عورتوں کا باہمی مصافحہ ومعانقہ

مصافحہ کی سنیت پہ علماء اسلام کا اتفاق ہے۔نووی لکھتے ہیں۔المصافحة سنة مجمع علیھا عند التلاقی۔المنحة الربانیہ علی الاذکار النوویہ 392/5۔۔

فتح الباری 57/11۔۔

جس طرح مردوں کے لئے مصافحہ سنت ہے اسی طرح عورتوں کے لئے بھی باہمی ملاقات کے وقت آپس میں مصافحہ کرنا سنت ہے ۔مامن مسلمین یلتقیان فیتصافحان الا غفرلھما قبل ان یفترقا۔ابوداءد ۔حدیث نمبر 5212۔

نہ آپ ص نے مردو عورت کے درمیان تفریق فرمائی ہے اور نہ ہی فقہاء سے ایسامنقول ہے۔

جن عورتوں سے مردوں کے لئے پردہ واجب ہے ان سے مردوں کا مصافحہ ومعانقہ بھی ناجائز ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیعت کے لئے آنے والی غیر محرم عورتوں سے مصافحہ کرنے سے سختی سے انکار فرماتے تھے۔اس سلسلہ کی لمبی حدیث موطا مالک میں دیکھیں۔اوجز المسالک الی موطا للامام مالک 449/6۔۔۔

چچی ممانی چچازاد ماموزاد پہوپہی زاد خالو زاد پہوپہا وغیرہ سے مصافحہ کرنا ناجائز ہے

محرم عورتوں سے مصافحہ کرنا جائز ہے اگر شہوت نہ ہو تو۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی فاطمہ سے مصافحہ فرماتے تھے۔

حدیث دیکھئے مشکات المصابیح کتاب الادب۔باب المصافحہ الفصل الثانی 402/2۔ مرقات المفاتیح 469/8۔۔

ساس سے شرعا اور اصولا فی نفسہ مصافحہ کرنا جائز تو ہے لیکن خطرہ بہت زیادہ ہے اگر مصافحہ بلاحائل ہو اور دوران مصافحہ شہوت پائی گئی تو اب حرمت مصاھرت ثابت ہوجائے گی بیوی ہمیشہ کے لئے شوہر پر حرام ہوجائے گی۔طلاق دینے سے بھی یہ حرمت حلت میں نہیں بدل سکتی ۔اسلئے ساس سے مصافحہ ومعانقہ نہ کرنے میں ہی احتیاط اور عافیت یے۔

عورتوں کا کسی بھی اجنبی اور غیر محرم مرد سے ہاتھ ملانا ناجائز ہے۔

آج کل جو ایمان وحیاء سوز فیشن چل پڑا ہے وہ سراسر غیر اسلامی ہونے کے ساتھ انسانی غیرت وحمیت کے بھی خلاف ہے۔

واللہ اعلم

شکیل منصور القاسمی

Scroll to Top