قرآن کریم کی آیات اور احادیث نبویہ سے ثابت دعائیں (ادعیہ ماثورہ )دنیا وآخرت کی تمام بھلائیوں کو مستجمع ہیں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیاوی مشکلات و پریشانیوں کے وقت جب انہی کلمات و الفاظ سے رب کے حضور دعائیں مانگی ،مناجات کی ، تذلل و عاجزی کا اظہار فرمایا
تو اللہ نے آپ کی دعائیں
قبول فرمائیں
دنیاوی مشکلات کے وقت انسان کا دل رب کی طرف طبعا متوجہ ہوتا ہے
ایسی مشکل گھڑی میں زبان رسالت مآب سے جو دعائیہ کلمات ادا ہوئے ان میں نورانیت و آثار قبولیت غیر ماثور دعائوں کی بنسبت ہزاروں گنا زیادہ ہیں
بعض دعاء ماثورہ تو اس قدر جامع ہے کہ دنیا وآخرت کی ہر پریشانی کا اس میں حل موجود ہے
جبکہ ذخیرہ احادیث میں جزوی طور پر ہر ہر پریشانی کی الگ الگ دعاء بھی وارد ہوئی ہے ۔
انسان کو زید عمر بکر کے شخصی مجربات کی طرف تاک جھانک کی بجائے نبوی دعائوں کے پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہئے
یہ بہت غلط رسم چل نکلا ہے جو بڑی محرومی کی بات بھی ہے کہ دعاء واذکار ماثورہ کو چھوڑ کے لوگ ادھر ادھر کی تراکیب و نقوش کے پیچھے پڑے رہتے ہیں
ایسے رجحان و ذہنیت کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے
ویسے مختلف احادیث میں
قضائے حاجات وحلّ مشکلات کے لئے جو مختلف چھوٹی چھو ٹی دعائیں پڑھنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سندوں سے ثابت ہے ، جس میں نہ وقت لگتا ہے نہ کوئی کلفت ہے ،اس سے بہتر وجامع دعا اور نہیں ، نہ ہی معمول مشائخ کبھی ان کا متبادل ہوسکتا ، اس لئے ہر حال میں دعاء ماثورہ پڑھنے کا ہی اہتمام ہونا چاہئے۔
واللہ اعلم
*شکیل منصور القاسمی