زمانہ عجب تماشاؤں سے پُر ہوگیا ہے، وہ دور کہاں گیا جب علمی رسوخ کو طرۂ امتیاز سمجھا جاتا تھا؟ مطالعہ کو زندگی کا سرمایہ اور غور و فکر کو حیاتِ عقل کا حسن قرار دیا جاتا تھا؟ آج تو کتاب کی خوشبو، ورق گردانی کی سرمستی اور مطالعہ کی روحانی لذت، سب کچھ ماضی کے دریچوں میں گم ہو کر رہ گئے ہیں، ذوقِ مطالعہ جو کبھی روح کو بالیدگی اور فکر کو رفعت بخشتا تھا، آج محض داستانِ پارینہ بن چکا ہے۔
بڑوں کا احترام، اسلاف کی تعظیم اور اہلِ علم کے سامنے ادب و انکسار کی نگاہیں جھکانا کبھی تہذیب و شرافت کی پہچان تھا۔کبھی اساتذہ و معلمین کے گھروں کے سمت پاؤں پھیلانا بھی بے ادبی تصور کیا جاتا تھا، مگر آج یہ اوصاف عنقا ہو گئے، اب تو اساتذہ کے مد مقابل آنا کمال فکر وفن سمجھا جارہا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :
لَيْسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَمْ يُجِلَّ كَبِيرَنَا، وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيَعْرِفْ لِعَالِمِنَا حَقَّهُ(مسند احمد 23197، 23198—وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے بڑوں کا احترام نہ کرے، چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے)۔
افسوس! آج سوشل میڈیا کے سیلاب وبہائو نے یہی تعلیم فراموش کرادی ہے۔ ہر نوآموز خود کو علامہ باور کرتا ہے اور بڑوں سے الجھنا گویا کمالِ دانش بن گیا ہے۔ چند سطور گھسیٹ لینے کو علم سمجھا جانے لگا ہے؛ حالانکہ امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے:
“العلم نورٌ يجعله الله في القلب، وليس بكثرة الرواية”
(ابن أبي حاتم 17981–علم وہ نور ہے جو اللہ دل میں رکھ دیتا ہے، یہ محض روایتوں کی کثرت کا نام نہیں)۔
غور و تدبر، تحریر و انشاء اور فکری استقلال کی جو رہی سہی رمق باقی تھی، مصنوعی ذہانت اور سہولت پسندی نے اس پر بھی پردہ ڈال دیا ہے۔ اب ذاتی کمالات کے بجائے نقل و تلخیص کا بازار گرم ہے۔ بجائے اس کے کہ کوئی اپنے چراغِ فکر کو روشن کرے، دوسروں کی پگڑیاں اچھالنا اور اہلِ علم کی تنقیص کرنا ہی گویا علم و فن کا معیار بن گیا ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے اس طرزِ عمل پر تنبیہ فرمائی ہے :
“من طلب العلم ليباهي به العلماء أو ليماري به السفهاء أو ليصرف وجوه الناس إليه أدخله الله النار”(سنن ابن ماجہ 253— جو شخص علم اس لیے حاصل کرے کہ علما پر فخر کرے، جاہلوں سے بحث کرے یا لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرے، اللہ اسے جہنم میں داخل کرے گا)۔
یوٹیوب چینلز کی ارزانی وفراوانی اور ان کے ذریعے کمائی کی دوڑ نے اچھے اچھوں کو اپنے تدریسی انہماک سے ہٹا کر ویڈیوز کے جنگل میں لا کھڑا کیا ہے۔ ویوز کی کثرت کا جنون سچائی اور صداقت اور ذرائع ابلاغ کے اسلامی اقدار ومنشور کو پسِ پشت ڈال چکا ہے۔ نہ کسی کے محاسن و کمالات کے اعتراف کا حوصلہ رہا اور نہ ہی بزرگوں کے سامنے ادب و انکسار کا شعور باقی رہا۔
حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:
“من تهاون بالعلماء ذهبت آخرته، ومن تهاون بالأمراء ذهبت دنياه، ومن تهاون بالإخوان ذهبت مروءته”
(سیر أعلام النبلاء 8/408– جو علما کی بے قدری کرے اس کی آخرت برباد، جو حکمرانوں کی بے ادبی کرے اس کی دنیا تباہ، اور جو بھائیوں کی تحقیر کرے اس کی مروّت ختم ہوجاتی ہے۔
آج وہ دور ہے جہاں شہرت کی ہوس نے اسلامی اقدار اور تہذیبی روایات کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں۔ اب کم فہمی کو رائے، بدزبانی کو جرأت اور تنقیص وتحقیر کو بصیرت سمجھا جانے لگا ہے۔ اگر اہلِ فکر و دانش بیدار نہ ہوئے تو اندیشہ ہے کہ آنے والی نسلیں روشنی کے “سراب “ کو ہی علم کی حقیقت جان بیٹھیں گی۔
علم ایک بحرِ بے کنار ہے، جس میں غوطہ زنی کے لیے یکسوئی کی کشتی اور استقامت کا بادبان ناگزیر ہے۔ اگر دل کی توجہ منتشر ہو اور فکر کی سوئیاں ادھر اُدھر بھٹکیں، تو نہ علم کا نور دل میں اترتا ہے اور نہ ذہن کی زمین پر اس کے پھول کھلتے ہیں۔
بحر علم کے شناور بہت پہلے کہہ چکے ہیں:
“لَا يُعْطِيكَ الْعِلْمُ بَعْضَهُ حَتَّى تُعْطِيَهُ كُلَّكَ”
یعنی علم اپنا کوئی ذرّہ بھی نہیں بخشتا جب تک کہ طالب اپنی کل متاع اس پر قربان نہ کردے۔
ہمارے اسلاف کی زندگیاں اس حقیقت کی زندہ تفسیر ہیں۔
امام مسلمؒ ایک حدیث کی تلاش میں اتنے محو ہوئے کہ کھجوروں کا ٹوکرا کھا گئے اور احساس تک نہ ہوا۔
علامہ عبد الحی فرنگی محلؒی مطالعہ میں ایسے منہمک ہوئے کہ چراغ کا تیل پی گئے اور خبر تک نہ ہوئی۔
شاہ عبد القادر رائے پوریؒ نے ایامِ تعلیم میں گھر کے خطوط گھڑے میں ڈال دیے، عشقِ مطالعہ نے انہیں خط خوانی کا بھی وقت نہ دیا۔
مفتی محمد شفیعؒ صاحب دیوبندی اگرچہ دیوبند کے رہائشی تھے، مگر شہر کی گلیوں سے ناواقف؛ ان کی کائنات بس “احاطۂ مولسری” اور “آستانۂ شیخ الہند” تھی۔
یہ وہ یکسوئی تھی جس نے انہیں بلند قامت محقق، جلیل القدر محدث، جلیل الشان مفسر اور امت کے رہنما بنا دیا۔
مگر صد افسوس! کہ آج کا طالبِ علم اسی یکسوئی سے محروم ہے۔
جہاں کل کے طلبہ کتابوں کی شمع کے گرد پروانہ وار جلتے تھے، آج کے طلبہ اسکرین کے پردوں میں پگھل رہے ہیں، اور سوشلستان کی اسیری پر خود نازاں و فرحاں ہیں۔
جہاں کبھی امتیازی نمبرات اور علمی کمال کا شوق دلوں کو تڑپاتا تھا، وہاں آج “فیس بک کی شہرت” اور “ٹوئیٹر کے ٹرینڈ” نے دلوں کو قید کر لیا ہے۔
درسی پختگی اور مطالعہ کی گہرائی کے بجائے، تبصرے اور چٹخارے والی تحریریں زبان و قلم کا سرمایہ بن گئی ہیں۔
یہ طرزِ عمل معمولی خطرہ نہیں، بلکہ طلبۂ دین کے مستقبل پر ایک تیشہ ہے۔
اہلِ مدارس پر فرض ہے کہ اس فتنہ کو محض “نوجوانی کا شوق” سمجھ کر نظر انداز نہ کریں، بلکہ اس کے سد باب کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس حکمتِ عملی مرتب کریں۔
یہاں میں اپنے طلبہ عزیز سے بھی یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ میرے پیارے بھائیو! ایک لمحہ کے لیے ذرا سوچو!
تمہارے اسلاف نے اپنی آنکھوں کی نیند، اپنی خواہشوں کا قرار اور اپنی زندگی کی راحت علم پر قربان کی تھی۔
اگر تم نے اپنی توانائیاں “سوشلستان” کی رنگینیوں میں ضائع کردیں تو یاد رکھو!
نہ “اعلاء السنن” جیسے ذخیرے وجود میں آئیں گے، نہ “بذل المجہود” اوجز ، الأبواب والتراجم جیسے علمی شاہکار سامنے آئیں گے۔
اپنی راہ پہچانو، اپنی قیمت جانو، اور اپنے اسلاف کے وارث بنو۔ علم کے چراغ کو اپنی یکسوئی کے تیل سے روشن کرو اور سوشل میڈیا کے طوفانوں سے اپنی کشتی بچا کر منزل کی طرف بڑھو۔
سوشیل میڈیا کے چراغ نے جہاں بیشک دنیا کو اجالوں سے روشناس کیا ہے، وہیں اس کے دھوئوں نے نسلِ نو کے دل و دماغ پر اندھیرا بھی پھیلا دیا ہے۔ اس میں “حد درجہ انہماک و اشتغال” ایک ایسا جادو ہے جس کی لپیٹ میں آ کر نوجوان اپنی روحانی و ذہنی تندرستی وسکون، علمی و عملی صلاحیت، اور معاشرتی رشتوں تک کو داؤ پر لگا بیٹھتے ہیں۔
سب سے بڑا زہر یہ ہے کہ یہ دل و دماغ کو بے سکونی، اضطراب اور حسرتوں کے بوجھ تلے کچل دیتا ہے۔ دوسروں کی “رنگین زندگی” دیکھ کر اپنی “سادہ زیست” اجڑی اجڑی محسوس ہونے لگتی ہے، اور یوں “قناعت کا چراغ” بجھنے لگتا ہے۔ ہوس کا سحر اعصاب کو بری طرح جکڑ لیتا ہے، پھر علم، دین، شرعی اقدار و اخلاق کی ناقدری اور احساسِ کمتری کا زہر ذہن و فکر میں سرایت کر جاتا ہے۔
سوشل میڈیا وہ منبر بھی ہے جہاں جھوٹ کو سچ کی خلعت پہنا دی جاتی ہے، اور افواہوں کو حقائق کے جامے میں سجاکر پیش کیا جاتا ہے۔ ذہنوں میں شکوک و شبہات اور تصوراتِ باطلہ کے بیج بڑی آسانی سے بوئے جاتے ہیں۔
نوجوانوں کی دنیا پر اس کے اثرات اور بھی ہولناک ہیں۔ سطحی معلومات پر اکتفا کر کے تحقیق اور فکر کی قوتیں پژمردہ کردی جاتی ہیں، پھر وہ کتاب و اوراق کی گہرائی چھوڑ کر گوگل کے خشک چشمے پر جھک جاتے ہیں، جہاں علم و تحقیق نہیں، صرف چند سطحی چھینٹے ملتے ہیں۔
یہی نہیں، یہ ( سوشلستان ) عہدِ جدید کا چور دروازہ بھی ہے جو نجی زندگی کی چادر کو نوچ کر بے پردگی کا سامان فراہم کرتا ہے۔ انسان اپنے ہی گھر میں اجنبی بن کر رہ جاتا ہے۔ اور آخرکار، جسے ہم “رابطہ” سمجھتے ہیں، وہی “اجنبیت” اور “عزلت” میں ڈھل جاتا ہے۔ مجازی اور ہوائی وخلائی صداقتوں و ملاقاتوں (فرینڈ شپ) کی کثرت، حقیقی قرابتوں اور ہم نشینوں کو کمزور کر دیتی ہے۔
اس بازارِ حسن میں آج کل وہ نادانِ معصوم دل بھی ارزاں و فراواں مل رہے ہیں جو سوشلستانی دھوکے بازوں کے جال میں پھنس کر اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
سوشلستان سے استفادہ کی سہولت اگر شعور کے ساتھ برتی جائے تو “رحمت “ہے، اور اگر حمق وغفلت کے ساتھ برتی جائے تو “قہر “ بن جاتی ہے:
جہاں کا ہر چراغ دھوئیں میں جلنے لگا ہے
حقیقتوں کا نور فریبوں میں ڈھلنے لگا ہے
سطحیت کے سیلاب نے ڈبو دی ہیں صداقتیں
اب سچ بھی مجاز کے پردوں میں چھپنے لگا ہے۔
لہٰذا ضرورت کو ضرورت کے دائرے میں رکھ کر ( الضرورة تقدر بقدرها) اس سے استفادے کی راہ نکالیے، شب وروز اس میں مستغرق نہ رہیے ، اس کی سراب نما “جھلکیوں “ سے فریب کھا کر اپنی حقیقت اور اپنے اقدار و اخلاق سے بیزار ہو کر حرص و ہوس کا شکار نہ ہوئیے!وما توفيقي إلا بالله، عليه توكلت وإليه أنيب.
شکیل منصور القاسمی