شب جائے کہ من بودم !

نور و قمقموں سے منوّر اور روح افزا گلابوں سے معطر ، تنگ گلیوں اور کوچوں سے (عزیز گرامی مولوی مرتضی ہارونی کے ہمراہ ) ہوتا ہوا گہما گہمی اور زائرین کے شور وغوغا کے باوجود سکون وطمانینت اور عجیب روحانی ٹھہرائو کے محسوس عالَم میں “محبوب الٰہی “ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء (پیدائش: 9 اکتوبر 1238ء— وفات: 3 اپریل 1325ء)“ اور انکی پائینتی میں آرام فرما ان کے جلوت وخلوت کے ساتھی ، محرم راز ، محبوب خلیفہ ومسترشد “طوطی ہند “ کشورِ سخنوری کے ایسے شہنشاہ جسکی سلطنت کو آج تک چیلنج کیا جاسکا ، نہ بر ّ صغیر کی کوکھ نے ان کی برابری کا کوئی شاعر وسخنور پیدا کیا : حضرت امیر خسرو رح (1253–1325عیسوی) کے آستانے پر !
ان کی یہ نعتیہ مشہور وجد آفریں غزل گنگنا کر مشام جان معطر کررہا تھا :

نمی دانم چہ منزل بود، شب جائے کہ من بودم
بہ ہر سُو رقصِ بسمل بود، شب جائے کہ من بودم​
پری پیکر نگارے، سرو قدے، لالہ رخسارے
سراپا آفتِ دل بود، شب جائے کہ من بودم​
رقیباں گوش بر آواز، او در ناز، من ترساں
سخن گفتن چہ مشکل بود، شب جائے کہ من بودم
خدا خود میرِ مجلس بود اندر لا مکاں خسرو
محمد شمعِ محفل بود، شب جائے کہ من بودم

(مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سی جگہ تھی جہاں کل رات میں تھا، ہر طرف وہاں رقصِ بسمل ہو رہا تھا کہ جہاں میں کل رات کو تھا۔​
پری کے جسم جیسا ایک محبوب تھا، اس کا قد سرو کی طرح تھا اور رخسار لالے کی طرح، وہ سراپا آفتِ دل تھا کل رات کہ جہاں میں تھا۔
رقیب آواز پر کان دھرے ہوئے تھے، وہ ناز میں تھا اور میں خوف زدہ تھا۔ وہاں بات کرنا کس قدر مشکل تھا کل رات کہ جہاں میں تھا۔
اے خسرو، لا مکاں میں خدا خود میرِ مجلس تھا اور حضرت محمد اس محفل کی شمع تھے، کل رات کہ جہاں میں تھا)۔
فارسی و ہندی کے پہلے شاعر ،اردو غزل گوئی کے اولیں صورت گر اور کئی اصناف سخن وفنون لطیفہ کے موجد ومخترع : امیر خسرو کا کمال تو دیکھئے !
ذیل کی غزل کے تمام اشعار کے مصرعِ ہائے اولیٰ فارسی میں جب کہ مصرعِ ہائے ثانی ہندی میں کس خوبی وکمال کے ساتھ جمع کردیا ؟ یعنی فارسی و ہندی کے ایسے حسین امتزاج سے غزل گوئی اور کسی کے بس کی بات ہے ؟ :

زحالِ مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تابِ ہجراں ندارم اے جان نہ لے ہو کاہے لگائے چھتیاں
(اس غریب کے حال سے تغافل نہ برت، آنکھیں پھیر کر، باتیں بنا کر
اب جدائی کی تاب نہیں مری جان، مجھے اپنے سینے سے کیوں نہیں لگا لیتے)
شبانِ ہجراں دراز چوں زلف و روزِ وصلت چوں عمرِ کوتاہ
سکھی! پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
(جدائی کی راتیں زلف کی مانند دراز اور وصال کے دن عمر کی مانند مختصر
اے دوست! محبوب کو دیکھے بغیر یہ اندھیری راتیں کیوں کر کاٹوں)
یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم ببردِ تسکیں
کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں
(پلک جھپکتے میں وہ دو ساحر آنکھیں میرے دل کا سکون لے اُڑیں
اب کسے پڑی ہے کہ جا کر ہمارے محبوب کو ہمارا حالِ دل (باتیں) سنائے)
چوں شمعِ سوزاں، چوں ذرہ حیراں، ہمیشہ گریاں، بہ عشق آں ما
نہ نیند نیناں، نہ انگ چیناں، نہ آپ آویں، نہ بھیجیں پتیاں
(میں اس عشق میں جلتی ہوئی شمع کی اور ذرۂ حیراں کی طرح ہمشیہ فریاد کر رہا ہوں
نہ آنکھوں میں نیند، نہ تن کو چین کہ نہ تو وہ خود آتے ہیں اور نہ ہی کوئی پیغام بھیجتے ہیں)
بحقّ ِروزِ وصالِ دلبر کہ دادِ ما را غریب خسرو
سپیت من کے ورائے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کی کھتیاں
( وصال کے دن خسرو پر یہ رازآشکارا ہوا کہ وہ فریب خوردہ ہے
جس محبوب حقیقی کی تلاش (یعنی اللہ تبارک تعالیٰ ) میں خسرو ادھر تک پہنچا یہ تو اس کا جلوہ ہے
دانے جپتا رہوں اگر محبوب کی جگہ تک پہنچ پاؤں۔
( امیر خسرو رح )

Scroll to Top