توہین آمیز خاکوں اور تحریروں کا اشتراک واشاعت ؟

اسلام دشمن عناصر کے گھنائونے سازش کے تسلسل کا حصہ ہے کہ ذات باری، رسالت محمدیہ اور قرآن کریم کی توہین پہ مشتمل مختلف قسم کے خاکے اور مغلظات شائع کرکے مسلمانوں کے مابین منتشر کردیتے ہیں
جہاں ان کا مقصد اللہ اور اس کے رسول کی شان میں گستاخی کرنا ہوتا ہے
وہیں لاشعوری طور پر وہ نقل در نقل کرواکے اس جرم کی اشاعت میں مسلمانوں کو بھی شریک کرنا چاہتے ہیں، ایسے توہین آمیز اور گستاخانہ حرکتوں کی تشہیر سے حتی الامکان گریز کرنا چاہئے، ہاں! جہاں سادہ لوح عوام کو اس کی خطرناکیوں سے واقف کروانے کے لیے ویڈیوز یا تصاویر کا اشتراک ناگزیر ہو وہاں بقدر ضرورت اس کے اشتراک کی گنجائش ہے
آج کل بڑے شاطرانہ انداز میں استعمالی چیزوں اور جوتے چپلوں میں کلمہ طیبہ آیات قرآنی یا اسمائے الہیہ پیوست کردیتے ہیں یا سماجی رابطے کی سائیٹس پہ گستا خانہ کومنٹ اپلوڈ کردیتے ہیں ،جو کفر بلکہ شدید قسم کا کفر ہے، ان اوچھے ہتھکنڈوں اور گھنائونی سازشوں سے اعدائے اسلام کا مقصد خدا اور رسول کو ایذاء پہنچانا ہوتا ہے :
إِنَّ ٱلَّذِینَ یُؤۡذُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ فِی ٱلدُّنۡیَا وَٱلۡـَٔاخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابࣰا مُّهِینࣰا (الأحزاب ٥٧)
جس ویڈیو میں جوتا کے نچلے حصے میں لفظ جلالہ (اللہ) صاف طور پہ لکھا ہوا نظر آئے ، یا ٹوئیٹر وغیرہ کے جس اکائونٹ پہ شان رسالت میں گستاخی کی گئی ہے وہ ملحدانہ ومشرکانہ حرکت اور شان باری تعالی وشان رسالت میں شدید وصریح توہین وکفر ہے، ایسے جوتوں کی خرید وفروخت یا استعمال بھی تعاون علی الکفر اور ناجائز وحرام ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بیہودہ اور گستاخانہ کلمات کہنے اور اسے پھیلانے اور مشترک کرنے والے دونوں گناہ میں برابر ہیں:
عن عليّ رضي الله عنه قال: “القائل الفاحشة ، والذي يشيع بها : في الإثم سواء”.
رواه البخاري في ” الأدب المفرد ” (324)
وعن شبيل بن عوفٍ قال : كان يقال: “مَن سمع بفاحشة فأفشاها : فهو فيها كالذي أبداها”.
رواه البخاري في الأدب المفرد (325)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
إذا وصف اﷲ بما لا یلیق بہ أو سخر باسم من أسماء اﷲ تعالیٰ … یکفر۔ (الفتاوی التاتارخانیۃ، کتاب أحکام المرتدین، الفصل الثاني، فیما یقال في ذات اﷲ سبحانہ وتعالیٰ وصفاتہ، مکتبہ زکریا دیوبند ۷/۲۸۵، رقم:۱۰۴۹۷)
مجمع الأنہر، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، مکتبہ زکریا دیوبند۵/۲۰۲، کوئٹہ ۵/۱۲۰)
کلمات طیبہ یا اسمائے الہیہ کی توہین پر مشتمل ہر قسم کی مصنوعات، ماکولات، مشروبات مصنوعات کا سماجی بائیکاٹ کرنا تقاضائے ایمانی ہے، ایسی مصنوعات کی خرید وفروخت بھی شرعا حرام اور باعث لعنت ہے
*ان گھٹیا حرکتوں کی نشان دہی جہاں تک زبانی طور پر ممکن ہو اسی سے کام چلانا چاہئے،
بلاضرورت شدیدہ ایسے ویڈیوز کے اشتراکات سے بھی گریز کرنی چاہئے *
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی

Scroll to Top