درس نظامی میں رد وبدل کرکے اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی بات آج کی نہیں ، قریب “دو سو “ سالوں سے زیر گردش ہے
یہ آواز اس حلقہ کی طرف سے نسبۃً زیادہ آتی رہی ہے جو دین اسلام کو بھی عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے “جدید اسلام “ کی وکالت کرتے رہے ہیں
ہر چند کہ درس نظامی کے مؤیدین نے بھی اس میں مناسب جزوی اصلاحات کرکے تمامیت کے ساتھ اسے اس اصلی شکل میں باقی نہ رکھا جسے لکھنوء کے فرنگی محل کے مدرسہ کے لئے ترتیب دیا گیا تھا
اب اس کے بعد عصری تقاضوں کی آڑ میں اس نصاب کو جر سے ہی کاٹ پہینکنے کی تجویز بعض حلقوں کی طرف سے زیر غور آرہی ہے ۔
درس نظامی علوم عالیہ میں درک و مہارت کے حصول کا ایک ذریعۂ محض ہے ، مقصود ہر گز نہیں ہے
اس تقدیر کا ہی اثر ہے کہ اس نصاب میں کافی حد تک کاٹ چھانٹ ہوچکی ہے اور آئندہ بھی حسب تقاضہ یہ عمل جاری رہے گا
اس نصاب کے طلبہ مدارس میں اب جو کچھ نکما پن نظر آرہا ہے وہ ناقص طرقِ تدریس وآموزش، طریقہ امتحان ، بدانتظامی اور تعلیمی و تدریسی عمل سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔
طرق تدریس میں تبدیلی ونظر ثانی و اصلاحات کے بغیر دنیا کی جدید اور ماڈرن اسلامی یونیورسٹیوں کا نصاب بھی لاگو کردیں تو وہ بھی خاطر خواہ نتیجہ دے سکتا اور نہ ہی عصری تقاضوں و ضرورتوں کی تکمیل کرسکے گا ! میرا خیال ہے کہ درس نظامی کی تدفین کا سوچنا دیانتدارانہ ، حقیت پسندانہ اور منصفانہ سوچ نہیں !
اسلوب تدریس میں در آئی خامیوں کی اصلاحات اور جدید ومفید وسائل تدریس سے استفادہ واقعی ضرورت ہے جسے درس نظامی میں بصد شوق شامل کیا جانا چاہئے۔فقط
شکیل منصور القاسمی