السلام عليكم ورحمة الله
ایک غیر مقلد صاحب نے سوال کیا کہ حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پوری رات عبادت کرنے سے منع فرمایا ہے جبکہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 40 سال تک لگاتار عشاء کی وضو سے فجر کی نماز ادا کیا ہے۔
تو اب مفتي صاحب سے دریافت امر یہ ہے کہ کیا امام صاحب کا یہ طرز عمل منشائے رسول ص. کے خلاف نہیں؟ جواب تحریر فرما کر ممنون و مشکور فرمائیں ۔
مسلم شريف کی ایک حدیث میں پوری رات جاگ کر عبادت میں مشغول ہونے سے منع فرمایا گیا ہے۔
1159 ( 186 ) وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً يَزْعُمُ، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ ، وَأُصَلِّي اللَّيْلَ، فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ، وَإِمَّا لَقِيتُهُ، فَقَالَ : ” أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ، وَتُصَلِّي اللَّيْلَ ؟ فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ حَظًّا، وَلِنَفْسِكَ حَظًّا، وَلِأَهْلِكَ حَظًّا، فَصُمْ، وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ، وَنَمْ، وَصُمْ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا، وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ “. قَالَ : إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ : ” فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ “. قَالَ : وَكَيْفَ كَانَ دَاوُدُ يَصُومُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : ” كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى “. قَالَ : مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ – قَالَ عَطَاءٌ : فَلَا أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الْأَبَدِ ؟ – فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ “.
(محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عطاء، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کو (میرے بارے میں) یہ بات پہنچی کہ میں (مسلسل) روزے رکھتا رہتا ہوں اور رات بھر نماز پڑھتا رہتا ہوں تو آپ ﷺ نے میری طرف پیغام بھیجا تو میں نے آپ ﷺ سے ملاقات کی آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تو روزے رکھتا رہتا ہے اور افطار نہیں کرتا اور رات بھر نماز پڑھتا رہتا ہے تو تو اس طرح نہ کر کیونکہ تیری آنکھوں کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے اور تو روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر اور نماز بھی پڑھ اور نیند بھی کر اور ہر دس دنوں میں سے ایک دن کا روزہ رکھ اور یہ تیرے لئے نو روزوں کا اجر بن جائے گا حضرت عبداللہ نے عرض کیا کہ میں تو اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں اے اللہ کے رسول، آپ ﷺ نے فرمایا حضرت داؤد علیہ السلام کے روزوں کی طرح روزے رکھ لے انہوں نے عرض کیا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے کس طرح تھے؟ اے اللہ کے نبی ﷺ ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے اور نہیں بھاگتے تھے جب کسی دشمن سے ملاقات ہو جائے حضرت حضرت عبداللہ ؓ [یہ عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ ہیں] عرض کرنے لگے اے اللہ کے نبی یہ میرے لئے کیسے ہو سکتا ہے؟ عطا راوی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ ہمیشہ کے روزوں کا ذکر کیسے آگیا؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں(قبول) اس کے روزے جس نے ہمیشہ رکھے نہیں(قبول) اس کے روزے جس نے ہمیشہ روزے رکھے نہیں قبول۔)
عثمان سہارنپوری
الجواب وباللہ التوفیق والسداد
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا عشاء کے وضو سے چالیس سالوں تک فجر کی نماز پڑھنے کی روایت اسد بن عمرو نقل کرتے ہیں :
روي عن أسد بن عمرو قال: صلی أبوحنیفۃ فیما حفظ علیہ صلاۃ الفجر بوضوء العشاء أربعین سنۃ۔ (عقود الجمان ۲۱۱)
أَخْبَرَنَا علي بن المحسن المعدل، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بكر أَحْمَد بن مُحَمَّد بن يَعْقُوب الكاغدي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّد عبد الله بن مُحَمَّد بن يَعْقُوب بن الحارث الحارثي البخاري ببخارى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَد بن الحسين البلخي، قَالَ: حَدَّثَنَا حماد بن قريش، قال: سمعت أسد بن عمرو، يقول: صلى أَبُو حنيفة فيما حفظ عليه صلاة الفجر بوضوء صلاة العشاء أربعين سنة، فكان عامة الليل يقرأ جميع القرآن في ركعة واحدة، وكان يسمع بكاؤه بالليل حتى يرحمه جيرانه، وحفظ عليه أنه ختم القرآن في الموضع الذي توفي فيه سبعة آلاف مرة.”
(تاريخ بغداد للخطیب (15 / 484)
سیر آعلام النبلاء للذھبی 399/6 )
وروی الخطیب عن حماد بن یوسف قال سمعت اسد بن عمرو یقول صلی ابو حنیفۃ فی ما حفظ علیہ صلاۃ الفجر بوضوء العشاء اربعین سنۃ وکان عامۃ اللیل یقرأ جمیع القران فی رکعۃ واحدۃ حفظہ أنہ ختم القران فی الموضع الذی توفی فیہ سبعین الف مرۃ ۔(مقدمۃ نور الایضاح ،ص۴۔ سیرۃ النعمان ،ص۵۴)
اسد بن عمرو راوی کے بارے میں ابن المدینی اور بخاری نے جرح کیا ہے ۔جبکہ ابن معین اور امام احمد بن حنبل جیسے ائمہ حدیث نے اس کی تعدیل وتوثیق کی ہے ۔
طبقات سعد میں ہے :
أسد بن عمرو البجلي
من أنفسهم ويكنى أبا المنذر وكان عنده حديث كثير وهو ثقة إن شاء الله وكان قد صحب أبا حنيفة وتفقه وكان من أهل الكوفة فقدم به بغداد فولي قضاء مدينة الشرقية بعد العوفي .كتاب الطبقات الكبرى لمحمد بن سعد .
الطبقة الثامنة
تحت عنوان : “وكان بالمدائن من المحدثين والفقهاء” .
465 – أسد بن عمرو بن عامر بن عبد الله بن عمرو بن عامر بن أسلم أبو المنذر، وقيل أبو عمرو، القشيري، البجلي، الكوفي.
صاحب الإمام، وأحد الأئمة الأعلام.
سمع الإمام الأعظم أبا حنيفة، ومطرف بن طريف، وحجاج بن أرطأة، وغيرهم.
وروى عنه أحمد بن حنبل، ومحد بن بكار بن الريان، وأحمد منيع، وأحمد بن محمد الزعفراني، وغيرهم.
قال محمد بن سعد: أسد بن عمرو البجلي، من أنفسهم، يُكنى أبا المنذر، وكان عنده حديث كثير، وهو ثقة.
وكان قد صحب أبا حنيفة، وتفقه، وكان من أهل الكوفة، فقدم بغداد، فولى قضاء مدينة الشرقية بعد العوفي.
وولى أيضاً قضاء واسط، ووثقه أحمد بن حنبل، والمشهور عن يحيى بن معين في حقه التوثيق، فلا يُلتفت إلى من ضعفه.
روى عباس بن محمد الدوري، عن يحيى بن معين، أنه كان يقول: كان أسد بن عمرو صدوقاً، وكان يذهب مذهب أبي حنيفة، وكان سمع من مطرف، ويزيد بن أبي زياد، وولى القضاء، فأنكر من بصره شيئاً، فرد عليهم القمطر، واعتزل القضاء.
قال عباس: وجعل يحيى يقول: رحمه الله، رحمه الله.
وفي ” الجواهر المضية “، أن الطحاوي، قال: كتب إلى ابن أبي ثور، يحدثني عن سليمان بن عمران، حدثني أسد بن الفرات، قال: كان أصحاب أبي حنيفة الذين دونوا الكتب أربعين رجلاً، فكان في العشرة المتقدمين: أبو يوسف، وزُفر، وداود الطائي، وأسد بن عمرو، ويوسف بن خالد السمتي، ويحيى بن زكريا بن أبي زائدة، وهو الذي كان يكتبها لهم ثلاثين سنة.
وولى أسد القضاء بواسط، فيما ذكره الخطيب، وولى قضاء بغداد بعد أبي يوسف للرشيد، وحج معه معادلاً له.
قال الطحاوي: سمعت بكار بن قُتيبة، يقول: سمعت هلال بن يحيى الرأي، يقول: كنت أطوف بالبيت، فرأيت هارون الرشيد يطوف مع الناس، ثم قصد إلى الكعبة، فدخل معه بنو عمه.
قال: فرأيتهم جميعاً قياماً وهو قاعد، وشيخٌ قاعد معه أمامه، فقلت لبعض من كان معي: من هذا الشيخ؟ فقال لي: هذا أسد بن عمرو قاضيه.
فعلمت أن لا مرتبة بعد الخلافة أجل من القضاء.
واختلف في وفاته، فقيل: سنة ثمان وثمانين ومائة، وقيل: سنة تسعين ومائة، والله تعالى أعلم.
الطبقات السنية في تراجم الحنفية)
اسی طریق اسناد کی وجہ سے ذہبی اور پہر ان کے حوالے سے البانی ،فیروز آبادی، علامہ شبلی اور ان کے ہمنوائوں نے اس روایت کو اسد بن عمرو کی یاوہ گوئی قرار دے کر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے لئے اس فضیلت کا انکار کیا ہے ۔
البانی لکھتے ہیں :
( ” أصل صفة الصلاة ” ( 2 / 531 / ط . مكتبة المعارف ) – في معرض كلامه أن المداومة على إحياء الليل كلّه خلاف سنّة النبي صلى الله عليه وسلّم وهديه – :
ولا تغتر بما روي عن أبي حنيفة رحمه الله أنه مكث أربعين سنة يصلي الصبح بوضوء العشاء ؛فإنه مما لا أصل [ له ] عنه ؛ بل قال العلامة الفيروزأبادي في ” الرد على المعترض ” ( 44 / 1 ) :
” هذا من جملة الأكاذيب الواضحة التي لا يليق نسبتها إلى الإمام ، فما في هذا فضيلة تُذكر، وكان الأولى بمثل هذا الإمام أن يأتي بالأفضل، ولا شك أن تجديد الطهارة لكل صلاة أفضل وأتم
وأكمل . هذا إن صح أنه سهر طوال الليل أربعين سنة متوالية ! وهذا أمر بالمحال أشبه، وهو من خرافات بعض المتعصبين الجهال، قالوه في أبي حنيفة وغيره ، وكل ذلك مكذوب ” . اهـ .
علامہ شبلی نعمانی کو بھی امام عالی مقام کی یہ فضیلت تسلیم نہیں اور سیرت نعمان میں انہوں نے امام کی ایسی تصویر کشی کو مبالغہ آرائی اور خوش اعتقادی پہ محمول کیا ہے ۔
لیکن اس تاریخی روایت کا باریک بینی سے جائز لینے سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ جس اسد بن عمرو کے جرح مبہم کی وجہ سے یہ روایت مسترد ہوئی ہے اس راوی کی احمد بن حنبل اور ابن معین جیسے دیگر ائمہ جرح وتعدیل نے تعدیل وتوثیق بھی کی ہے ! لہذا یہ روایت قابل اعتبار ہوگی ۔ اور جرح مبہم کا اعتبار نہ ہوگا :
يُقبل التعديل من غير ذكر سببه.لأن أسبابه كثيرة [و] لا سيما ما يتعلق بالنفي فيشق تعدادها.
ولا يقبل الجرح( إلا مفسرا. لاختلاف الناس في موجبه. هذا هو الصحيح. المختار فيهما؛ و به قال الشافعي(الكفاية))(1/100)، و((مقدمة بن الصلاح))(1/106)، و ((تدريب الراوي))(1/359).. ((ضوابط الجرح والتعديل)) (ص 23) .
((فتح المغيث))(4/362)،
پہر ہم دیکھتے ہیں کہ فن حدیث کے بڑے بڑے ائمہ بھی اس روایت کو نقل فرماتے ہیں ۔مثلا :
امام نووی رحمہ اللہ ( تھذیب الأسماء ص704) ،علامہ دمیری رحمہ اللہ (حیات الحیوان 1/122)، ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ (تھذیب التھذیب 10/450)، علامہ سیوطی رحمہ اللہ (تبیض الصحیفہ ص15) ،قاضی حسین بن محمد دیار مالکی رحمہ اللہ( تاریخ الخمیس 2/366) ،عبد الوہاب شعرانی حنبلی رحمہ اللہ (کتاب المیزان 1/61)،ابن حجر مکی رحمہ اللہ (الخیرات الحسان ص36). میں اس واقعہ کو ذکر کرتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ نے چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی ۔
ان تاریخی اصولوں اور شہادتوں کی روشنی میں اس واقعہ کا انکار درست نہیں.
اگر عبادت کی یہ کثرت بدعت یا خلاف حدیث ہو تو یہ الزام صرف امام ابو حنیفہ ہی پہ کیوں ؟
امام عالی مقام کے علاوہ کئی اکابرین سے بھی اسی قسم کے کئی واقعات صادر ہوئے ہیں جو کہ مختلف کتابوں میں موجود ہیں۔
شیخ عبدالقادر جیلانی حنبلیؒ کا کہنا ہے کہ چالیس تابعین کے متعلق منقول ہے کہ انہوں نے چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی اور اسکی سند صحیح ہے۔(غنیۃ الطالبین، صفحہ 496 بتحقیق مبشر لاہوری غیر مقلد)
کیا اب کسی کی ہمت ہوگی کہ ان چالیس تابعین کی طرف بھی ابو حنیفہ ہی کی طرح لعن طعن کے توپ کا دہانہ کھول سکے ؟؟؟؟
تکثیر عبادت سے متعلق فاضل لکنوی علامہ عبد الحی صاحب نے “إقامة الحجة ” نامی رسالے میں بڑی فاضلانہ اور نفیس بحث فرمائی ہے ۔
اللہ تعالی اپنے مخصوص بندوں کو خاص ذوق وشوق عبادت سے نوازتے ہیں ۔ان کے اوقات میں بیحد برکتیں ہوتی ہیں ۔
قلیل ترین وقت میں کثیر عبادتوں کی ا نجام دہی ان کے لئے آسان وممکن ہوجاتی ہے ۔جو عام لوگوں کے فہم رسا سے بالاتر ہے۔
علامہ نووی لکھتے ہیں کہ بعض علماء 24 گھنٹے میں آٹھ ختم قرآن فرمالیتے تھے۔
وہ لکھتے ہیں
ختم بعضهم في اليوم والليلة ثماني ختمات. أربعا في الليل. وأربعا في النهار. الأذكار للنووي.كتاب تلاوة القرآن .ص 138 .
شیخ عبد الوہاب شعرانی رحمہ اللہ فتوحات مکیہ جو دس ضخیم جلدوں پہ مشتمل ہے ۔دن میں دو مرتبہ مکمل اس کا مطالعہ کرلیتے تھے ۔
وحكى عبد الوهاب الشعراني في اليواقيت والجواهر عن نفسه أنه طالع الفتوحات وهى عشر مجلدات ضخمة كل يوم مرتين.
مجموعة رسائل اللكنوي .إقامة الحجة على أن الإكثار في التعبد ليس ببدعة 189/2 )
آخر اس تکثیر عبادت پہ کسی ظاہر پرست کی زبان کیوں نہیں کھلتی ؟
جس حدیث میں کثر عبادت سے ممانعت وارد ہے اس کا مفہوم علماء محققین کے نزدیک یہ ہے کہ تکثیر عبادت نتیجة بسااوقات تقلیل عبادت کا مستوجب بنتی ہے اس لئے منع کیا گیا ہے ۔ ورنہ تکثیر عبادت تو فی نفسہ مطلوب چیز ہے۔اگر کسی کی تکثیر عبادت سے ہمت کم ہوتی ہو نہ طبعیت ملول ہوتی ہو۔ انبساط وبشاشت بدستور باقی ہو اعضاء کمزور نہ پڑتے ہوں تو ایسوں کے لئے یہ ممانعت نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات صحابہ کرام کے مزاج ،عادات واطوار کے مطابق سامنے آتے تھے۔کسی کے لئے سب سے بڑا جہاد ماں کی خدمت میں مشغول رہنا قرار دیا ہے۔جبکہ ہر ایک کے لئے ہر وقت علی العموم یہ اصول نہیں ۔ اسی طرح رات میں تکثیر عبادت کی مذکورہ ممانعت ممکن ہے شخصی مزاج کی رعایت ولحاظ میں سامنے آئی ہو۔
اس ضمن میں محقق تھانوی کی یہ بات آنکھوں کے راستے دل میں اتار لینے کی قابل ہے ۔فرماتے ہیں :
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں تکثیر عبادت سے جو حدیث میں ممانعت ہے اس کے متعلق محققین نے لکھا ہے کہ تکثیر عبادت سے ممانعت فی الحقیقت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقلیل عبادت سے ممانعت ہے اس لئے کہ عبادت کی تکثیر مفرط بوجہ ملال و کلال مفضی ہو جاتی ہے اس کی تقلیل کی طرف ورنہ تکثیر عبادت فی نفسہ مطلوب ہے ـ ممانعت کی چیز نہیں اور ہر چیز میں یہی حالت ہے کہ کثرت کرنا کسی چیز کا سبب ہو جاتی ہے ـ اس کی قلت کا ـ بعض طلباء ہر وقت کتاب میں مشغول رہتے ہیں مگر بعد چند روز کے جتنا کام کرنا ضروری تھا اس سے بھی محروم ہو جاتے ہیں اس لئے یہ چاہیے کہ جتنا شوق ہو اس سے بھی کام کچھ کم کرے ـ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی ایک مثال بیان فرمائی ہوئی یاد ہے ـ فرمایا کرتے تھے جیسے لڑکے چکئی کو پھینکتے ہیں تو پھر واپس لوٹانے کے لئے کچھ ڈورا لپٹا چھوڑ دیتے ہیں ـ اسی طرح اگر بھوک رکھ کر کھایا جائے تو دوسرے وقت خوب اشتہار ہوتی ہے ـ ان ہی باتوں کی وجہ سے میں کہا کرتا ہوں کہ ہر چیز میں شیخ کامل کی ضرورت ہے ـ اب شربت بنتے ہیں ـ خمیرے بنتے ہیں ـ آگ کا انداز کہ چاشنی نہ بگڑ جائے جیسے اس کو دوا ساز سمجھ سکتا ہے ـ اسی طرح باطن کی چاشنی کو ماہر فن شیخ کامل محقق ہی سمجھ سکتا ہے اسی کو مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
قال را بگذار مرد حال شو
پیش مردے کاملے پامال شو
(ملفوظ نمبر 22 )
الحاصل امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے چالیس سال تک فجر کی نماز عشاء کے وضو سے پڑھنے والی روایت تاریخی اصولوں پہ ثابت ہے۔ متعدد ائمہ حدیث نے اسے نقل کیا ہے۔شب بیداری کا یہ مجاہدانہ عمل تنہاء ان ہی کا نہیں ۔ان کے علاوہ مزید چالیس جلیل القدر تابعین کا بھی عمل تھا ۔لیکن ستم ظریفی یا مسلکی تنگ نائیوں کی حد ہے کہ بعض لوگوں کی زبان طعن صرف امام الائمہ اور سراج الامہ ہی پہ دراز ہوتی ہے۔جو سراسر ناانصافی ہے۔پہر چالیس سال کی یہ تعداد بیان کثرت پہ محمول ہے ۔حقیقت پہ نہیں ۔یعنی وہ اپنے جسمانی وخانگی حقوق بھی انجام دیتے تھے۔البتہ زیادہ معمول یہ تھا کہ عشاء تا فجر عبادتوں میں منہمک رہتے تھے۔پہر عشاء کی ادا نماز کا وقت چونکہ مغرب کاوقت ختم ہونے سے فجر کا وقت داخل ہونے تک ممتد رہتا ہے ۔اس لئے نصف شب میں عشاء پڑھ کے تہجد میں انہماک کے بعدپہر اسی وضو سے فجر پڑھ لینا عقلا مستبعد ہے نہ اس سے حقوق زوجیت کی تفویت لازم آتی ہے ۔ کیونکہ نصف شب یا اس کے بعد عشاء وتہجد پڑھنے کی صورت میں اس سے قبل جسمانی ودیگر معاشرتی حقوق کی ادائی کے لئے خاطر خواہ وقت موجود ہے۔ یہ تو عام آدمی کے لئے بھی ممکن العمل ہے ۔امام عالی مقام کی ریاضت ومجاہدے تو مخالفین کے یہاں بھی مسلم ہیں ۔اس کے باوجود ان پہ اعتراض کرنا قابل افسوس ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی ، بیگوسرائے
٢١شعبان ١٤٣٩ہجری