عقل وخرد سے پیدل بعض سیاسی نابالغوں کو پتہ ہی نہیں کہ سیاسی اور جمہوری معاملات میں مسائل کی نوعیت خواہ کتنی ہی سنگین کیوں نہ ہو ! اور فریق مخالف سے کتنے بھی سخت تحفظات موجود کیوں نہ ہوں؛ پرَ ایک جمہوری ملک میں مفاہمت کا راستہ کبھی مسدود نہیں کیا جاسکتا ۔
ملک کے سیاسی اضطرابات کے دیر پا حل کا راستہ “مفاہمت “ اوربات چیت ہی ہے۔بُرے سے بُرے وقت میں ہمارے پیش روء ملی ومذہبی قائدین کی قومی سیاست کی ترجیحات کا شروع سے یہی حصہ بھی رہا ہے ۔
“قائد” اور “ میر کارواں “ منزل آشنا ہوتا ہے ،اس کی نگاہ دشمنوں اور رہزنوں کی کمین گاہوں پر رہتی ہے ،سیاسی گھاٹیوں اور دشوار گزا راہوں کے نشیب وفراز اور پیچ وخم سے آگاہ رہتا ہے ،وہ ہوشیار، با حوصلہ وبا کردار ،مدبر و معاملہ فہم ہوتا ہے۔وہ لوگوں کے شور وغل اور چیخ وپکار سے بے نیاز ہوکر نئے تقاضے ، تجربے، اور چیلنجس کی روشنی میں قومی مسائل کی گتھیاں سلجھانے میں اپنے کام میں جٹا رہتا ہے ۔
مزاحمت اور ٹکرائو کی سیاست مسائل اور بحرانوں کا حل کبھی پیش نہیں کرسکی ہے ۔
آج جبکہ پورے ملک میں متنازع شہریتی قانون کے باعث عجیب قسم کا ارتعاش بپا ہے،
لوگ دیوانہ وار سڑکوں پہ اتر آئے ہیں ، ہر محب وطن ملک کے سیکولر دستور کے تحفظ کے لیے سراپااحتجاج ہے، جویقیناً بڑی خوش آئند اور امید افزا بات ہے –
پرُ امن احتجاج ہر شہری کا دستوری و آئینی حق ہے اور اپنے مطالبات منوانے کا مؤثر ذریعہ بھی ، جہاں یہ کوشش بلا تعطل جاری رکھنے کی ضرورت ہے وہیں
بر سر اقتدار پارٹی کے حلیفوں سے سیاسی ڈائیلاگ اور بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا بھی ہماری سیاست کا حصہ ہونا چاہئے ۔
مقاطعہ اور اچھوت والے طرز عمل اور فیصلے سے “فاصلے “ بڑھیں گے ، سیاست امکانات کا نام ہے ، یہاں کسی سے دائمی دوستی یا دشمنی نہیں ہوتی ۔
نتیش کمار چاہے جتنا ابن الوقت اور دھوکہ باز ہو ،
بہار میں اس کی حکومت ہے ، وہ جیسا بھی ہے وزیر اعلی اور صوبے کا ایگزیکٹیو ہے ، ریاست بہار میں پرُ امن مظاہرین کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے ، گرفتار مظاہرین کی رہائی اور مرکزی حکومت کو اس کے ایک حلیف کے ذریعہ انڈر پریشر اور اعصابی تنائو کا شکار کرنے جیسے مقاصد کے لئے اس سے ملاقات کرنا اتنا سنگین جرم کیسے اور کیوں ہوگیا ؟
جس برادری میں اتنی سیاسی بردباری اور دور اندیشی بھی نہ ہو وہ سیاسی اکھاڑے میں چاروں شانے چت نہ ہوگی تو کیا ہوگی ؟
سیاسی ملاقات کسی کی حمایت و طرفداری کی ضامن کیسے بن گئی ؟یا اسے کسی ڈیل ، ملت فروشی یا احتجاجی اجتماعی جدوجہد کو سبوتاز کرنے کی بیک ڈور سازش کیوں سمجھ لی گئی ؟
محض ملاقات کی وجہ سے امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی مدظلہ کے خلاف طوفان بدتمیزی کھڑا کر دینے اور زبان وقلم کو آلودہ دشنام کرتے ہوئے تنقیص آمیز ریمارکس یا سخت وسنگلاخ الفاظ کے استعمال کرنے سے کیا قومی مسائل حل ہوجائیں گے ؟
بیمار زبان کے ہذیان وطعن وطنز سے سلگتے مسائل اگر حل ہوجائیں تو پہر شوق سے اکابر کی پگڑیاں اچھالئے ۔
اگر نہیں ،اور ہر گز نہیں ، تو خدا را اس زبانی آوراگی سے باز آجائیے!
قائد معصوم ہوتا نہ وہ کوئی مافوق البشر ہستی ! غلطیاں وہ بھی کرسکتا ہے ، اور اپنی غلطیوں سے سیکھ بھی سکتا ہے ۔ قائد کے سلوک وعمل سے مہذب زبان ومؤدب اسلوب وپیرایہ میں اختلاف آپ بالکل کرسکتے ہیں ؛ لیکن اس طرح کہ وقار وتمکنت اور سنجیدگی ومتانت آگے بڑھ کر بلائیں لینے لگیں ۔
خلّاقِ عالم نے اس کائنات میں ہر کام کے لئے ہر آدمی پیدا کیا ہے ، قوم وملت کے تمام کام اور ضرورتیں ایک ہی شخص وشیخ کے ساتھ وابستہ کسی نے نہیں کیا ہے ۔ اور اس خود فریبی کا مدعی ہمارا کوئی قائد ہے بھی نہیں !!
ہر ایک کی صلاحیت ، ذاتی رجحان ،طبعی دلچسپی ، ذوق وشوق باہم مختلف ہے ۔
تنظیم وتحریک کا ہر فرد اپنے اپنے دائرہ میں ، اپنی صلاحیت ، دلچسپی اور معنوی قوت کے ساتھ پبلسٹی ، تشہیر ، خود ستائی ، داد وصلہ کی تمنا وطلب کے بغیر مفید وموثر کام انجام دے اور باہمی احترام کے ساتھ اوروں ، خصوصا بڑوں کے لئے خیر سگالی کے جذبات بھی رکھے تو کم وقت میں بڑے کام انجام پاسکتے ہیں ۔
ہر کوئی سجادہ نشیں ہوسکتا ، نہ ہر سجادہ نشیں بہترین مدبر ومنتظم ! جہاں بانی کی لیاقت ہر کسی میں ممکن ہے نہ سرفروشی کی تاریخ ہر کوئی رقم کرسکتا !( ویسے اللہ کے لئے یہ مشکل نہیں )
دوسروں کی کمزوریوں کی ٹوہ میں لگے رہنے اور اسے اجاگر کرنے سے بہتر ہے ہر کوئی اپنی صلاحیت وصالحیت کو قوم وملت کے وسیع تر مفاد میں صرف کرتارہے ۔
*شکیل منصور القاسمی *
۲۰ دسمبر ۲۰۱۹
روز جمعہ