مدارس اسلامیہ میں اس وقت تنخواہ کاجو فرسودہ وبے کار نظام ہے وہ کافی حد تک المناک بلکہ ظالمانہ ہے ، درسگاہوں سے ہوکے بیت الخلائوں تک کی عمارتوں کی تزیین میں لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے جھونک دیئے جاتے ہیں ،جبکہ رات ودن طلبہ پہ محنت کرکے اپنی زندگیاں کھپانےوالے اساتذہ وہی پانچ یا آٹھ ہزار روپے ماہانہ کے زیر قہر پس رہے ہوتے ہیں، مدارس کے سارے نظام میں جدت آگئی ، جھونپڑی فلک نما عمارتوں میں تبدیلی ہوگئی ، آرام وآسائش کی ساری ماڈرن چیزیں دستیاب ہیں ، مگر قلت تنخواہ کا فرسودہ نظام جوں کا توں باقی ہے ، اس بے رحم نظام کا اثر ہے کہ اچھے ، قابل ، باصلاحیت اور محنتی اساتذہ مدارس کا رخ نہیں کرتے ، معاشی مجبوریوں اور مدارس کی تنخواہ والے نظام سے مجبور ہوکے جید فضلاء اپنی راہیں بدل رہے ہیں ،اور یوں قابل ترین فضلاء مدارس ، امت اور مدارس اسلامیہ کا قیمتی ترین سرمایہ ضائع ہورہا ہے ،
اقلّ ترین تنخواہ کی مقدار اگرچہ شرعاً منصوص ومحدَّد نہیں ، لیکن “تنخواہ “ : بنیادی ضرورت کی تکمیل کے ساتھ مشروط ضرور ہے۔
آج مدارس کے اساتذہ کرام مدارس میں رہتے ہوئے خود کو “قیدِ زنداں” میں محسوس کررہے ہیں ، بچوں کی تعلیم ، اہل خانہ کے علاج معالجہ اور ناگہانی حوادث کے وقت دوسروں سے قرض لیتے پہریں تو اس سے ان کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں جو منشاء نبوی کے خلاف ہے ۔
اساتذہ مدارس کو مُرَفّہ الحال کردینے کی وکات کوئی نہیں کرتا ! لیکن کم از کم ان کی بنیادی ضروریات کی کفایت کے بقدر اجرت تو ضرور متعین کریں، اجرت اور مزدوری کرنے کی غرض بھی یہی ہے ۔تنخواہوں کے قدامت پسندانہ ، فرسودہ و ظالمانہ نظام تنخواہ میں مناسب حال تعدیل اور جدت لائے جانے کی ضرورت ہے ۔ اچھی کارکردگی دکھانے والے کارکنان واساتذہ کرام کے لئے “عطاء” یعنی بخشش اور اکرامیہ کا نظام متعارف کرایا جائے، متلعہ ذمہ داریوں سے زیادہ کام لینے پر اضافی رقم دی جائے ، تاکہ ان کا حوصلہ بڑھے،اور وہ مزید محنت ، لگن، خلوص اور جانفشانی سے طلبہ پہ محنت کرسکیں ، ذمہ داران کو بس نظام بنانے کی دیر ہے ،دینے والوں کی کمی نہیں ! جو قوم عمارتوں کی مدات میں کروڑوں دے سکتی ہے وہ اساتذہ کی مشاہرات کی مد میں بھی دے گی اور خوب دے گی ، ان شاء اللہ ۔
شکیل منصور القاسمی