اعتدال وتوازن کے پیکر: مفتی محمد رفیع عثمانی

معتدل ومتوازن افکار و نظریات کے حامل ، حدیث ، تفسیر اور فقہ کے شعبوں میں گراں قدر خدمات کے ان مٹ نقوش چھوڑنے والے ، بلند پایہ فقیہ و مفتی ، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست ، مفتی اعظم پاکستان وصدر جامعہ دارالعلوم کراچی حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی ( 1936–2022 ) بھی 86 سال کی عمر میں مسافران آخرت میں شامل ہوگئے ۔ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ ۔
افراط وتفریط ، غلو وتقصیر، انتہا پسندی ، کمی و کوتاہی کی دو انتہائوں پہ گامزن ماحول میں سیدھے سادھے معقول ، معتدل ، متوازن، اور دل پذیر پیرائے میں آپ نے اسلام کی دعوت پیش کی ، افکار واعمال میں وسطیت اور میانہ روی کے ساتھ تحمل و برداشت، عفو و درگزر ، حلم مزاجی ، رواداری، اخوت و مساوات ، اتحاد ویگانگت اور دیگر دینی اداروں ، افراد واشخاص اور قوم وملت کے تئیں ان کی خدمات کا اعتراف و احترام ، اور فرقہ واریت ومسلکی تشدد سے نفرت و گریز آپ کا وصف ممتاز تھا ، شخصیت انتہائی متواضع تھی ، چال ڈھال انتہائی شریفانہ تھی ، جس میں نہ کو ئی اینٹھ اور اکڑ تھی ، نہ ہی مریَل پن، تصوف وسلوک سے مثالی اور قابل رشک وابستگی کے باوجود ریا کارانہ زہد و انکسار کو کبھی قریب پھٹکنے دیا ، نہ ہی ہٹو بچو اور طوفان ہائو ہو کے غول میں رہنے کو کبھی پسند کیا ۔ “پر امن بقائے باہم” پہ گامزن رہ کر بڑی معقولیت ، حکمت وتدبر ، بالغ نظری اور دور اندیشی کے ساتھ لازوال ، دینی ، علمی ، فقہی ، اور اصلاحی خدمات پیش کیں ، جو لوح تاریخ پہ ثبت رہیں گی ان شاء اللہ ۔
حق جل مجدہ آپ کی مغفرت کرے اور خلد بریں کا مکیں بنائے ، آپ پوری امت مسلمہ کا قیمتی سرمایہ اور متاع گراں مایہ تھے ، بالخصوص مملکت خداداد میں اکابر دیوبند کے اخلاق واقدار کے امین اور ان کے افکار و نظریات کے سچے ترجمان تھے ، آپ کی رحلت صاعقہ اثر بلا امتیاز پوری امت مسلمہ کے لئے عظیم خسارہ ہے ۔ اللہ تعالی اس کی تلافی فرمائے ، آپ کو خلد بریں کا مکیں بنائے ، بلند رتبوں سے نوازے ، دینی ، دعوتی ، علمی ،تحقیقی ، اصلاحی اور ملی وفلاحی بے لوث ومخلصانہ خدمات کو آپ کے لئے زاد راہ اور صدقہ جاریہ بنائے ، امت مسلمہ کو آپ کا نعم البدل عطا کرے ۔
حضرت مفتی اعظم رحمہ اللہ کی رحلت کا صدمہ صرف ان کے خانوادے یا دارالعلوم کراچی کا تنہا صدمہ نہیں ؛ بلکہ تمام علماء دیوبند اور ملی تنظیموں کا اجتماعی صدمہ ہے ، وہ صرف خانوادہ عثمانی کا متاع گراں مایہ نہیں ؛ بلکہ پوری ملت اسلامیہ خصوصاً حلقہ دیوبند کا قیمتی سرمایہ تھے ، ان کی وفات حسرت آیات ہم تمام کے لئے بڑا خسارہ ہے ، ہم سب ایک دوسرے کی طرف سے تعزیت مسنونہ کے مستحق ہیں ،ان کی رحلت بالخصوص خانوادہ عثمانی کے لئے عالم اسباب میں بظاہر ناقابل بھرپائی خلاء ہے ؛ کیونکہ ان کی وفات سے اس خانوادے نے اپنا ایک بے لوث ووفاشعار علمی ترجمان اور فکری نمائندہ کھودیا ہے ، جس پہ ہم مرحوم کے خانوادہ کے ساتھ شیخ الاسلام حضرت الاستاذ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ اور مفتی زبیر اشرف عثمانی صاحب مدظلہ
کو سب سے زیادہ خصوصی تعزیت وتسلی کا مستحق سمجھتے ہیں اور انہیں بطور خاص تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہیں اور دعاء کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ان کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے ، لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے ؟
شکیل منصور القاسمی
بیگوسرائے / بہار
۱۸ نومبر ۲۰۲۲ روز جمعہ

Scroll to Top