14 نومبر یوم اطفال کی تقریب مفتی شکیل القاسمی

بچے والدین کے پاس خدا کی امانت ہیں، قوم و ملت کی نخل تمنا اور مستقبل میں نسل انسانی کا حصہ اور ہمارے جگر پارے ہیں۔ حقیقی سرمایہ ہونے کے ناطے بچوں سے ہماری بڑی توقعات وابستہ ہیں؛ اس لیے بچوں کے امور پر توجہ اہمیت کا حامل ہونے کے ساتھ نازک ہے۔ جتنا بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی قوم کی ترقی یا تنزلی کا مدار اسی پر ہوگا۔ صرف ایک دن بچوں کی بابت تقریب منعقد کرکے سرخیاں بٹورنے سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لیے ہر پہلو سے مستقل جہد مسلسل کی ضرورت ہے۔
بچوں کا موضوع، تعلیم اور تربیت کے حوالے سے ہر دور میں سماج کے اصلاح پسندوں اور دانشوروں کی فکر مندی کا حصہ رہا ہے، موجودہ وقت میں اس موضوع پر دور ماضی سے زیادہ بحث و گفتگو ہونے لگی ہے۔ دین اسلام میں انسان کی زندگی کے مختلف مراحل بچپن، جوانی اور بڑھاپا میں تربیتی پہلو پر خاصی توجہ دی گئی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ایسے احکام و اصول وضع کیے گئے جو یقینی طور پر انسان کو سعادت مندی اور سرخروئی سے بہرہ ور کرسکے۔ اسلام میں صرف والدین سے بچوں کی تربیت کا مطالبہ نہیں کیا گیا ؛ بلکہ اسلام نے شاہراہ حق کی رہنمائی کرتے ہوئے تربیت کا ایسا جامع اور مرتب نظام پیش کیا جو بچے کی پیدائش سے قبل شادی کے لیے بیوی کے انتخابی مراحل سے گزر کر عہد طفولت مراہقت ، شباب اور کہولت تک محیط ہے۔
بچوں کے مسائل کا ادراک اور پیچیدہ مشکلات کا درد رکھنے والے مخلص والدین سے گزارش کی جاتی ہے کہ سب سے پہلے انھیں مغرب کی فکری اور ثقافتی یلغار سے بچانے کی کوشش کریں اور بیرون سے در آمد کردہ ٹیلیویزن وغیرہ دیگر برقی اسکرین پر دکھائے جانے والے مخرب اخلاق، فحش ویڈیو اور گندی فلمی کہانیوں کے آگے بند باندھنے کی جتن کریں؛ تاکہ آنے والی نسل انسانی فکری غلامی کا شکار ہونے کی بجائے اپنے صالح پیش رو کا سچا نمونہ بن سکے۔ اگر سال میں صرف ایک دن یوم اطفال کی تقریب منعقد کرکے بقیہ دنوں لاابالی پن اور تغافل کا شکار رہے تو تاریخ ہمیں ہرگز معاف نہیں کرے گی۔ خدا ہمیں حسن عمل کی توفیق بخشے آمین۔
تحریر: مفتی شکیل منصور قاسمی
ترجمانی: محمد شاہنواز قاسمی بیگوسرائیوی ،حال مقیم کویت )

Scroll to Top