ٹھنڈا پانی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ پسند تھا

ٹھنڈا پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیحد مرغوب تھا۔ مطعوم وماکول کے قبیل سے کسی چیز کا بھی اتنا اہتمام نہ کیا گیا جتنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ٹھنڈا پانی لانے کا اہتمام کیا جاتا۔ مدینہ منورہ سے دو میل کے فاصلہ پہ “بیر غرس” سے آپ کے لئے ٹھنڈا پانی لایا جاتا کیونکہ اولا تو اس کنویں کا پانی ٹھنڈا ہوتا تھا، پھر اس کے بعد ایک مشکیزہ میں اسے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کے لئے مزید ٹھنڈا کیا جاتا۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کے لئے پرانے مشکیزے میں پانی کو ٹھنڈا کیا جاتا۔ (سیرت الشامی جلد 7 صفحہ 371)
۔ حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بیوی کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہاں قیام کیا تو آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کے لیے مالک بن نضر کے کنوئیں سے میٹھا پانی لایا جاتا، پھر اس کے علاوہ ازواجِ مطہرات کے لئے بئر سقیا سے پانی لایا جاتا اور رباح اسود جو حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کے غلام تھے اور خادم بھی تھے، وہ کبھی بئر سقیا سے پانی لاتے اور کبھی بئر غرس سے پانی لاتے۔ (شمائل کبرٰی)
ٹھنڈا پانی خدا کی عظیم ترین نعمت ہے۔جس کے بارے میں روز قیامت سوال ہوگا۔کیونکہ ٹھنڈا پانی پینے سے بدن کے روئیں روئیں سے شکر ادا ہوتا ہے،

ارشاد نبوی ہے؛
إن أولَ ما يُسألُ عنه يومَ القيامةِ_ يعني العبدَ_ من النعيمِ أن يُقالَ له ألم نُصِحَّ لك جسمك ونُرويك من الماءِ الباردِ. .
الراوي: أبو هريرة المحدث: الترمذي – المصدر: سنن الترمذي – الصفحة أو الرقم: 3358
خلاصة حكم المحدث: غريب۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے فرمایا،
“قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے نعمتوں کے بارے میں جو سوال کیا جائے گا وہ یہ ہوگا کہ “کیا ہم نے تیرے بدن کو تندرستی عطا کی تھی اور تجھ کو ٹھنڈے پانی سے سیراب نہیں کیا تھا”۔ (ترمذی)
كان من دُعاءِ داودَ يقولُ : اللهُمَّ ! إنِّي أسألُك حُبَّك وحُبَّ من يُحبُّك ، والعملَ الَّذي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ . اللهُمَّ ! اجْعلْ حُبَّكَ أحَبَّ إليَّ من نَفْسِي وأهْلِي ، ومن الماءِ البارِدِ . قال : وكانَ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسَلَّمَ ، إذا ذكر دَاوُدَ يُحَدِّثُ عنهُ قال : كان أعْبَدَ البشَرِ .
الراوي: أبو الدرداء المحدث: الترمذي – المصدر: سنن الترمذي – الصفحة أو الرقم: 3490
خلاصة حكم المحدث: حسن غريب

ہمارے مختلف اکابر نے پانی خوب ٹھنڈا کرکے پینے کی تلقین بھی فرمائی ہے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شاگرد وں سے فرمایا کہ اے بیٹو! پانی کو ٹھنڈا کرکے پیو! کیونکہ ٹھنڈا پانی پینے کی وجہ سے دل کی گہرائیوں سے شکر ادا ہوتا ہے۔ (مدارج جلد 5، صفحہ 15)
سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی سے بھی پانی ٹھنڈا کرکے پینے کی تلقین مروی ہے اور اس ذیل میں مختلف اہل اللہ کے واقعات بھی درج کئے گئے ہیں۔
الغرض ٹھنڈا پانی پینا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ومرغوب چیزوں وسنتوں میں سے تھا۔
سنت پہ عمل کی نیت سے کوئی پئے تو احیاء سنت کا عظیم ثواب پائے گا۔
ان دنوں سوشل میڈیا میں ٹھنڈا پانی پینے کے جو نقصانات گنوائے جارہے ہیں وہ سراسر بے بنیاد وبے اصل ہیں۔ بظاہر اس کا مقصد ایک سنت نبوی سے لوگوں کو دور رکھنے کی منظم سازش نظر آتی ہے۔ ایک مومن وعاشق رسول کو اپنے محبوب کا مزاج آشنا اور رمزشناس ہونا چاہئے ۔۔۔۔ ہاں طبی اعتبار سے ٹھنڈا پانی اگر کسی کی طبعیت ومزاج سے ہم آہنگ نہ ہو تو اس کے لئے گنجائش بہر حال موجود یے۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

Scroll to Top