دور حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد
ہے ابتداء ہماری تری انتہاء کے بعد
اقتدار ونشہ میں چور ، طائوس ورباب کی جہنکاروں میں دھت، حکمرانوں کے مظالم ودرندگی بھلائے نہیں بھولے جاتے !
ہنستے کھیلتے پہول جیسے فرشتہ نما معصوم بچوں کو آگ وآہن میں تڑپا دیا گیا ! قندوز کے سبزہ زار مدرسہ میں کھلتے گلابی کلیوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ مسل کر مدرسہ کو بارود کا ڈھیر بنادیا گیا۔
بیٹے کے حافظ بننے کی خوشی میں مسکراتی مائوں کے آنسوئوں کے نوحے دیکھے نہیں جاتے !
ابلیس کی فسوں کاری کے یہ دل خراش واقعات دیکھنے کی بھی ہمیں سکت نہیں ، ذرا سوچئے ! ان معصوم کلیوں کو آغوش وشکم میں پالنے والی مائوں پہ کیسی قیامت برپا ہوگی؟ !
پہولوں کا مالا لئے اپنے حفاظ بھائیوں کے استقبال کے لئے چشم براہ ان بہنوں پہ کیا گزر رہی ہوگی ؟؟
اے وقت کے فرعونو! !
ان معصوم کلیوں نے تیرا کیا بگاڑا تھا کہ انہیں چٹخنے اور مسکرانے سے پہلے ہی تم نے مسل دیا !
کیا تیرے سینے میں دل نہیں ؟
کیا تیری انسانیت مسخ ہوچکی ؟ جنگل کے درندے اور پہار کھانے والے وحشی جانور بھی آج تمہارے مظالم سے شرمندہ ہوگئے !
انتظار کرو خدائے جبار وقہار کے عذاب عام کا ۔ ظلم ،قتل وسفاکیت کی آخری حد بھی تم نے پار کرلی ہے۔۔
تیری بربادی اب مقدر ہوچکی۔
خون شہیداں رائیگاں نہیں جائے گا۔
شکیل منصور القاسمی /بیگوسرائے ۔بہار
١٦رجب ١٤٣٩ہجری