مضان کی بجائے خود کو الوداع کہئے!

بِلاتخلُّف ہر سال آنے والے ماہ مبارک “رمضان کریم “ اور اس کے متعدد جمعہ کو زبردستی “الوداع “ کہہ دینا بجاے خود حماقت ہے جو در اصل مشرقی ممالک کی ناپسندیدہ خانہ زاد اصطلاح ہے ، شریعت اسلامیہ سے اس کا کوئی سرو کار نہیں !
رمضان کی بجائے بندے کا اپنی زندگی کو “الوداع “ کہنا زیادہ موزوں ہے ، خالق کائنات اور مولائے حقیقی ہی بہتر جانتا ہے کہ آئندہ کی بہارِ جاں افزا (رمضان المبارک ) میں مرجھا جانے والی آخری کَلی کون سی ہے ؟ کسے آئندہ سال کی بھری بَہار میں کھِلنے اور مسکرانے کا موقع ملے گا اور کسے پیوندِ خاک بن جانا ہے ؟
یہ چمن یونہی رہے گا اور ہزاروں بلبلیں
اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گی
گنتی کے جو چند ایام بچے ہوئے ہیں ان میں ہر کوئی اپنی حیات مستعار کو الوداع کہتے ہوئے رو دھوکر رب ذو الجلال کو منالے اور اپنے لئے زیادہ سے زیادہ ذخیرہ حسنات کرلے ۔
رمضان منبع الخیر وسرچشمۂ حسنات ہے یعنی پورے سال نیکیوں کی توفیق رمضان میں جمع شدہ عبادات کے بقدر ہی ممکن ہوتی ہے
جس نے جتنا ذخیرہ کیا ہوگا اسے سال کے بقیہ ایام اتنے ہی توفیق طاعات ہوگی ، جو اس میں حرماں نصیبی کا شکار ہوکر صِفر رہا وہ پورے سال خالی داماں اور نامراد ہی رہے گا ۔
مل جائے جو بھی وقت غنیمت سمجھ کے چل
کیا اعتبار سانس کا جب تک چلی چلی !
اللهم في آخر ليالي من رمضان نسألك يا الله أن تكتبنا فيها من العتقاء من النار، وأن تحرم أجسادنا منها، وإن تعفوا وتغفر لنا ولأبوينا وأساتيذنا ولجميع المسلمين .
(شکیل منصور القاسمی
جمعرات26؍رمضان المبارک 1443ھ28؍اپریل 2022ء)

Scroll to Top