تقدیر کے پابند نباتات وجمادات
مومن فقط احکام الہی کا ہے پابند
(سوگ میں خاموشی )
اسلام ایک مکمل دین اور مستقل تہذیب ہے ۔اس میں زندگی کے ہر مسئلہ کا حل موجود ہے ۔کسی بھی دوسرے مذہب اور تہذیب وتمدن سے کچھ لینے اور خوشہ چینی کی ضرورت نہیں۔سورہ البقرہ کی آیت نمبر 208 مسلمانوں سے جو مطالبہ کیا گیا ہے وہ بہت ہی عام ہے کہ اسلامی عقائد واعمال اور احکام وتعلیمات کی صداقت وحقانیت پہ دل ودماغ بھی مطمئن ہو اور اعضاء وجوارح بھی عملی ثبوت پیش کریں۔
یہ حقیقت مسلم ہے کہ یہ دنیا رنج وراحت کا الگ الگ انداز رکھتی ہے۔
یہاں آرام وخوشی کے ساتھ دکھ ورنج بھی ہے۔غمی کے ساتھ شادمانی بھی ہے۔تلخی کے ساتھ شیرینی بھی ہے۔سردی کے ساتھ گرمی بھی یے۔
خوشی اور مسرت وشادمانی کے موقعوں پر مبارکباد دینا “تہنیت ” ۔اور غم کے موقعوں سے مصیبت زدہ کے غم میں شریک ہونا ۔اسے تسلی دینا صبر دینا ماتم پرسی کرنا دلاسہ اور ہمت دلانا “تعزیت ” کہلاتا ہے۔
معلم اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ میں “تعزیت وتہنیت”
کی تشفی بخش ھدایات موجود ہیں ۔یہاں تفصیل کا موقع نہیں
صرف اس قدر عرض ہے ہر صاحب ایمان بندے کے لئے تعزیت ونصیحت اور تسلی وتشفی دینا “سنت ” ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام جاہلیت کے رواج یافتہ تمام ماتمی رسومات ختم فرماتے ہوئے انسانی فطری غم کے اظہار کے لئے تعزیت کا مسنون طریقہ یہ بتایا ہے کہ موت کے بعد خواہ قبل دفن ہو یا بعد دفن۔تین دن تک میت کے تمام رشتہ داروں سے تعزیت کی جائے خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے۔ہاں عورتوں کے سلسلہ میں یہ قید ہے کہ وہ محرم ہوں۔غیر محرم عورتوں سے تعزیت درست نہیں ۔تین دن کے بعد تعزیت کرنا پسندیدہ نہیں کہ اس سے خواہ مخواہ غم تازہ ہوگا اور شکستگی اور مایوسی تازہ ہوتی جائے گی۔
البتہ اگر تعزیت کرنے والا یا جسکی تعزیت کی جارہی ہے وہاں موجود نہ ہو یا اسے علم نہ ہو تو تین دن کے بعد بھی حرج نہیں اور خط وکتابت کے ذریعہ بھی تعزیت کی جاسکتی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذبن جبل کے بیٹے کے انتقال پہ تعزیت نامہ لکھوایا تھا۔
میت اگر صاحب ایمان تھا تو تعزیت کرنے والے اس کے لئے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کرے۔ اور اہل میت کے لئے تسلی کے کلمات کہے اور صبر کی تلقین کرے۔
تعزیت کے الفاظ اور اس کا مضمون متعین نہیں الگ الگ اور مختلف ہے۔صبر وتسلی کے لئے جو کلمات بھی موزوں اور مناسب ہوں وہ کہے جائیں۔بہتر یہ ہے کہ یہ جملہ کہے :
ان لله ما أخذ وله ما أعطي وكل عنده بأجل مسمى .فالتصبر ولتحتسب. (جو لیا وہ اسی کا تھا اور جو دیا وہ اسی اللہ کا تھا ۔اللہ کے یہاں ہر چیز ایک معین مدت تک کے لئے ہے۔پس صبر کر اور ثواب کی امید رکھ ۔مشکوة صفحہ150۔باب البکاء علی المیت ) ۔۔۔۔۔۔بعض حدیث میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں :
أعظم الله أجرك وأحسن عزاك وغفر لميتك. (اللہ تم کو اجر عظیم عطاء فرمائے ۔تیرے صبر کا اچھا بدلہ دے۔اور تیرے مردے کو بخش دے۔۔درمختار جلد 1۔صفحہ 843۔مطلب فی الثواب علی المعصیہ ۔
اگر میت بچہ یا مجنوں یا کوئی بھی غیر مکلف ہو تو “غفر لمیتک “نہ کہے۔
اسلام کےاعلی اخلاق واقدار کی ہی تعلیم ہے کہ وہ غیر مسلم کی بیماری میں مزاج پرسی کو اللہ کی رضاء وقرب کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر مسلم مریض کی عیادت ثابت ہے۔
فقہی کتابوں میں ان کے انتقال کے وقت ان کے رشتہ داروں کے لئے تعزیت کا جواز اور مناسب کلمات تعزیت بھی مصرح ہے۔
غیر مسلم کی تعزیت کے وقت یہ کلمات کہے جائیں:
أعظم الله أجرك وأحسن عزاك
(اس مصیبت پہ اللہ تعالی بڑا اور اچھا بدلہ دے۔۔الموسوعہ 289/12 )
اسی طرح یہ جملہ بھی آیا ہے
“أخلف آلله عليك خيرا واصلحك”
(اللہ اچھا بدلہ دے۔بعد میں اچھی صورت نکالے اور حال درست فرمائے۔۔۔محمودیہ 161/9 )
بتصریح قرآن کریم ہرگروہ اور ہر جماعت خواہ اہل حق میں سے ہو یا اہل باطل میں سے اپنی ہی مزعومات ومعتقدات اور آئیڈیالوجی میں مگن ہے۔”كل حزب بما لديهم فرحون” ( الروم ۔32۔)۔
اس بنیاد پر اگر کسی تہذیب ومعاشرت میں اجتماعی تعزیت کے موقع سے کچھ دیر کی “خاموشی” یا موم بتیاں جلانا یا جھنڈے سر نگوں کرنا مروج ہو تو یہ اس کا ” اندرون خانہ” معاملہ ہے ۔کسی کے عمل ،طریقہ اور رواج کی تحقیر وتضحیک کئےبغیر اسلامی طریقہ تعزیت پہ عمل کی کوشش کرنی چاہئے ۔ تعزیت کےیہ طریقے مسلمانوں کے لئے جائز نہیں۔اسلامی طریقہ تعزیت سے ہٹ کے نئے نئے طریقے وضع کرنا افسوس ناک بھی یے اور اسلامی غیرت اور دینی حمیت کے خلاف بھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے
جو شخص کسی دوسری قوم کے اخلاق وعادات اور طور طریقہ کی پیروی کرنے لگے وہ انہی میں سے ہوجاتا ہے۔
اس لئے مسلمانوں کو اپنے ہر عمل کو سنت اور شریعت کی کسوٹی پر جانچنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔
اگر مسلمان خاموشی والی نوعیت میں کہیں مبتلا ہوجائے تو موقع اور حالات کے لحاظ سے کوئی پہلو یا حکمت عملی اختیار کرلے ۔۔
فتاوی رحیمیہ385/1۔۔۔۔و 84/7۔
خیر الفتاوی 219/3۔۔۔۔اسرار حیات صفحہ 154۔
ترمذی شریف 127/1۔۔۔ابن ماجہ 116۔مشکوة 150۔۔الموسوعہ الفقہیہ 289/12۔۔درمختار 843/1۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی