صحابہ، تابعین ،ائمہ مجتھدین اور پوری امت محمدیہ کا اجماع ہے کہ مصحف عثمانی میں درج عربی رسم الخط کے علاوہ کسی بھی عربی رسم الخط یا غیر عربی زبان میں قرآن کریم کو لکھنا ناجائز اور منع ہے۔علامہ سیوطی نے اس کی ممانعت پہ امت کا اجماع نقل فرمایا ہے۔
حرمت کی وجہ یہ ہے کہ بعض حروف عربی زبان کے ساتھ مخصوص ہیں جیسے طاء، حاء ،ضاد،ظاء ،ذال،اور زاء وغیرہ ۔
یہ حروف دوسری زبانوں میں استعمال نہیں ہوتے۔ان کے لئے ان زبانوں میں صورت ہے نہ شکل ومخرج۔تو لامحالہ ان کی جگہ دوسرے حروف ہی لکھے جائیں گے ۔اور یہ عمدا قرآن کریم کی تغییر وتحریف ہے جو کہ حرام ہے۔
البتہ متن قرآن تو عربی رسم الخط میں ہو اور اس کا ترجمہ وتفسیر دوسری زبان میں تو شرعا کوئی حرج نہیں۔
محقق ابن الھمام لکھتے ہیں : وفي الكافي إن اعتاد القرآن بالفارسية او أراد أن يكتب مصحفا بها يمنع.فإن كتب القرآن وتفسير كل حرف وترجمته جاز.فتح القدير
باب صفة الصلاة .286/1.ط مصر.
الإتقان في علوم القرآن 328/2. النوع السادس والسبعون في مرسوم الخط وآداب كتابته …مناهل العرفان في علوم القرآن 38/2.ط دار إحياء التراث العربي…ردالمحتار 486/1 مطلب في بيان المتواتر.
الفتاوی الکبری 38/1۔باب النجاسة .ط تركيا .
شروع زمانہ میں جب ا سلام اپنی آسمانی کتاب قرآن مجید کے ساتھ مشرق و مغرب کے عجمی ممالک میں پھیلا تو اس وقت قرآن کے پڑھنے پڑھانے والے گنے چنے افراد تھے ۔خراسان ترکستان وہندوستان کے نو مسلم افراد نہ عربی رسم الخط پڑھ سکتے تھے نہ ان کے ممالک میں ابتداء کوئی ایسا آدمی میسر تھا جو عربی کو سمجھ کر ان کی ملکی زبان میں اس کی ترجمانی بآسانی کرسکے ۔ظاہر ہے اس وقت ہرملک کے رسم الخط میں قرآن لکھکے تقسیم کرنے کی ضرورت زیادہ ہوگی !! لیکن پوری تاریخ اسلام میں ایک واقعہ بھی ایسا ثابت نہیں کہ ان حضرات صحابہ وتابعین نے کسی بھی عجمی رسم الخط میں قرآن لکھوایا ہو یا اس کی اجازت دی ہو ۔
عجمیوں کو عربی رسم الخط میں قرآن پڑھنے کی مشکلات آج کی نہیں ہیں !! شروع سے ہیں لیکن ان مزعومہ مشکلات کے باوجود صحابہ نے معانی کی طرح الفاظ قرآن کی بھی حفاظت کی اور ان مشکلات کو ناقابل اعتبار سمجھا۔تھوڑی سی محنت ہو تو آسانی سے قرآن سیکھا جاسکتا ہے !
پہر اگر مشقت ہو بھی تو کیا ہر مشقت کا ازالہ ضروری تو نہیں ؟؟؟ نماز روزہ حج میں بھی تو مشکلات ہیں تو کیا اب ان میں بھی تخفیف کا سوچا جائے گا ؟؟؟؟
اسی لئےحافظ عسقلانی فرماتے ہیں
وزعم أن كتابته بالعجمية فيها سهولة للتعليم كذب مخالف للواقع والمشاهدة فلا يلتفت لذالك.على أنه لوسلم صدقه لم يكن مبيحا لإخراج ألفاظ القرآن عما كتب عليه واجمع عليه السلف والخلف. الفتاوى الكبرى 38/1. رسائل اللكنوى 385/4.ط إدارة القرآن.
ان عبارتوں سے واضح ہے سہولت تعلیم کا عذر ناقابل تسلیم والتفات یے ۔اگر سہولت تسلیم بھی کرلیا جائے تو اس سہولت کی خاطر قرآن کی تبدیل وتغییر جائز نہیں ہوسکتی ۔
لہذا قرآن مجید کا رسم الخط متعین ہے اسے چھوڑ کے کسی بھی دوسرے رسم الخط میں قرآن وحدیث کی کتابت وطباعت جائز نہیں ہے۔مثال کے طور پہ بسم اللہ الرحمن الرحیم میں لفظ اللہ لفظ الرحمن لفظ الرحیم کی ابتداء کے دو حروف الف لام لکھنے میں نہیں آئیں گے۔اس طرح صرف بسم اللہ الرحمن الرحیم میں چھ حروف کم جائیں گے ۔تو غور کیجئے ! پوری سورہ وغیرہ لکھنے میں کتنے حروف کم جائیں گے ؟؟؟ کیا یہ قرآن کی تبدیلی نہ ہوگی ؟؟؟؟
تفصیلات کے لئے دیکھیں جواہر الفقہ 67/2۔۔۔محمود یہ پاکستانی 512/3۔۔رحیمیہ 17/3۔۔فتاوی عثمانی 219/1۔۔
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی