَبدِيلاً(الاحزاب)
چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم
رسول ِپاکؐ نے باہوں میں لے لیا ہو گا
اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو!
تمہیں خدا کی فضائیں سلام کہتی ہیں
*شکیل منصور القاسمی *
مرکز البحوث الاسلامیہ العالمی
۱۱ جون ۲۰۲۲
روز ہفتہ