مذہبی رواداری مادر پدر آزاد نہیں !

مذہب ،مسلک، رنگ ،نسل اور زبان وتہذیب کی تفریق کے بغیر تمام ہی انسانوں کے ساتھ محبت ،مودت ، نرمی ، مہربانی ، شرافت، اخلاق وانسانیت کے ساتھ پیش آنا ، ہر کسی کے دکھ درد میں کام آنا اسلام کی تعلیم وہدایت ہے اور اس کا امتیاز بھی۔
لیکن کفار کے ساتھ رواداری اور خیر خواہی بالکل عام اور مادر پدر آزاد بھی نہیں ہے ؛ بلکہ اس کے بھی حدود و قیود ہیں۔ان کے مذہبی ودینی امور میں اشتراک وتعاون مداہنت فی الدین اور حق پوشی پر مبنی ہونے کی وجہ سے تعلیمات اسلام کے خلاف ہے ، جسے ہمارا مذہب ناجائز وحرام کہتا ہے۔کنز العمال میں ہے:
من کثر سواد قوم فھو منھم ، ومن رضي عمل قوم کان شریکا في عمله ۔۔۔ جو شخص کسی جماعت یا قوم میں شامل ہو کر ان کا مجمع بڑھائے تو اس کا شمار اسی قوم میں سے ہوگا، جو شخص کسی قوم کے مذہبی شعار پہ راضی ہوگا تو وہ اس میں شریک کار سمجھا جائے گا ‘‘ ۔ (۹/۱۱، الرقم :٢٤٧٣٠)۔
حضرات فقہاء اسلام فرماتے ہیں: ویکفر بخروجه إلی نیروز المجوس ، والموافقة معهم فیما یفعلونه في ذلك الیوم وبشرائه یوم نیروز شیئًا لم یکن یشتریه قبل ذلك تعظیما للنیروز لا للأکل والشرب وبإهدائه ذالك الیوم للمشرکین ولو بیضة تعظیما لذلک الیوم ۔
(مجمع الأنہر ۲/۵۱۳، کتاب السیر والجہاد ، قبیل باب البغاۃ)
برادران وطن کے خالص مذہبی معاملات اور شعار کو اپنانا صریح ” مذہبی اشتراک وتعاون ” ہے ، جس کی قطعی گنجائش نہیں ہے۔شیخ الاسلام حضرت مدنی جیسی عظیم علمی واصلاحی و تجدیدی تاریخ اور اتباع سنت وعشق نبی کے تسلیم شدہ نقوش رکھنے والی نابغہ روزگارہستی کی طرف ایسی باتوں (دیوالی کے موقع سے چراغاں کروانا ) کا انتساب بادی النظر میں ناقابل تسلیم ہے ، اس بابت حضرت مدنی کی دیگر اولاد واحفاد کی طرف سے واقعے کی تصدیق سامنے آئے بغیر اس حیرت انگیز وحیران کن انکشاف کی کوئی وقعت نہیں ، یکسر ناقابل اعتبار واعتناء ہے ، مذہبی رواداری وہم آہنگی بھی تحفظ ودعوت دین کے مقصد سے ہی بطور وسیلہ گوارا کی جاتی ہے ، جہاں موضوع ہی الٹ جائے ، دینی حدود کے ہی قلع قمع ہوجائیں تو پہر ایسی کسی رواداری کا ہمارا مذہب روادار نہیں ہے ۔ اسلام ایک مکمل دین اور مستقل تہذیب ہے۔ اس میں زندگی کے ہر مسئلے کا تشفی بخش حل موجود ہے۔کسی بھی دوسرے مذہب اور تہذیب وتمدن سے کچھ لینے اور خوشہ چینی کی ضرورت نہیں۔ سورہ البقرہ کی آیت نمبر 208 میں مسلمانوں سے جو مطالبہ کیا گیا ہے وہ بہت ہی عام ہے کہ اسلامی عقائد واعمال اور احکام وتعلیمات کی صداقت وحقانیت پہ دل ودماغ بھی مطمئن ہو اور اعضاء وجوارح بھی عملی ثبوت پیش کریں۔
حضرت مولانا سید اسجد مدنی صاحب مدظلہ نہ جانے کن مقاصد کے تحت ایسے لاطائل اور ہیجان انگیز چیزوں کو سامنے لارہے ہیں ؟
خطابات و بیانات کے لئے اور بھی بہتیرے موضوعات پڑے ہوئے ہیں ، غیر مناسب وقت میں ناقابل وثوق واعتبار انکشافات قابل تحسین نہیں ؛ بلکہ قابل مذمت ہے ، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس سرہ کے فرزند ارجمند صاحب واقعہ حضرت الاستاذ مولانا سید ارشد مدنی صاحب مدظلہ ودیگر خانوادہ مدنی کو معاملے کا بروقت نوٹس لیکر یا وضاحت دیکر غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا چاہئے ۔ موہوم مصلحت اندیشی سے حضرت شیخ الاسلام جیسی عظیم علمی وروحانی شخصیت کی شبیہ بھی خراب ہوگی
اور برادران وطن کو گھر واپسی جیسا نیا ہتھ کنڈہ بھی ہاتھ آجائے گا، شیخ الاسلام کی طرف منسوب واقعے کی دو لفظی تردید سے کوئی قیامت نہیں آنے والی ، اندیشہ ہاے دور دراز اور دور از کار تاویلات میں مبتلا ہونے کی بجاے مختصر تردید یا ضاحت سامنے آجائے تو اضطرابات کے زنجیری سلسلے کا خاتمہ ہوجائے ۔
شکیل منصور القاسمی
مركز البحوث الإسلامية العالمي
شعبان ١٥، ١٤٤٣ هجرية

Scroll to Top