مسلمان عورتوں کی غیر مسلم مردوں سے شادی ؟

سورہ الذاريات، آیت 49 سے پتہ چلتا ہے کہ کارگاہِ عالم کا سارا نظام(بعض مفسرین کے قول کے مطابق ) “قانونِ زوجی” پر مبنی ہے اور کائنات میں جتنی چیزیں نظر آرہی ہیں سب اسی “ قانون زوجی “کا کرشمہ اور مظہر ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ مخلوقات کا ہر طبقہ اپنی نوعیت، کیفیت اور فطری مقاصد کے لحاظ سے مختلف ہیں ؛ لیکن اصل زوجیت ان سب میں وہی ایک ہے۔ البتہ انواعِ حیوانات میں انسان کو خاص کرکے یہ ظاہر کیاگیا ہے کہ اس کے زوجین کا تعلق محض شہوانی نہ ہو بلکہ محبت اور انس کا تعلق ہو دل کے لگاؤ اور روحوں کے اتصال کا تعلق ہو۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے راز دار اور شریک رنج و راحت ہوں، ان کے درمیان ایسی معیت اور دائمی وابستگی ہو جیسی لباس اور جسم میں ہوتی ہے۔ دونوں صنفوں کا یہی تعلق، ذہنی ہم آہنگی اور قلبی وابستگی دراصل انسانی تمدن کی عمارت کا سنگِ بنیاد ہے ، اس ربط و تعلق کے بغیر نہ انسانی تمدن کی تعمیر ممکن ہے اور نہ ہی کسی انسانی خاندان کی تنظیم۔ جب یہ قانونِ زوجی خالقِ کائنات کی طرف سے ہے تو یہ کبھی صنفی میلان کو کچلنے اور فنا کرنے والا نہیں ہوسکتا۔ اس سے نفرت اور کلی اجتناب کی تعلیم دینے والا بھی نہیں ہوسکتا؛ بلکہ اس میں لازماً ایسی گنجائش رکھی گئی ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اس اقتضاء کو پورا کرسکے حیوانی سرشت کے اقتضاء اور کار خانہٴ قدرت کے مقرر کردہ اصول و طریقہ کو جاری رکھنے کے لیے قدرت نے صنفی انتشار کے تمام دروازے مسدود کردئیے،اور ”نکاح“ کی صورت میں صرف ایک دروازہ کھولا۔ کسی بھی آسمانی مذہب و شریعت نے اس کے بغیر مرد و عورت کے باہمی اجتماع کو جائز قرار نہیں دیا۔ پھر اسلامی شریعت میں یہاں تک حکم دیاگیا ہے کہ اس فطری ضرورت کو تم پورا کرو، مگر منتشر اور بے ضابطہ تعلقات میں نہیں، چوری چھپے بھی نہیں، کھلے بندوں بے حیائی کے طریقے پر بھی نہیں؛ بلکہ باقاعدہ اعلان و اظہار کے ساتھ، تاکہ تمہاری سوسائٹی میں یہ بات معلوم اور مسلم ہوجائے کہ فلاں مرد اور عورت ایک دوسرے کے ہوچکے ہیں۔دین اور نسلِ انسانی کے تحفظ کی ضرورت کو ہر ملت اور مذہب میں تسلیم کیا گیا ہے تمام آسمانی مذاہب وامم کا اتفاق ہے کہ دین ، نفسِ انسانی ، نسلِ انسانی ، مال اور عقل کی حفاظت کے لئے شریعت نازل ہوئی ہے ۔(“فقد اتفقت الأمة بل سائر الملل على أن الشريعة وضعت للمحافظة على الضروريات الخمس وهي:الدين،والنفس، والنسل، والمال والعقل (الموافقات للشاطبي (1/ 31)شریعت اسلامیہ میں سب اہم ، کلیدی اور قابل ترجیح چیز دین اور ایمان کا تحفظ ہے ۔نکاح کے باب میں بھی حسب ونسب ، مال ودولت ، دنیاوی جاہ ومنصب کے بالمقابل دین کی ترجیح کو کامیابیوں ، کامرانیوں اور معاشرتی مسرتوں اور شادمانیوں کا ضامن قرار دیا گیا ہے ۔ قانون قدرت “نکاح “ کی حیثیت صرف سماجی بندھن یا دوبکریوں کو کھونٹے میں “باندھ دینے “ کی نہیں ہے؛ بلکہ نکاح چند بلند ترین مقاصد کے حصول کے لئے عمل میں لائے جانے والے “دیرپا اور مقدس رشتے” کا نام ہے ۔انہی مقاصد کے حصول کے پیش نظر اسلام نے نکاح کو نفلی عبادت سے افضل اور تجرد کی زندگی سے بہتر قرار دیا ہے ۔صرف شہوت رانی نکاح کا مقصود نہیں ہے ۔نکاح کا بنیادی مقصد عفت وعصمت کی حفاظت اور افزائشِ نسل انسانی ہے۔لہذا اس مقصد کے حصول کی راہ میں ممد ومعاون ثابت ہونے والی خاتوں کو نکاح کے لئے منتخب کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔حافظ عسقلانی کے بقول شہوت کو توڑنے ، نفس کو عفیف بنانے اور نسل کی کثرت کے لئے شادی عمل میں آتی ہے۔( فتح الباری 21/27 )ان مقاصد کے حصول میں رکاوٹ بننے والی خاتون سے نکاح نہ کرنے کی تعلیم ہے۔اسلام کے بنیادی عقائد ثلاثہ : توحید، آخرت ، اور رسالت سے متصادم عقیدہ کی حامل خاتون یا مرد کو اپنے حرم میں لانے سے شرک وکفر کی نفرت کے خاتمہ کے ساتھ اس کی طرف رغبت ومیلان کا خاموش اظہار بھی ہے اور پہر اس اختلاط کے نتیجے میں حاصل شدہ اولاد بھی کفریہ جراثیم سے لت پت ہونگی۔۔۔جس سےاسلام کی اساس اور بنیاد “توحید “ پر زد پڑے گی۔اس لئے قرآن کریم سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ “شرک “نکاح کی حرمت کے منجملہ اسباب میں سے ایک سبب ہے ۔ اورکسی بھی مسلم عورت کا مشرک مرد سے یا مسلم مرد کا مشرکہ عورت سے نکاح کرنا حرام ہے ۔ دونوں کا ازدواجی تعلقات قائم کرنا زناکاری کے زمرے میں آئے گا، اللہ پاک نے صریحاً اس سے منع کیا ہے وَلَاتُنْکِحُوْا الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوْا [البقرۃ: ۲۲۱] اور (اسی طرح) مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں، مومن عورتوں کو ان کی زوجیت میں نہ دینا )اس حرمتِ مناکحت کا تعلق دین اور ایمان کی حفاظت کے ساتھ ہے۔صیانت دین وایمان من جملہ مقاصد شریعت میں ہے ، ہر حال میں اس کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا ، مسلمہ عورت کو مشرک مرد کی قوامیت میں دینے کی صورت میں عورت اپنی طبعی انفعالیت اور تاثر پذیری کے باعث مشرک مرد کے کافرانہ عقائد اور اعمال کو اختیار کرلے گی۔ اس صریح اور قطعی الدلالۃ ممانعت اور حرمت کے باعث مسلمان عورت کے غیر مسلم مرد سے نکاح کا قائل ساڑھے چودہ سو سالہ تاریخ میں کوئی بھی قابلِ ذکر مفسر اور فقیہ نہیں رہا ہے اور اس کی حرمت پر علماے امت کا اجماع چلا آرہا ہے، ان سے مناکحت قائم کرنے میں ان کے اقوال ، ان کے افعال، ان کی محبت کے ساتھ اختلاط کرنا، شرک کی نفرت اور اس کی برائی کو دل سے کم کرتا ہے اور شرک کی طرف رغبت کا باعث ہوتا ہے جس کا انجام کار دوزخ ہے ۔مسلمان عورت کے لیے کسی غیر مسلم مرد سے شادی کے حرام ہونے پر تمام فقہاء ومفسرین متفق ہیں، غیر مسلم سے مراد ہر کافر یا مشرک ہے، خواہ وہ مشرک ہو، مجوسی ہو یا اہل کتاب ہو ۔امام قرطبي لکھتے ہیں : ” أي لا تزوجوا المسلمة من المشرك وأجمعت الأمة على أن المشرك لا يطأ المؤمنة بوجهٍ لما في ذلك من الغضاضة على الإسلام “. [ الجامع لأحكام القرآن: ج: 3 ص: 72].ترجمہ : ” یعنی کسی مسلمان عورت کا کسی مشرک سے نکاح نہ کرو، اور ملت اسلامیہ کا اس پر اجماع ہے کہ مشرک کسی مومن عورت سے کسی بھی صورت میں ہمبستری نہیں کرسکتا؛ کیوں کہ اس میں اسلام کی توہین وتنقیص ہے۔”امام رازی کہتے ہیں :”فلا خلاف ها هنا أن المراد به الكل-أي جميع غير المسلمين- وأن المؤمنة لا يحل تزوجها من الكافر البتة على اختلاف أنواع الكفرة “. [ التفسير الكبير:ج6،ص64، وانظر: تفسير ابن كثير:ج1ص258 ].ترجمہ : یہاں اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ مشرک سے مراد علی العموم تمام غیر مسلم ہیں اور یہ کہ کسی مومنہ عورت کے لیے کسی بھی کافر سے قطعاً نکاح جائز نہیں ہے، اس ممانعت میں کافروں کی تمام قسمیں شامل ہیں ۔إمام شافعي رحمه الله فرماتے ہیں : ” وإن كانت الآية نزلت في تحريم نساء المسلمين على المشركين من مشركي أهل الأوثان يعني قوله عز وجل: { ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا } فالمسلمات محرمات على المشركين منهم بالقرآن بكل حال وعلى مشركي أهل الكتاب لقطع الولاية بين المسلمين والمشركين وما لم يختلف الناس فيما علمته “. [ أحكام القرآن للشافعي ج: 1 ص: 189 ].ترجمہ : یہ آیت اگرچہ مشرکوں کے لیے مسلمان عورتوں کی حرمت کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جس کو آیت قرآنیہ میں بتایا گیا ہے : {اور مشرکین سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں}؛ لہذا مسلمان عورتیں کافروں میں سے بت پرستوں پر حرام ہیں قرآنی ممانعت کی وجہ سے اور اہل کتاب کے مشرکین پر حرام ہیں مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان ولایت نہ ہونے کی وجہ سے ۔اس میں لوگوں کا اختلاف رائے نہیں ہے “امام كاسانی فرماتے ہیں : ” فلا يجوز انكاح المؤمنة الكافر لقوله تعالى: { ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا } ولأن في انكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر لأنّ الزوج يدعوها إلى دينه والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثروا من الأفعال ويقلدونهم في الدين وإليه وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل: { أولئك يدعون إلى النار }. [ سورة البقرة: 221 ]. لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النار لأن الكفر يوجب النار فكان نكاح الكافر المسلمة سببا داعيا إلى الحرام فكان حراماً، والنص وإن ورد في المشركين لكن العلّة وهي الدعاء إلى النار يعم الكفرة أجمع فيتعمم الحكم بعموم العلة فلا يجوز انكاح المسلمة الكتابي كما لا يجوز إنكاحها الوثني والمجوسي لأن الشرع قطع ولاية الكافرين عن المؤمنين بقوله تعالى: { ولن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا }. [ سورة النساء: 141 ]. فلو جاز نكاح الكافر المؤمنة لثبت له عليها سبيل وهذا لا يجوز”. [ بدائع الصنائع ج: 2 ص: 271 ].ترجمہ : ” کسی مسلمان عورت کے لیے کافر سے نکاح جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا }، وجہ یہ ہے کہ مسلمان عورت کا کافر سے نکاح کرنے میں اس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ وہ مسلمان خاتون کفر میں مبتلا ہوجائے گی؛ کیوں کہ شوہر اسے اپنے دھرم کی دعوت دے گا، اور عموما عورتیں ان افعال میں اپنے شوہروں کی ضرور پیروی کرتی ہیں، جن میں وہ با اثر ہوتے ہیں اور دین میں ان کی تقلید کرتی ہیں، اور اسی خطرے کی طرف اللہ تعالی نے آیت کے آخر میں اشارہ فرمایا ہے : { أولئك يدعون إلى النار }؛ کیوں کہ وہ مومن عورتوں کو کفر کی طرف بلاتے ہیں اور کفر کی طرف بلانا در حقیقت جہنم کی طرف بلانا ہے؛ اس لیے کہ کفر سے جہنم لازم ہے؛ لہذا کسی کافر کا کسی مسلمان خاتون سے شادی کرنا، حرام کی طرف بلانے کا سبب ہونے کی وجہ سے حرام ہے، اور نص قرآنی اگرچہ مشرکین کے بارے میں وارد ہوئی ہے؛ لیکن علت، یعنی جہنم کی طرف بلانا، تمام کافروں میں پائی جاتی ہے؛ لہذا عموم علت کی وجہ سے حکم بھی عام ہوگا؛ چناں چہ مسلمان عورت سے کسی کتابی کا نکاح اسی طرح جائز نہیں ہوگا، جس طرح بت پرست اور مجوسی سے جاىز نہیں ہے؛ کیوں کہ شریعت نے اللہ تعالیٰ کے فرمان { ولن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا } کی وجہ سے کافروں کی ولایت کو مومنوں پر منقطع کر دیا ہے؛ چناں اگر کسی کافر کے لیے مومنہ عورت سے نکاح کرنا جائز ہوگا، تو اس کے لیے مسلمان عورت پر ولایت ثابت ہوجائے گی، جو جائز نہیں ہے۔” امام مالک ایک سلسلہ گفتگو میں فرماتے ہیں :” ولو أن نصرانيا ابتدأ نكاح مسلمة كان النكاح باطلا “. [ المدونة الكبرى ج: 4 ص: 301 ].ترجمہ : ” اور اگر کسی عیسائی نے مسلمان عورت سے نکاح کیا، تو وہ نکاح باطل ہے۔”امام ابن جزی فرماتے ہیں : ” وإن نكاح كافرٌ مسلمة يحرم على الإطلاق بإجماع “. [ القوانين الفقهية ج: 1 ص: 131 ].ترجمہ : ” مطلقا کسی کافر کا مسلمان عورت سے نکاح کرنا بالاتفاق حرام ہے۔”علامہ ابن قدامہ لکھتے ہیں :إذ لا يجوز لكافر نكاح مسلمة قال ابن المنذر أجمع على هذا كل من نحفظ عنه من أهل العلم “. [ المغني ج: 7 ص: 129 ].ترجمہ “ کافر کے لیے مسلمان عورت سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے؛ اس لیے ابن المنذر نے کہا کہ ہماری معلومات کی حد تک اہل علم کا اس پر اتفاق واجماع ہے۔”دوسری جگہ لکھتے ہیں :”ولا يزوج كافر مسلمة بحال، قال: “أما الكافر فلا ولاية له على مسلمة بحال، بإجماع أهل العلم، منهم: مالك، والشافعي، وأبو عبيد، وأصحاب الرأي، وقال ابن المنذر: أجمع على هذا كل من نحفظ عنه من أهل العلم” [المغني7/ 27].ترجمہ : ” کافر کسی بھی حالت میں کسی مسلمان عورت سے شادی نہیں کرسکتا، انھوں نے فرمایا : ” جہاں تک کافر کا تعلق ہے، تو وہ کسی بھی حالت میں کسی مسلمان عورت پر ولایت نہیں رکھتا، اہل علم کا اس پر اجماع ہے، ان میں امام مالک، امام شافعی، ابو عبید اور احناف شامل ہیں۔”ابن حزم فرماتے ہیں : ” ولا يحل لمسلمة نكاح غير مسلم أصلا… برهان ذلك قول الله عز وجل: { ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا }. [ سورة البقرة: 221 ]. [ المحلى ج: 9 ص: 449 ].ترجمہ : ” کسی مسلمان عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی بھی غیر مسلم سے نکاح کرے، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : { ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا }.قرآن کریم کی قطعی الدلالہ آیت کی تحریم اور اس پر اجماع علماے امت کے بعد اب کسی عقلی وجہ ڈھونڈنے کی قطعی کوئی ضرورت باقی نہ رہی ۔کسی بھی کافر ومشرک کو مسلمہ عورت دینا یا ان کی عورت کو اپنے نکاح میں لانا قطعا ناجائز وحرام ہے ۔۔اس قربت ویکجائی کو نکاح جیسے نام کے ساتھ موسوم کرنا اس شرعی نام بلکہ عبادت کے تقدس کو پامال کرنا ہے۔ارتداد یا ردت لغوی اعتبار سے پلٹنے کو کہتے ہیں ، مرتد اسم فاعل ہے ، اس کا لفظی معنی لوٹنے اور پلٹنے والا ہے۔شرعی اصطلاح میں مرتد وہ شخص ہے جو زبان یا عمل کے ذریعے شرکیہ کفریہ جملے کے تکلم ، عمل یا ضروریات دین میں سے کسی ضروری حکم کے انکار کے ذریعے اسلام سے کفر کی طرف لوٹ جائے، خواہ اسلام سے اپنے سابقہ دین کی طرف لوٹے یا کسی اور دین کی طرف لوٹے یا کوئی دین ہی اختیار نہ کرے ۔علامہ کاسانی (ت587هـ)بدائع الصنائع میں لکھتے ہیں : (أما ركن الردة فهو إجراء كلمة الكفر على اللسان بعد وجود الإيمان؛ إذ الردة عبارة عن الرجوع عن الإيمان) [7/134].علامہ صـــــاوي مالكی (ت 1241هـ) الشرح الصغير میں لکھتے ہیں : (الردة كفر مسلم بصريح من القول، أو قول يقتضي الكفر، أو فعل يتضمن الكفر) [6/144].علامہ شربينی شافعی (ت: 977هـ) کی مغنی المحتاج میں ہے (ت: 977هـ): (الردة هي قطع الإسلام بنیة، أو فعل سواءً قاله استهزاء، أو عناداً، أو اعتقاداً) [4/133].علامہ بـهــوتی حنبلی كشاف القناع میں لکھتے ہیں : (المرتد شرعاً الذي يكفر بعد إسلامه نطقاً أو اعتقاداً، أو شكاً، أو فعلاً) [6/136].مذاہب اربعہ مُتّبَعہ کی ان تصریحات سے واضح ہے کہ مجموعی طور پر ضروریات دین کا قول یا عمل واعتقاد کے ذریعے انکار کرنے کو ردت کہتے ہیں ۔یعنی جب تک ضروریات دین کا بلا عذر، صریحی، زبانی یا عملی انکار نہ کرے یا جس گناہ کا گناہ یا حرام ہونا قطعی دلیل سے ثابت ہو ، اسے حلال سمجھ کر نہ کرے بندہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا ۔ہاں معصیت اور کبائر کا ارتکاب ضرور ہوگا جس پر توبہ کرنا لازمی ہوگا ۔ اگر دل میں کسی گناہ کی سنگینی اور حرمت کا خیال تو ہو ؛ لیکن نفسانی بہکاوے ، حرص وطمع یا وقتی عوامل کے سامنے بے قابو ہوکر کوئی گناہ کا کام کرلے تو یہ معصیت اور گناہ تو ہوگا لیکن اس سے وہ دین سے پھرنے والا شمار نہیں ہوگا اور اس کا ایمان باقی رہے گا ۔فتاویشامی میں ہے :”مطلب: استحلال المعصية القطعية كفرلكن في شرح العقائد النسفية: استحلال المعصية كفر إذا ثبت كونها معصيةً بدليل قطعي، وعلى هذا تفرع ما ذكر في الفتاوى من أنه إذا اعتقد الحرام حلالاً، فإن كان حرمته لعينه و قد ثبت بدليل قطعي يكفر وإلا فلا، بأن تكون حرمته لغيره أو ثبت بدليل ظني. وبعضهم لم يفرق بين الحرام لعينه ولغيره، و قال: من استحلّ حرامًا قد علم في دين النبي عليه الصلاة والسلام تحريمه كنكاح المحارم فكافر. اهـ. قال شارحه المحقق ابن الغرس وهو التحقيق. وفائدة الخلاف تظهر في أكل مال الغير ظلمًا فإنه يكفر مستحلّه على أحد القولين. اهـ. وحاصله: أنّ شرط الكفر على القول الأول شيئان: قطعية الدليل، وكونه حرامًا لعينه. وعلى الثاني يشترط الشرط الأول فقط، وعلمت ترجيحه”.( الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 292)موسوعہ فقہیہ میں ہے :” الاِسْتِحْلاَل: اعْتِبَارِ الشَّيْءِ حَلاَلاً، فَإِنْ كَانَ فِيهِ تَحْلِيل مَا حَرَّمَهُ الشَّارِعُ : فَهُوَ حَرَامٌ، وَقَدْ يَكْفُرُ بِهِ إِذَا كَانَ التَّحْرِيمُ مَعْلُومًا مِنَ الدِّينِ بِالضَّرُورَةِ.فَمَنِ اسْتَحَل عَلَى جِهَةِ الاِعْتِقَادِ مُحَرَّمًا – عُلِمَ تَحْرِيمُهُ مِنَ الدِّينِ بِالضَّرُورَةِ – دُونَ عُذْرٍ: يَكْفُرُ.وَسَبَبُ التَّكْفِيرِ بِهَذَا : أَنَّ إِنْكَارَ مَا ثَبَتَ ضَرُورَةً أَنَّهُ مِنْ دِينِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِيهِ تَكْذِيبٌ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ ضَرَبَ الْفُقَهَاءُ أَمْثِلَةً لِذَلِكَ بِاسْتِحْلاَل الْقَتْل وَالزِّنَى ، وَشُرْبِ الْخَمْرِ ، وَالسِّحْرِ .وَقَدْ يَكُونُ الاِسْتِحْلاَل حَرَامًا، وَيَفْسُقُ بِهِ الْمُسْتَحِل، لَكِنَّهُ لاَ يَكْفُرُ، كَاسْتِحْلاَل الْبُغَاةِ أَمْوَال الْمُسْلِمِينَ وَدِمَاءَهُمْ. وَوَجْهُ عَدَمِ التَّكْفِيرِ أَنَّهُمْ مُتَأَوِّلُونَ ” “الموسوعة الفقهية” (3/ 236)غربت ، افلاس ، ایمانی کمزوری ، بے دینی ، مخلوط تعلیمی نظام ، اباحیت پسندی ، میلے ٹھیلے میں جانے کے عمومی رجحان ، سوشلستان کے بے جا استعمال ، ضعف عقیدہ ، مغربی تہذیب کی اندھی تقلید ، نکاح میں بے جا تاخیر ، جہیز کے ڈیمانڈ ، فرد کی بے محابا آزادی، حیاء سوز وحیاء باختہ کلچر کی تابعداری کے باعث مادر وطن میں مسلمان لڑکی کا کافر آشنا کے ساتھ چلی جانے اور شادی منعقد کر لینے کے واقعات روز افزوں ہیں ، ہر آئے دن مسلم لڑکیوں کا کافروں کے چنگل میں پہنسنے کی دل دوز خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں ، یہ روح فرسا واقعہ گوکہ روز افزوں ہے اور تعداد ہزاروں میں ہے ، لیکن اسے بڑھا کر چڑھا کر پیش کرنا اور لاکھوں سے متجاوز کردینا بھی سنسنی خیزی ، سراسیمگی اور ہیجان انگیزی کی کوشش معلوم ہوتی ہے ، پھر بے راہ روی اور کافر آشنا کے ساتھ شادی رچا لینے کو علی العموم ردت کا عنوان دینا بھی درست نہیں ہے ہر واقعے کو ازروئے شرع ردت کہنا صحیح نہیں ہے ، دام عشق ومحبت میں پھنس کر یا حرص وطمع ، غربت وافلاس یا جہیز کے مطالبہ سے تنگ آکر ایسا کرلینا جبکہ دل سے اسے حلال نہ سمجھا جائے ، بے عملی اور گناہ کبیرہ تو ہے ؛ لیکن اسے ردت نہیں کہا جاسکتا ۔ان دنوں مادر وطن میں امت مسلمہ جن بڑے بڑے مسائل سے دوچار ہے ان میں سے ایک بڑا اور سنگین مسئلہ غیرمسلموں سے مسلم لڑکے اور لڑکی کا شادی کرنا بھی ہے۔ ہندوستانی مسلمان اس سنگین مسئلہ سے شدید متاثر ہیں۔ہندوستان میں بڑھتی مذہبی منافرت اب ایک نازک موڑ پر آپہنچی ہے ۔یہ بات بہت حیران کن اور فکر انگیز ہے کہ ہندوتوا ایجنڈے کے ایک سازش کے تحت محبت کا جھانسہ دیکر مسلم لڑکیوں کو غیروں نے اپنے چنگل میں پھسانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ گھر واپسی کے نام پر مسلمان لڑکیوں کو ہندو بنانے کی مکمل سازش چل رہی ہے۔ اور روز بہ روز ہزاروں دختران ملت اس سازش کا شکار ہوتی نظر آرہی ہیں، جن کی زندگیاں تباہ و برباد ہورہی ہیں۔اہل ایمان کے یہاں سب سے قیمتی سرمایہ اور گنج گراں مایہ دین وایمان اور عمل صالح ہے ۔والدین کا اپنی اولاد کو سب سے بہترین عطیہ اچھی تعلیم وتربیت ہے ۔آج مسلمانوں میں بے دینی پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ والدین اپنی اولاد کی چند روزہ دنیوی راحت وآسائش کی فکر ، تگ ودو اور انتظامات میں منہمک تو رہتے ہیں ؛ لیکن دین وایمان جیسی دولت لازوال کی طرف خاطر خواہ انتظام والتفات نہیں ہوپاتا ہے جس کے باعث بچوں کی اٹھان اور نشو ونما اسلامی خطوط پر نہیں ہوپاتی ہے اور آگے چل کر پھر یہی بچے غلط نظریات وعقائد کا آسان شکار بن جاتے ہیں ۔اس لئے سب سے پہلی ذمہ داری والدین کی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو فرائض شرعیہ اور حلال وحرام کے احکام کی تعلیم دیں اور اس پر عمل کرانے کی کوشش کریں ۔سورۃ التحریم آیت 6 کے ذیل میں اہل وعیال کی صحیح اسلامی رہنمائی کے ذریعے جہنم کی آگ سے بچنے کا وجوبی حکم ہوا ہے ؛ لہذا اپنے بچوں کی دینی اور روحانی حالت کو بنانے ، سنوارنے ، سدھارنے اور ان کی دینی واسلامی شناخت باقی رکھنے کی فکر کرنا والدین کی اولیں ذمہ داری ہے ، بعض آثار سے پتہ چلتا ہے کہ قیامت کے روز والد سے اولاد کے متعلق سوال ہوگا کہ تم نے بچے کو کیا سکھایا پڑھایا ؟ ( أدب ابنك، فإنك مسئول عن ولدك، ماذا أدبته؟ وماذا علمته؟ (سنن البيهقي 5098)علاوہ ازیں آج کے اس پر فتن دور میں برائیوں کو روکنا تنہا کسی ادارے ، تنظیم یا جماعت کی ذمہ داری نہیں ؛ بلکہ یہ انفرادی طور پر ہم سب کا مشترکہ فریضہ ہے ۔پوری سنجیدگی کے ساتھ مسلم تعلیمی اداروں ، سماجی اور مذہبی تنظیموں ، علماء و مشائخ ، مذہبی و سیاسی قائدین اور دینی تحریکوں اور جماعتوں کو اس مسئلہ پر غور کرنے ، مہم چلانے اور فکر و شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

والسلام

شکیل منصور القاسمی

مركز البحوث الاسلامية العالمي

(ہفتہ 8 ؍شوال المکرم 1444ھ، 29؍اپریل 2023ء)

Scroll to Top