دین اسلام سب کا ہے اور سب کے لئے ہے، اسلامی تعلیمات ، انسانی زندگی کے تمام شعبوں کو بلا کسی استثناء کے حاوی اور محیط ہیں ، اسلام کو کسی خاص زمانہ، وقت، خطہ، علاقہ، قوم اور نسل کے ساتھ محدود نہیں کیا جاسکتا ؛ بلکہ اسلام ایک عالمگیر اور آفاقی دستورِ حیات کانام ہے، جو انسانی زندگی کے تمام شعبوں کو حاوی اور محیط ہے، جس کی گھنیری چھاؤں میں دنیاوی زندگی کے لئے بھی چین و سکون کے سامان فراہم ہیں اور آخرت میں بھی بفضلِ الٰہی فرحت بخش اور روح پرور زندگی نصیب ہوگی۔
اسلامی دستور حیات میں دو طرح کے احکام ہیں:
( ١) : مأمورات
(٢) :منہیات
انسانی زندگی کی تمام تر نقل و حرکت انھی دونوں قسموں میں منحصر ہے،اور خلّاق عالم کی طرف سے بندے کو ہدایت ہے کہ مامورات کو اپنائے اور منہیات سے خود کو دور رکھے؛ لیکن انسانی تمدن کی ارتقاء کی وجہ سے انسانی زندگی میں بسا اوقات بعض ایسے مسائل درپیش ہوجاتے ہیں، جن کے بارے میں نصوص سے بادی النظر میں یہ طے کرنا کسی قدر مشکل معلوم ہوتا ہے کہ وہ مامورات سے ہیں ؟ یا ان کا تعلق منہیات سے ہے؟ ؛ اس لئے ہر دور اور ہر عصر میں وارثین انبیاء کی ایسی جماعت کی ضرورت رہی ہے جو اس نوع کے مسائل پر نصوص کی روشنی میں غور کرکے امت کے سامنے اس کا واضح اور صحیح حکم پیش کرتی رہے۔
جمعیت علماء ہند؛ جس کی تاسیس ہی ملی مسائل کو حل کرنے کے لئے عمل میں آئی، وہ روز اول سے ہی ملت اسلامیہ ہند کی دینی، ملی، سماجی اور سیاسی سطح پر رہنمائی کے لئے کوشاں رہی ہے، چنانچہ اسی دینی و ملی ضرورت کے مطابق 1970ء میں اس کے موقرذمہ داروں نے سید الملت حضرت مولانا سید محمدمیاں صاحب دیوبندی رحمہ اللہ سابق ناظم جمعیت علماء ہند کی سرکردگی میں “ادارۃالمباحث الفقہیہ” قائم فرمایا، بحمد اللہ اب تک “ادارۃ المباحث الفقہیہ “ کے تحت سولہ کامیاب فقہی اجتماعات ہوچکے ہیں، جن میں بہت سے اہم مسائل زیر بحث آئے اور غور و فکر کے بعد روح شریعت کے مطابق ان کے تئیں اجتماعی غور وفکر کے بعد فیصلے صادر ہوئے، اللہ تبارک و تعالی اکابر جمعیت علماء ہند، اور اس کے جملہ منتظمین و قائدین کو پوری ملت اسلامیہ کی طرف سے بھرپور اجر عطا فرمائے اور مؤسسین جمعیت علماء ہند کے ارواح مبارکہ کو طمانینت و سکینت نصیب فرمائے ، کہ انھوں نے اس فعال تنظیم کے قیام کے ذریعے ملت اسلامیہ ہند پر احسان عظیم فرمایا۔
ادارۃ المباحث الفقہیہ کا قیام بلا شبہ جمعیت علماء ہند کی فعالیت اور ملت کے ساتھ ہمدردی اور ملی مسائل کے ساتھ فکرمندی کا غماز ہے، خداے کرے اکابر و اسلاف کا یہ خورشید مبین یونہی چکمتا اور دمکتا رہے! آمین
شکیل منصور القاسمی