ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے !!مولانا اسرارالحق قاسمی کی وفات

ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے !!
قوم کے بے لوث ملی وسیاسی عظیم رہنما ،
دارالعلوم دیوبند کے قابل فخر سپوت ،
متعدد دینی تنظیموں ، اداروں اور تعلیم گاہوں کے ممبر/ بانی / و سرپرست ، یادگار اسلاف ، ممبر پارلیمنٹ حضرت مولانا محمد اسرار الحق قاسمی رحمہ اللہ کی رحلت مسلمانان ہند کے لئے عظیم اور جان کاہ سانحہ ہے
سیاسی تدبر و بصیرت کے ساتھ آپ عزم وحوصلہ اور صبر واستقامت کے کوہ ہمالہ تھے
سیاسی انتخابات میں کئی بار مسلسل ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ،لیکن شکستگی کے شکار ہوئے نا کبھی یاس و نامیدی کو قریب پھٹکنے دیا
عزم جواں ،جہد مسلسل اور سعی پیہم کی آپ زندہ مثال اور مجسَّم تصویر تھے
برسوں کی محنت ،لگن اور کوشش کی بدولت پارلیمنٹ تک بھی پہونچے
شروع شروع میں قلم میں اتنی پختگی تھی نا اتنا کوئی خاص لکھتے تھے
لیکن وہ اپنی انتھک محنت کی بدولت بہترین ، شستہ ، سیال اور پختہ قلم کے مالک بن گئے، ملک وملت کے سلگتے مسائل پہ آپ نے ہزاروں صفحات پہ محیط علم وادب کے شاہکار مضامین اور کالمز لکھے ،
طبعیت میں غایت درجہ شرافت و سادگی تھی
ہمیشہ عالمانہ شان ووضع میں نظر آئے ، ہٹو بچو سے طبعی نفور تھا ، تعلیمی میدان میں انہوں نے ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں
خدا انہیں غریق رحمت فرمائے
اور ان کی جملہ خدمات کو شرف قبولیت سے نواز کر ذخیرہ آخرت بنائے ،امت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وارْحَمْهُ، وعَافِهِ، واعْفُ عَنْهُ، وأكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، واغْسِلهُ بالـمَاءِ والثَّلْجِ والبَرَدِ، ونَقِّهِ مِنَ الخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وأبْدِلْهُ دَاراً خَيْراً مِنْ دَارِهِ، وأهْلاً خَيْراً مِنْ أهْلِهِ، وزَوْجاً خَيْراً مِنْ زَوْجِهِ، وأدْخِلْهُ الجَنَّةَ، وأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ [وَعَذَابِ النَّارِ]
شکیل منصور القاسمی

Scroll to Top